ڈاک کا عالمی دن اور پاکستان پوسٹ کی حالت زار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

9 اکتوبر کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ڈاک کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ڈاک کے عالمی دن کو یونیورسل پوسٹل یونین کے 192 ممالک میں منایا جاتا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد ڈاک کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور پیغام رسانی میں معاون ڈاک عملے کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ ڈاک کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں نئے ڈاک ٹکٹ کا اجراء کیا جاتا ہے۔ مواصلاتی نظام کا اہم جز ڈاک پاکستان میں آج کل اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ارتقائی سفر میں پاکستان پوسٹ جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث صرف سرکاری اداروں کی ڈاک کی ترسیل تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

ڈاک کی تاریخ پیام رسانی کے طویل سفر پر مبنی ہے۔ کں وتر کو دنیا کا پہلا پیغام رساں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ پروں سے لکھی گئی چٹھیاں کبوتر نے نہ صرف محبوب تک بلکہ تربیت یافتہ کبوتروں نے سرحد پار اور میدان جنگ میں بھی پیغام رسانی کا فریضہ سر انجام دیا۔ پہیے کی ایجاد سے پہلے گھوڑے اور اونٹ پر سرکاری ڈاکیے ایک مقام سے دوسرے مقام تک ڈاک پہنچانے کا کام کرتے تھے۔ شیر شاہ سوری نے 16 ویں صدی کے وسط میں سرکاری طور پر گھوڑ سوار ہرکاروں کے ذریعے پیغام رسانی کا نظام متعارف کرایا۔ اور مخصوص فاصلوں پر پوائنٹس یا پوسٹ آفس بنائے گئے جہاں سے تازہ دم گھوڑے اگلے پوائنٹ تک ڈاک پہنچاتے تھے۔ برصغیر میں ڈاک کا باقاعدہ نظام 1898 میں رائج کیا گیا۔

پھر زمانے نے کروٹ بدلی اور لمبے عرصے تک خاکی وردی اور سر پر پگڑی پہنے سائیکل پر سوار گھنٹی بجاتے ڈاکئے نے خوشی کے پیغام اور غم کے سندیس شہر شہر گاؤں گاؤں پہنچائے۔ ڈاکیے کو اس دور میں ہر طبقے میں ایک خاص مقام حاصل تھا کیونکہ زیادہ تر خط لکھنے اور پڑھنے کا کام ڈاکیا ہی کرتا تھا اور ہر گھر کی عام و خاص اور راز و نیاز کی باتوں سے بھی واقف ہوتا تھا۔ خوشی کی خبر پر مٹھائی کے بغیر چٹھی مالک کے حوالے کرنا روایت کے خلاف تھا۔

مگر وائر لیس، ٹیلیفون، فیکس انٹرنیٹ، ای میل اور اب انقلابی سمارٹ فون پر مبنی ٹیکنالوجی کی ترقی کی تیز رفتار نے روایتی خط و کتابت کی ڈاک اور ڈاکیے کو تاریخ کے اوراق میں گم کر دیا۔

پاکستان پوسٹ کی افادیت اور اہمیت ماند پڑنے سے کئی علاقوں کے ڈاکخانے اب محکمہ جنگلات کے آفس کامنظر پیش کرتے ہیں۔ یہاں اکا دکا شہری یا تو بجلی گیس کے بل کی ادائیگی کے لئے صرف اس لئے رخ کرتے ہیں کہ رش نہ ہونے کے باعث لائن میں نہیں لگنا پڑتا یا پھر کوئی بھولا بھٹکا طالب علم اپنی تعلیمی اسناد یا رول نمبر سلپ وقت پر نہ پہنچنے کا رونا روتا نظر آتا ہے۔ آج اپنے شہر کے ڈاکخانے جانا ہوا تو ڈاک کے عالمی دن سے بے خبر پوسٹ ماسٹر، پوسٹ کلرک اور پوسٹ مین پر مشتمل ڈاک خانے کا مختصر عملہ اپنے کام میں مگن تھا۔

پوسٹ مین نے حکومت کے پاکستان پوسٹ کو ترقی پر گامزن کرنے کے دعوؤں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاک کی آمد کا کوئی متعین وقت نہیں صبح کے وقت آنے والی ڈاک اکثر دوپہر یا سہ پہر کو پہنچتی ہے۔ ڈاک کھولنے اور چھانٹی کرنے میں دن گزر جاتا ہے اور اس طرح ڈاک اگلے روز اپنے مقام پر پہنچتی ہے۔ اس کے علاوہ سہولیات کا فقدان ہے۔ ڈاکیوں نے سائیکل سے موٹرسائیکل تک کی ترقی تو کرلی مگر پٹرول اپنی جیب سے ڈلوانا پڑتا ہے۔ ان سب باتوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت ”پاکستان پوسٹ“ کی بہتری کے لیے کس حد تک سنجیدہ ہے۔ پرائیویٹ کوریئر کمپنیوں کو لائسنس دے کر اس محکمے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے

وزارت مواصلات کا ادارہ پاکستان پوسٹ ملک کا ایک منافع بخش ادارہ رہا ہے جو کاغذوں کے عوض پاکستان کو اچھا خاصا زر مبادلہ کما کر دیتا تھا۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں پرائیویٹ کمپنیوں کے مقابلے میں حکومت کی عدم توجہی، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ نہ کرنے اور جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث مسلسل خسارے میں جا رہا ہے۔

اگر حکومت وقت ”پاکستان پوسٹ“ کو سست ڈاک اور روایتی منی آرڈر سے ہٹ کر پرائیویٹ کمپنیوں کے مقابلے میں ڈیجیٹل ایپسس اور جدید ٹیکنالوجی سے مزین سستی اور آسان سہولیات فراہم کرے تو یہ ادارہ دوبارہ عوام کا اعتماد اور اپنی کھوئی ہوئی اہمیت حاصل کر کے ایک منافع بخش۔ ادارہ بن سکتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •