قبولیت مشکل ہے لیکن نا ممکن تو نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی میں ایسا وقت آتا ہے، وہ ہمیں جب بتاتا ہے کہ ہر وقت آپ صحیح نہیں ہو سکتے۔ بس یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب انسان کی انا اس کو یہ ماننے سے روکتی ہے، وہ جو کر رہا ہے یا سوچ رہا ہے، وہ درست نہیں ہے۔ انسان اپنی عزت بچانے کے لیے کبھی نہیں مانتا کہ وہ بھی غلط ہو سکتا ہے۔ اور پتا ہے، یہ کیوں ہوتا ہے؟ کیوں کہ ہم جیسے انسان ہی اس کو بتاتے ہیں کہ اپنی کہی بات کو غلط نہ ثابت ہونے دینا، بے شک وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔

اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے، آدمی ایسے ایسے فیصلے کرتا ہے، جو اس کے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ وہ کسی سے مشورہ نہیں لیتا، کیوں کہ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ اس سے بہتر بھی کوئی اور ہو سکتا ہے۔ حالاں کہ وہ دنیا میں اکیلا ہی سمجھدار نہیں ہے، لیکن ہم یہ آسانی سے مانتے نہیں ہیں۔ ہمیں لگتا ہے، ہم نے مان لیا کہ دوسرا صحیح ہے، تو لوگ ہمارے بجائے اس سے مشورہ لینے لگیں گے۔ در اصل ہم دوسروں کو خود سے آگے جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ ہم مان ہی نہیں سکتے کہ ہم بھی کبھی کچھ چیزوں کو ویسے نہیں سوچ سکتے، جیسا دوسرا سوچ سکتا ہے، یا کر سکتا ہے۔

ہم اسی خوف میں رہتے ہیں کہ اگر دوسرے کو مان لیا، تو لوگ ہمارے پاس مشورہ لینے نہیں آئیں گے۔ یہ سوچ، یہ پیچھے رہ جانے کا خوف، یہ انا کا معاملہ، یہ سب باتیں ہمارے چھوٹے ہوتے ہوئے ہی ہمارے دماغ میں ڈال دی جاتی ہیں یا پھر ہم خود ہی لوگوں کو دیکھ دیکھ کر ویسا بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ لوگ صرف انہیں فالو کرتے ہیں، جو اپنی ذات کو لے کر بہت ہی غرور میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کو یہ کہہ کر کہ آج کہ زمانے میں اتنی سادگی کام نہیں آتی، ٹھکرا دیتے ہیں۔ پر ایسا سوچنے والوں کی اپنے ضمیر سے جنگ شروع ہو جاتی ہے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ اگر میں کچھ ایسا بولوں یا کروں، جو اصولاً تو ٹھیک نا ہو، پر مجھے ٹھیک لگ رہا ہو، اور وہ کام میں کر لوں، جب کہ میرا ضمیر بھی مطمئن نہ ہو تو ہو سکتا ہے، کہ میں ان لوگوں کی بات نہ مان کر، جو مجھے سمجھا رہے تھے، اپنی انا بچا لوں۔ پر خود کو اپنے ضمیر کے ہاتھوں پریشان ہونے سے نہیں روک سکوں گی۔ جب تک میں اس غلطی کو مان نہیں لیتی۔ اس کو ایک اور طریقہ سے دیکھتے ہیں کہ میں کسی کو آگے جاتا ہوا، یا کامیاب ہوتا ہوا دیکھتی ہوں، تو میں خود کو اس کو مبارک باد دینے سے گریز کروں گی، یا اس کی حوصلہ افزائی کے بجائے، اس کو اس کی خامیاں بتانا شروع کر دوں گی۔

کیوں؟ کیوں کہ میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ جو انسان ایک وقت میں مجھ سے ہمیشہ کم نمبر لیتا تھا، یا صحیح طرح بول نہیں پاتا تھا، یا اس کے پاس وہ ساری آسائشیں نہیں تھیں، جو میرے پاس ہوا کرتی تھیں، تو وہ آج اس مقام و مرتبہ تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟ وہ کیسے مجھ سے آگے جا سکتا ہے؟ اس طرح نا صرف ہم اپنی اصلیت دوسروں کے سامنے لاتے ہیں، بلکہ اس کے دل میں اپنا مقام بھی گرا لیتے ہیں۔

اگر آپ کچھ غلط کریں، تو وہ غلط نہیں، پر اگر وہی کام کوئی دوسرا کرے تو وہ غلط ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ وہ انسان آپ کو پسند نہیں، یا اس سے اختلافات ہیں۔ ہم ہر بار صحیح نہیں ہو سکتے، یا ہر بار ہمی آگے نہیں رہ سکتے۔ تسلیم کرنا سیکھیں کہ ہم سے بھی بہتر انسان ہو سکتا ہے۔ دوسرا جو بول رہا ہے، وہ ٹھیک بھی ہو سکتا ہے۔ کامیابی دوسروں کے مقدر میں بھی ہو سکتی ہے۔

جب ہم یہ تسلیم کر لیں گے، تو یقین مانیں کہ زندگی پر سکون ہو جائے گی۔ یہ جو خواہ مخواہ کی جنگ شروع کی ہوئی ہے، خود کو اعلی ثابت کرنے کی، یہ ختم ہو جائے گی۔ اصلیت کو برداشت کرنے کی ہمت آ جائے گی اور لوگوں کے نزدیک عزت بڑھے گی۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہو جاتا، بلکہ اللہ یہ موقع بھی بہت کم لوگوں کو دیتا ہے، کہ وقت پر انہیں اپنے غلط ہونے کا احساس ہو جائے اور اگر یہ موقع اس ذات نے آپ کو دیا ہے، تو اس کو ضائع نہ ہونے دیں۔

ایسا کر کے دیکھیں اور آپ اپنے میں ایک اچھا بدلاؤ محسوس کریں گے۔ لوگوں کو appreciate کرنا سیکھیں اور خود کو بہتر بنائیں۔ ہم سب میں کوئی نہ کوئی خامی ہے اور ہمیں اسے دور کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نور امجد کی دیگر تحریریں