بدلتا وقت اور آج کا استاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اساتذہ کی قابلیت، ان کی مہارت و علم پر شکایت کرنے سے پہلے ان کو دی گئی، تربیت، مراعات اور ان کی زندگی کے دیگر مسائل کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک غریب استاد، بچوں کو غریب زندگی کے تجربے بتائے گا۔ اس کی زیادہ تر گفتگو اور انہی موضوعات پر ہو گی، جن سے وہ روز نپٹتا ہے۔ ایک خوش حال اور صحت مند استاد، بچوں کے ذہن میں اسی طرح کی زندگی کے امکانات بٹھائے گا اور ان پہلووں پر بحث کرے گا، جو وہ خود جی رہا ہے۔

آج معاشرہ، ٹیکنالوجی اور جدیدیت میں مکمل طور پر جکڑ چکا ہے۔ استاد کے لئے اپنی عزت و تکریم والی جگہ بچائے رکھنا، روز ایک نیا چلینج ہے۔ بچے چوں کہ جلدی سیکھتے ہیں اور اسکول کے باہر بھی سیکھتے ہیں، تو ان معلومات کی بنیاد پر استاد کے لئے ایک چیلنج ثابت ہوتے ہیں۔ اب شاید شروع والی کلاسوں میں تو استاد، ایک استاد ہی رہتا ہے، جہاں بچوں کی بالکل نئی چیزوں سے روشناس کرتا ہے، لیکن اس کے بعد استاد ایک سہولت کار تو بن سکتا ہے، لیکن روایتی استاد والی شخصیت کے ساتھ چلنا بڑا چیلنج ثابت ہوتا ہے۔

ایک دفعہ جب بچہ بنیادی خاکے سمجھ جاتا ہے، تو وہ نقطے سے نقطے ملانا سیکھ جاتا ہے۔ اپنا سفر خود طے کرتا ہے اور اس سفر میں استاد اس کے لئے صرف آسانیاں پیدا کر سکتا ہے۔ سوال پیدا کر کے اس کو سیکھنے کی مزید جستجو میں داخل کر سکتا ہے۔ ایک مخصوص پیرائے میں اس کے علم کے بڑھانے کے لئے اسے ایک گائیڈ لائن دے سکتا ہے، لیکن سیکھنا شاگرد کا اپنا ہنر ہوتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک ٹرینگ کے دوران میں ایک سینئر استاد نے بہت جذباتی تقریر کی، جس کا لب لباب یہ تھا کہ پچھلے ادوار میں ہم اپنے اساتذہ کی بہت عزت کرتے تھے، وہ جس رستے سے آتے ہم وہاں سے مڑ جاتے، وہ جہاں بیٹھتے، ہم وہاں کھڑے ہو جاتے، استاد باپ کی جگہ ہے، وغیرہ۔ لیکن اب اساتذہ کی وہ عزت نہیں رہی۔ استاد شاگرد ایک جیسے ہو گئے ہیں۔ کوئی تمیز نہیں رہی۔

میں یہ ساری گفتگو احسن طریقے سے سنتا رہا اور آخر میں سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے، اساتذہ سے بھرے ہال میں کچھ سوال سامنے رکھے کہ جب آپ چھوٹے تھے تو آپ کے لئے خبروں کا ذریعہ کیا یا کون ہوتا تھا۔ بہت سوں نے جواب دیا کہ ریڈیو یا پھر استاد۔ میں نے پوچھا کہ جب کسی نئے بین الاقوامی واقعے کی خبر آتی تھی، سب سے زیادہ معلومات کس کے پاس ہوتی تھیں؟ سب نے کہا، استاد۔ جب کوئی مرض پھوٹتا تو محکمہ صحت والے کن کو تربیت دیتے تھے؟ جواب آیا، استادوں کو۔ الغرض، بہت سی معلومات اور مدد کا واحد ذریعہ پچھلے وقتوں میں استاد ہوا کرتا تھا۔

اب حالات بدل گئے ہیں، اب یہ ضروریات پوری کرنے کے لئے اور معلومات کی فراہمی کے لئے پورا ایک نیا سٹرکچر کھڑا ہو گیا ہے، جس میں ٹیکنالوجی سب سے بڑا پارٹنر ہے۔ اب گاؤں میں بیٹھا شاگرد دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے استاد سے سیکھ سکتا ہے۔ اس کی ضروریات اور ترجیحات بدل گئی ہیں۔ اس لئے وہ دن گئے، کسی ایک ذریعے سے اپنی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اب چوں کہ ضروریات پوری کرنے لئے نئے ذرائع آ گئے ہیں، اس لئے پرانے ذرائع وہ مطلوبہ اہمیت نہ وصول کر پائیں۔

اب اساتذہ کے لئے ان بدلتے وقتوں کے ساتھ یہ نہایت ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپ ڈیٹ رکھیں۔ ایک ماڈرن جنریشن کے ساتھ چلنے کے لئے جدید معلومات چاہیے اور طریقہ تدریسی چاہیے، جو ان کے دماغ میں جلدی ہی جا سکے اور ساتھ ساتھ طلبا کے ساتھ اس طرح کا ماحول رکھا جائے کہ وہ سیکھنے کو پر لطف سمجھیں، نا کہ بوجھ۔ چوں کہ ان کے پاس ایسے بہت سارے ٹول آ گئے ہیں، جو ان کے شوق یا توجہ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

ان تمام چیلنجز کے باوجود ہمارے اساتذہ قابل تعریف ہیں، جو ایک بچے کو ایک اچھا انسان بنانے کے لئے اپنی محنت لگن سے جدوجہد کرتے ہیں۔ یقینی طور پر وہ اساتذہ قابل قدر ہیں، جو اپنے شاگردوں کے بہتر مستقبل کے لئے ان کو سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی ہمت دیتے ہیں۔ میرا سلام، ان تمام اساتذہ کو جو پڑھانے کو نوکری سے زیادہ ایک مشن کے طور پر سمجھتے ہیں۔ اور اپنے شاگردوں کو انسپائر کرتے ہیں کہ وہ ایک بہتر دنیا کو ممکن بنا سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
قیصر رونجھا کی دیگر تحریریں