قبائے برہنگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قصرِ اِستِبداد سے آ جاتے ہیں
جو رحم و دَیا کے بادل
تو ہم مفلسوں کی فصل بھی ہری ہوتی ہے
سنبھل جاتی ہے کچھ دیر کو نبضِ ہستی
اور بجھتی ہے اسی طور ذرا پیٹ کی آگ

پر ہمیشہ تو نہیں آتے یہ دَیا کے بادل
اکثر تو بیگار کے فرماں آتے ہیں
اور میرے قبیلے کے نحیف و نزار بدن
اسی فرماں سے بندھے سوئے قَصر جاتے ہیں

مل جائے اگر اہلِ قصر سے دو گز پوشاک
عریاں بدن بستی میں گویا ہو جاتی ہے عید کی رات
ملے نہ ملے ،سنتِ اسلاف میں راضی برضا رہتے ہیں
اور پہن کر اپنی قبائے برہنگی بیگار کو نکل جاتے ہیں

لڑ جو پڑتے ہیں کبھی اہلِ قصر آپس میں
سہم سے جاتے ہیں میری بستی کے درماندہ مکیں
اور پھر سنتے ہیں بستی میں وہی نالہ ناقوس سبھی
وہی جرسِ حبِ وطن کا مانوس سا غوغا
جان لیتے ہیں کہ پھر جھگڑا ہے کہیں
کوئی مالِ غنیمت پہ اشراف کے ہاں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •