عمران فاروق، سلیم شہزاد اور دیگر کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ قبل ٹی وی پر عمران فاروق کی بیوہ اور دو بچوں کی تصویر دیکھی۔ خبر تھی کہ وہ لندن میں بے حد کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تصویر سے بھی کسمپرسی واضح تھی۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کا خاندان ہے، جو ایک زمانے میں شہری سندھ کے اہم ترین اشخاص میں سے ایک تھا۔ ایک ایسا شخص جس کے جنازے میں بلا مبالغہ لاکھ لوگ تو شریک ہوئے ہی ہوں گے۔ اس شخص کا خاندان اب بے یار و مدد گار ہے۔ وہ لوگ تو خیر سے برطانیہ میں ہیں۔ کراچی میں ہوتے تو اس سے بھی ابتر حالت ہوتی۔

یادش بخیر! یہ وہی عمران فاروق ہیں، جن کے قتل کا ایک دنیا سے نرالا مقدمہ پاکستان میں بھی چل رہا ہے۔ عجب بات ہے کہ قتل لندن میں ہوتا ہے اور مقدمہ پاکستان میں بھی درج ہوتا ہے۔ پھر اس قتل کی تحقیقات کے بہانے درجن بھر مرتبہ سرکاری اہلکاروں کی ٹیم لندن کی سیر کرنے جا چکی ہے۔ خیر چھوڑیے، اس موضوع پر بات کرنے سے ہمارے پر جلتے ہیں۔

ماضی میں ایک صاحب سلیم شہزاد نام کے ایم کیو ایم میں بڑی اہم شخصیت ہوا کرتے تھے۔ مجھے 2017ء میں محترم سے بڑا تفصیلی طور پر شرف ملاقات حاصل رہا۔ مرحوم جب کراچی تشریف لائے تھے تو نجانے کس خیال میں تھے۔ مگر کراچی آتے ہی جیل یاترا کرنا پڑی۔ جون 2017ء میں جیل سے رہا ہوئے اور شہر میں تھوڑا گھوم کر ہی اندازہ ہو گیا کہ اب ان کی دال گلنے والی نہیں۔ کافی بیمار تھے، واپس لندن چلے گئے اور وہیں سے راہی ملک عدم ہوئے۔ ان کو اپنی زندگی کے آخری ایام ہی میں احساس ہو گیا تھا کہ ان کا زمانہ اب چلا گیا۔ اب وقت بدل گیا۔ مرحوم جب سینٹرل جیل کراچی میں وارد ہوئے اور ان کو اپنے خیال میں اپنے حساب سے پروٹوکول نہ ملا، تو بھی کافی مایوس ہوئے۔

اسی نوع کا ایک تجربہ، اب فاروق ستار صاحب بھی ہیں۔ آپ ایک فارغ انسان ہیں، جو کیمرا دیکھتے ہی اس کے سامنے دوڑتے ہیں۔ مصطفی کمال صاحب کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ ان کی صورت حال اس سے بہت بہتر ہو سکتی تھی، اگر کچھ ”خاص“ لوگوں کی طرف سے سارے سندھ میں 6 قومی اسمبلی کی سیٹوں کی آفر قبول کر لیتے۔ آپ اڑ گئے کہ ”دینا ہے تو پورا شہر دو۔ ویسے ہم تو خود ہی کراچی میں کلین سویپ کر لیں گے۔“ ”خاص“ لوگ یہ دعویٰ سن کر مسکرائے اور یہی 6 سیٹوں والی آفر خالد مقبول صدیقی کو کر دی۔ وہ تو ایک سیٹ کے لئے بھی تیار تھے۔ ان حالات میں 6 سیٹیں تو ان کے لئے سمجھ لیجیے جنت ہی کے مترادف تھیں۔

یہ ان لوگوں کا حال ہے جو کل شہری سندھ کی واحد سیاسی برانڈ کے مالک تھے۔ جن کا خوف ہر جگہ محسوس کیا جاتا تھا اور جن کے انتخابی نشان سے کھمبا بھی کھڑا ہو تو جیت جاتا تھا۔ یہ وہ جماعت تھی کہ جس کو ایک دور میں ذرائع ابلاغ پر کچھ ایسا پروٹوکول ملتا تھا کہ لگتا تھا، ملک میں جماعت تو محض ایک ہی ہے۔

ایک دور میں الطاف حسین کی پریس کانفرنس، خبروں کے تمام چینلوں پر لندن سے براہ راست چلا کرتی تھیں۔ ان کے بیانات ہر بڑے اخبار کے صفحہ اول پر شہ سرخی بنتی تھی۔ تب یہ تمام افراد الطاف حسین کا نام کسی مقدس ہستی کی طرح لیا کرتے تھے۔ اب ان کا نام ممنوع ہے اور یہ تمام ہی افراد عبرت کے نشانات ہیں۔ کسی کو صحیح سے یاد بھی نہیں کہ یہ افراد کون تھے۔ ان کا یہ شہرہ کیوں تھا اور یہ تمام لوگ کیسے جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ عمران فاروق کا نام ایک عرصے تک الطاف حسین کے لندن میں زوال کے نشان کے طور پر لیا جاتا رہا، مگر جب 2016ء میں لندن اور کراچی کے درمیان ٹیلی فون کا تار ٹوٹا، تو عمران فاروق کے قتل کیس کا ڈھول بجانے کی ضرورت بھی ختم ہو گئی۔ اب اس واقعے کے واحد حقیقی متاثرین، یعنی عمران فاروق کی بیوہ اور بچے لندن میں افلاس کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •