چیف ایگزیکٹیو آفیسرز کے راز: برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے دوران کامیاب کاروبار کھولنے والے نوجوان گریجویٹس

ڈگلس شا - سی ای او سیکرٹ پروڈیوسر، بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Snackcess
BBC
اِن تین نوجوانوں نےصحت مند سنیکس کے کاروبار کا آغاز کیا
ہمارے چیف ایگزیکیٹو آفیسرز (سی ای او) کے رازوں کے بارے میں ہماری سیریز، جس میں ہم کاروباری افراد کو اپنی نصیحتیں بتانے کے لیے دعوت دیتے ہیں، اس میں ہم ان کاروباروں پر توجہ دے رہے ہیں جو موجودہ لاک ڈاؤن کے دوران شروع کیے گئے ہیں۔ ہر ہفتے ہم لاک ڈاؤن کے دوران شروع ہونے والے مختلف کاروباروں کا جائزہ لیں گے۔ ہم اس سلسلے کا آغاز ان نوجوانوں سے کر رہے ہیں جنھوں نے حال ہی میں گریجویشن کی ہے۔

طالبِ علمی کے زمانے کے بننے والے دوست جوشوا بارلے، سونی ڈرِنکواٹر اور کائیرن فِٹزجیرالڈ نے یہ محسوس کیا کہ انھیں نوکریاں تلاش کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تینوں کی عمر 25 برس ہے اور انھیں کورونا وائرس کے برے اثرات کا اندازہ مارچ اور اپریل ہی کے مہینوں سے ہو گیا تھا۔

جوشوا اور سونی سکول کے زمانے ہی سے دوست تھے۔ جوشوآ کی کائیرن سے ملاقات یونیورسٹی آف برمنگھم میں ہوئی، اس نے اُسے سونی سے متعارف کرایا جو اس وقت برسٹل یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا۔

اپنی تعلیم کے آخری برس میں انھوں نے اپریل کے دوران ہی دیکھا لیا تھا کہ جاب مارکیٹ سے انٹرنشپ اور نوکریاں تیزی سے غائب ہو رہی ہیں۔ سونی نے بتایا کہ نوکریوں کے لیے انٹرویو کا عمل جلد ہی اپنے انجام تک پہنچ جاتا تھا۔

لہٰذا انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیں، اس لیے انھوں نے اپنی کمپنی بنائی اور اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو یکجا کیا۔ جوشوآ اور سونی دونوں نے غدائیت (نیوٹریشن) کے مضامین پڑھے تھے جبکہ کائیرن نے تعلیم کے آخری برس اپنی تربیت کے لیے ایک گفٹ ایکسچینج کے پراجیکٹ پر کام کیا تھا۔

انھوں نہ اپنے تجربات اور صلاحیتوں کو یکجا کر کے اس رجحان کی جانب دیکھا کہ جو اس وقت زندگی کی ایک حقیقت بنتا جا رہا تھی: یعنی گھروں سے کام کرنا۔

ان تینوں نے ایک کمپنی تشکیل دی جس کا نام ‘سنیک سیس’ رکھا جس کے ذریعے وہ صحت مند سنیکس (یعنی ہلکی پھلکی کھانے کی اشیا) کے تحائف کے ڈبّے مہیا کریں جو کام کرنے والے ملازمین کو ان گھروں پر پوسٹ کیے جا سکیں۔

ان ڈبوں میں مشہور و معروف فوڈ سنیکس بنانے والی کمپنیوں کے کھانے ہوں گے، ایسی انواع جو آپ سٹوروں کے آرگینِک فوڈ کے خانوں میں ملیں گی۔

Snackcess Box

BBC
سنیک سیس ڈبوں میں صحت مند اور معروف کمپنیوں کے سنیکس سپلائی کیے جاتے ہیں

اس ٹیم نے سنیکس بنانے والی کمپنیوں سے براہِ راست مذاکرات کر کے کم قیمتوں پر سنیکس حاصل کرنے کے معاہدے کیے۔

جب جولائی میں انھوں نے اس کام کا آغاز کیا تو اس وقت ان کے پاس صرف پانچ برانڈز تھے۔ یہ تعداد اگست اور ستمبر میں بڑھ کر دس گنا زیادہ ہو گئی اور انھوں نے 800 ڈبے فروخت کرنا شروع کردیے جبکہ ان کے کاروبار کا حجم 9000 پاؤنڈ ہو گیا۔

ابتدا میں انھوں نے سونی کے والدین کے کینٹ شہر کے گھر کے گیراج میں پیکنگ کا کام کرنا شروع کیا۔ اب انھوں نے پہلا ملازم رکھا ہے جس کے عہدے کو ‘چیف پیکر’ کا نام دیا ہے۔

ان کے گاہکوں میں ایچ ایس بی سی، آئیریس اور لولولیمن جیسی بڑی کارپوریشنز بھی ہیں۔

سونی کہتے ہیں کہ ‘میری نصیحت ہے کہ کوئی بھی ایک چھوٹا سا کام ہی سہی اسے روز کریں جو آپ کے کاروبار کے خیال کو حقیقت کے قریب لا سکے، چاہے کسی سے میٹنگ طے کرنا یا کوئی شہ بنانے کی کوشش۔‘

کائیرن کہتے ہیں کہ ’رابطے بنانے سے کبھی نہ گھبرائیں۔ چاہے صرف لنکڈ اِن پر ہی لوگوں کو پیغامات بھیجتے رہیں، اور آپ کو حیرانی ہوگی کہ ان میں سے کون آپ کو کب جواب دے دے۔‘

Josephine Philips

BBC
جوزفین فیلپس جن کی عمر 23 برس ہے، کہتی ہیں کہ وہ خود سے ‘اپنا کاروبار کرنے کے جینز’ رکھتی تھیں

لاک ڈاؤن کے غیر یقینی حالات کے باوجود کئی افراد نے اسے اپنی نئی زندگی کے آغاز کے لیے ایک اچھا موقع بنایا ہے۔

سینٹر آف انٹرپرینیورز کے اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 2019 کے جون کے مہینے کی نسبت سنہ 2020 کے جون کے مہینے میں 50 کے قریب زیادہ کمپنیاں وجود میں آئیں۔ اس طرح کل ملا کر 81 ہزار نئے کاروبار رجسٹر کرانے کا ایک ریکارڈ بنا۔

اس بارے میں کوئی ڈیٹا نہیں ہے کہ ان میں کتنے کاروبار ایسے ہیں جنھیں نئے گریجویٹس نے شروع کیا ہے لیکن ایک اندازے کے لحاظ سے کیونکہ اس وقت نئے گریجویٹس یا اپنی تعلیم کے آخری برس میں زیرِ تعلیم زیادہ تر ایسے افراد ہیں جن کو ملازمتیں ملنے کے امکانات کم ہیں تو ان میں سے کئی افراد نے اپنے کام خود ہی کرنے کا آغاز کیا ہو گا۔

23 سالہ جوزفین کا کہنا ہے کہ ان میں ہمیشہ سے اپنا کاروبار کھولنے کی صلاحیت تھی۔

انھوں نے اپنی اس صلاحیت کا مظاہرہ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کے آغاز سے کیا تھا جب وہ کنگز کالج لندن میں فزکس اور فلسفہ پڑھ رہی تھیں۔ انھوں نے ایک معروف ایپ ‘ڈیپوپ’ پر پرانے کپڑے فروخت کر کے کچھ کمائی کی تھی۔

لیکن جب وہ یہ سب کچھ کرہی تھیں تو ان کے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا کہ وہ فیشن ڈیزائین کا ایک اپنا کاروبار شروع کریں۔ انھیں ‘ڈیلیورو’ جیسی کمپنی بنانے کا خیال آیا، لیکن جس کا کام صرف ‘پرانے کپڑوں کی ترپائی یا اس میں کچھ تبدیلی کرنا ہو۔’ یہ خیال انھیں اپنے ذاتی تجربے کی وجہ سے آیا تھا۔

وہ اکثر اپنی پسند کے کپڑے کسی پرانی دکان میں دیکھتی تھیں، لیکن اس وقت وہ سوچتی تھیں کہ کاش کوئی انھیں دوبارہ سے سی دے یا ان میں تبدیلی کر سکے، یا انھیں زیادہ فیشن ایبل بنا دے، لیکن یہ سب کچھ خود کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی سلائی مشین بھی نہیں ہوتی تھی۔

جب اس برس مارچ میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو انھوں نے اپنے اس خیال کو کچھ عرصے کے لیے ترک کردیا ۔۔۔ لیکن پھر چند دنوں ہی میں ایک اور خیال آیا۔

‘تمام ریستوران بند ہو رہے ہیں، لیکن انھیں زندہ کون رکھے ہوئے ہے، یہ ڈیلیورو ہے۔ میرا جو خیال ہے وہ ترپائی کرنے والوں کو مفت میں آتے جاتے کافی سارے آرڈرز دلوائے گا۔‘

انھوں نے اپنے کاروبار کا نام ‘سوجو’ رکھا اور اس نے سائیکلسٹس کی ایک ٹیم کو ملازم رکھا ہے جو لوگوں کے گھروں سے کپڑے اکھٹے کر کے سلائی ترپائی کرنے والی دکانوں تک ان میں تبدیلی کے لیے پہنچاتے ہیں۔

اس وقت ان کی توجہ صرف لندن کے مغربی علاقے پر ہے۔ اپنے اس آزمائشی سطح کے اعداد و شمار اور سوشل میڈیا پر ملنے والے ردعمل سے جوزفین کا خیال ہے اس کام کی کافی گنجائش بنے گی۔

Before and after

Sojo
ایک پرانی دکان سے خریدی گئی لمبی سکرٹ: تبدیلی سے پہلے اور پھر بعد میں مختصر سکرٹ

جوزفین کہتی ہے کہ اس کام سے جڑے تمام لوگوں سے رابطے قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، کیونکہ لوگ نئی گریجویٹس پر اعمتاد نہیں کرتے ہیں۔

‘مجھے اپنی پہلی ملاقات یاد ہے۔ میں نے باقاعدہ ایک سوٹ پہنا اور فارمل ہو کر ملنے گئی، لیکن ردعمل یہ تھا: آپ کی عمر کتنی ہے؟ تم تو ایک 14 برس کی بچی نظر آتی ہو۔’

اس نے ان کو ایک آزمائیشی پیریڈ کا وعدہ کرکے اور بیس نئے گاہک لاکر اور ان کے لیے سینکڑوں پاؤنڈ کما کر انہیں قائل کیا۔

ان کا کام اس ماہ باقاعدہ طور پر شروع ہو رہا ہے اور جوزفین کہتی ہیں کہ وہ بالکل پریشان نہیں ہیں ‘بلکہ کام بڑھنے کی وجہ سے بہت زیادہ پر امید ہے۔ ‘

پہلے ان کا خیال تھا کہ اسے سائیکلسٹس کو بھرتی کرنے یا شامل کرنے میں کافی مشکل ہو گی، لیکن ابھی سے 20 ملازمتوں کے لیے انھیں 60 درخواستیں مل چکی ہیں۔

وہ نئے ابھرتے ہوئے کاروباری ذہن رکھنے والے نوجوانوں کو مشورہ دیتی ہے کہ ’میری طرح کی ایک نوجوان عورت اعتماد کے ساتھ محنت کر سکتی ہے، لیکن آپ کو اپنی مارکیٹ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنی چاہییں۔

’میں کئی جگہوں پر جاتی ہوں ملاقاتیں کرتی ہوں، آن لائن بھی اور ذاتی طور پر بھی، تاکہ میں اپنے آئیڈیاز پر لوگوں سے بات چیت کروں یا سرمایہ کاروں کو قائل کر سکوں، اس سے مجھے کافی مدد ملتی ہے۔‘

Sehrish Ahmed

Sehrish Ahmed
سحرش احمد نے لاک ڈاؤن کے دوران ایک نئے کاروبار کا آغاز کیا

22 برس کی سحرش احمد کہتی ہیں کہ ‘اگر یہ کاروبار چل پڑا تو میں اپنا سارا وقت اس میں لگا دوں گی۔ میں ہمیشہ سے کسی کاروبار کی مالک بننا چاہتی تھی۔‘

کاروباری ہنر میں گریجویشن کرنے والی یہ خاتون اب جیولری کا ایک آن لائن کاروبار چلا رہی ہیں جس کا نام ‘روز ایکلپس’ رکھا گیا ہے، لیکن یہ ان کا اصل منصوبہ نہیں تھا۔

گلاسگو کی کیلیڈونین یونیورسٹی میں پچھلے تین برسوں میں انٹرنیشنل فیشن برانڈنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران سحرش کا ذہن ایک فیشن کے کپڑوں کی دکان شروع کرنے پر اٹکا ہوا تھا۔

تعلیم کے دوران کچھ کمانے کے لیے اور کچھ تجربہ حاصل کرنے کے لیے اس نے آکسفیم، وکٹوریا سیکریٹ اور مدرکیئر جیسی چند ایک مختلف قسم کی دکانوں پر کام کیا۔ وکٹوریا سیکریٹ میں وہ فیشن شو کے لیے لڑکیوں کو نئے نئے کپڑے بھی پہناتی تھیں۔

لیکن پھر کووِڈ آگیا۔ سحرش کہتی ہے کہ ‘سب سے پہلی بات جو میرے ذہن میں آئی تھی وہ یہ تھی کہ میں نے تو ابھی تک گریجویشن مکمل نہیں کی تھی، میں اس سٹیج پر چل نہیں سکوں گی، میں اس وقت اس طرح کی کامیابی حاصل کرنا چاہتی تھی۔’

پھر اس کے مستقبل کے کیریئر کے رستے اس کے لیے واضح ہونا شروع ہو گئے۔ اس کی گریجویشن کے بعد کی تربیت ملازمت اور انٹرنشپ منسوخ کردی گئیں۔

اس لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی جیولری کی دکان شروع کریں گی جو اس وقت صرف ایک خواب تھا۔

جیولری کے مختلف نمونوں کو دیکھنے کے بعد انھوں نے چین سے اپنا مال منگوانا شروع کیا، جو انھیں گلاسگو میں مل جاتا ہے۔

Jewellery

Rose Eclipse
جیولری کو چین سے منگوایا درآمد کیا جاتا اور پھر اسے آن لائین فروخت کیا جاتا ہے

سحرش کہتی ہے کہ میرے جیسے حالات سے گزرنے والوں کے لیے میرا مشورہ ہے کہ ‘زیادہ تر نئے گریجویٹس کی نسل 21ویں صدی میں پیدا ہوئی ہے، ہم سوشل میڈیا سے مکمل طور پر آگاہ ہیں کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے اور ہمیں اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

اس کی فروخت کا انھیں ان کے انسٹاگرام اور ٹِک ٹاک کے اکاؤنٹس سے فائدہ ہوا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے ان پلیٹ فارمز کے بارے میں اپنے علم سے استفادہ کرتی ہیں اور وہ نِت نئے ڈیزان بنا کر پوسٹ کرتی ہیں۔

سحرش کہتی ہیں کہ ‘جس بات نے مجھے حیران کیا وہ یہ کہ جب میں نے اپنا کام شروع کیا تھا تو میں ان لوگوں کو اپنا سامان فروخت کرتی تھی جو میرے دوست یا خاندان کے افراد نہیں تھے۔’

اب وہ ہر مہینے درجنوں اشیا فروخت کرتی ہے — جو اس کےگزارے کے لیے کافی نہیں ہے، لیکن وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیا اس کا یہ کام ایک جز وقتی سرگرمی سے زیادہ بڑھ سکتا ہے، یہ وہ امکان ہے جس کے بارے میں اس نے پہلے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا تھا۔

کورونا وائرس نے کئی گریجویٹس کے مستقبل کے منصوبوں کو خراب کردیا ہے۔ اپنے کاروبار شروع کرنے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے حالات کو پھر سے اپنے قابو میں کر لیا ہے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16003 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp