عدم برداشت: معاشرے کا ایک بنیادی مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ دور میں، اخلاقی اقدار بالکل خاتمے کی طرف جا رہی ہیں اور ہمارے عدم برداشت کا عنصر روز بروز عیاں ہوتا جا رہا ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں، اگر چہ انسان نے اپنے جسم و جان کی خواہشات و مطالبات کی تکمیل کا سارا سامان مہیا کر لیا ہے۔ یہاں تک کے ارض و سماں کو مسخر کر لیا ہے، ستاروں پر کمندیں ڈال دی ہیں، لیکن انسان اپنی بے حمیت پر قابو نہیں پا سکا۔ ہمارے سماجی رویے ہمارے لیے وبال جان بن چکے ہیں۔ رواداری، اخلاص، برداشت، صبر، مساوات، عفو و در گزر اور عدل و انصاف جیسی صفات جو معاشرے کی فلاح اور خیر کی ضامن ہیں، بالکل ہی ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ اقوام ہوں یا افراد طاقت بنیادی اصول بن چکا ہے۔ کمزوروں کے خلاف طاقت کی وہی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو کبھی جاہلیت کا طرہ امتیاز تھی۔ انسانی معاشروں میں عدم برداشت کا رجحان فروغ پا رہا ہے، جو ہمارے سماجی مسائل کا ایک بنیادی سبب ہے۔

برداشت سے انسان کے اندر قوت پیدا ہوتی ہے، جس کے سبب وہ جوش، اشتعال اور انتقام کے جذبے کے با وجود عفو و در گزر سے کام لیتا ہے اور اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے۔ جب کہ عدم برداشت ایک منفی سوچ اور رویہ ہے جس کے باعث ہم کسی کی سوچ، رائے یا نقطۂ نظر سے متفق نہیں ہوتے اور فکر و نظر کے اس اختلاف کو برداشت نہیں کر پاتے اور آگے سے نا مناسب رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ عفو و در گزر سے کام لینا کمزوری یا بزدلی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے رحمت کا اظہار ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے محبوب بندوں کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے : ”اور وہ اپنے غصے کو ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔“ (القرآن)

معاشرے میں جہاں بھی نگاہ دوڑائیں ہر فرد خود غرضی اور نفسا نفسی میں مبتلا نظر آتا ہے۔ یہ خود غرضی اور نفسا نفسی معاشرے کی اجتماعی روح کے خلاف ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ لگتا ہے قوت برداشت اور رواداری جیسی اعلیٰ صفات معاشرے سے کھو چکی ہیں۔ عدم برداشت ہمارے معاشرے کے بیش تر مسائل کی جڑ ہے۔ آج اگر کوئی ہمیں ایک بات سناتا ہے، تو ہم اسے جواب میں چار باتیں سناتے ہیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دینے کو ہم اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ذرا سی بات پر ہوش و حواس سے بے گانہ ہو کر، مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔

معاشرے میں نمود و نمائش، رشوت خوری، سفارش اور نشہ آور اشیا کا کھلے عام استعمال اور ایسے دوسرے کئی پہلو اس بات کی دلیل ہیں کہ ہماری اخلاقی اور سماجی اقدار نا صرف بدل گئی ہیں، بلکہ مذہبی اقدار کا بھی دیوالیہ نکل چکا ہے۔ ماضی قریب میں جو باتیں ہنسی مذاق میں اڑائی جاتی تھیں، آج دلوں کو تکلیف دینے کا سبب بن رہی ہیں۔

سڑکوں میں ٹریفک سے لے کر اسپتالوں میں مریضوں کی صورت احوال تک ہر جگہ نفسا نفسی کا عالم نظر آ تا ہے۔ ٹریفک سگنل پر کھڑا ہر شخص دوسرے سے جلدی میں دکھائی دیتا ہے اور اس کوشش میں ہوتا ہے کہ کب سگنل کھلے اور سب پہلے نکل جائے۔ اس کو کسی دوسرے بھائی کی کسی مجبوری کی پروا نہیں ہوتی۔ بد قسمتی سے، ہمارا چال چلن سب کچھ بالکل بدل چکا ہے اور بات کو ختم کرنے کے بجائے بڑھا دیا جاتا ہے۔ معافی مانگنے اور معاف کرنے کے بجائے بدلے کو ترجیح دی جاتی ہے، جو ہمارے معاشرے میں نت نئے مسائل اور لڑائی جھگڑے پیدا کرتا ہے۔

انسان کی اصل طاقت کا اندازہ اس کی قوت برداشت ہی سے ہوتا ہے۔ جس شخص میں تکالیف اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، وہ دنیا میں بڑی قوت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ تا ہے۔ کسی بھی شخص کی بلندی اور کامیابی کا راز یہ ہے کا انتہائی جذباتی موقع پر عقل و دانش سے فیصلہ کرے۔ اگر صبر و ضبط سے کام نہ لیا جائے، تو زندگی گزارنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

بلاشبہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا حل نہیں۔ اس لحاظ سے عدم برداشت کے رجحان پر بھی قابو پانا ممکن ہے۔ لیکن یہ کسی ایک فرد کے کرنے سے نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں شاید سنہرا ماضی لوٹ آئے۔ جب سماجی اقدار کا بہت خیال رکھا جاتا تھا اور لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے اور ایک دوسرے کا خیال رکھا جاتا تھا۔ لڑائی جھگڑوں کا تو تصور ہی نہ تھا۔ اس لیے اس سنہری دور کی واپسی کے لیے ہم سب کو اجتماعی طور پر مل کر برداشت کا مادہ پیدا کر لیں، تو صورت احوال بہتر ہو سکتی ہے اور کئی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ لہذا اخلاقی اقدار کو فروغ دیا جائے اور عدم برداشت کو ترک کر کے ایک دوسرے کا احترام کیا جائے اور انسانیت کا اور ہم دردی کا درس دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
راجہ حمزہ یاسین کی دیگر تحریریں