زندگی کے نام۔۔۔۔ آج کے نام


   ڈیئر زندگی!\"nibras01\"

 معمولات نے کبھی فرصت ہی نہ دی تم سے بات کرنے کی۔ اور یوں بھی ساتھ رہنے کی عادت کب غفلت بن جاتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ آج سوچا ۔۔۔ تم پر بہت سوچا۔ تمہارے کتنے ہی روپ اور رنگ پلک جھپکتے آنکھوں سے گزر گئے۔

 مجھ جیسے کئی ایسے ہیں جو تمہیں جاننے کی جستجو رکھتے ہیں۔۔۔ تم سانس ہو، نہ وقت ہو، دھڑکن ہونہ عمر کی حد۔۔۔ تم کہ نہ دن ہو، نہ رات، نہ صدی ، نہ سال۔۔۔ کچھ اس سے سوا ہو جسے انسان جیتے جی کبھی کبھی محسوس کر پاتا ہے پر اکثر کہ نہیں پاتا۔ اور جینا بھی کیا؟ نہ آدمی کا جینا تم سے مشروط ہے ، نہ مر جانے سے کبھی تم فنا ہوتی ہو۔ تبھی تو کئی مر کے بھی زندہ رہتے ہیں اور بہت سے یوں جیتے ہیں گویا کہ زندگی سے عاری ’ کھوکھلے وجود ‘ بزبانِ ایلیٹ ۔

جب بھی کسی تخلیقی نوجوان کی آنکھوں میں کامیابی کی چمک دیکھتی ہوں جو کہ جی اٹھتا ہے اپنی محنت پر تایئد کی سند پا کر، تو لگتا ہے جہاں خواب ہے، امید ہے ، \"arifa-karim_400\"وہیں زندگی ہے۔۔۔ تبھی تو عارفہ کریم کی آنکھیں نہیں بجھتیں۔ تبھی تو پشاور کے شہید طلباء کی موہنی صورتیں اور مسکراہٹیں آج بھی زندہ لگتی ہیں ۔ وہ لڑکی بھی تو جینا چاہتی تھی، پڑھنا چاہتی تھی جو میرٹ کی بیڑیاں پہن کروالدین کے سپنوں کی اسیر ہونے سے گھبرا گئی۔ اسے ساری دنیا نے پنکھے سے لٹک کر مرتے دیکھا تو     ibras suhailسوچتی ہوں کہ وہ ادھورے خواب اور وہ امنگ جو جی نہ پائی دراصل وہ زندگی تھی ۔۔۔تم تو جذبہ ہو، امنگ ہو، منزل ہو، عزم ہو۔۔۔ تبھی تو سقراط اور رومی کی صدائیں بھی نہیں مرتیں۔

 پر کبھی تو انسان جیتے جی بھی تمہیں ہار دیتا ہے زندگی! وہ جو یوتھنیزیا کو راہِ نجات سمجھ لیتے ہیں دراصل وہ زندگی کے خواہاں ہی تو تھے ۔ پر اختیار چھن جائے تو سانسیں بوجھ بن جاتی ہیں سو تم سے فرار کا شاید یہی رستہ دکھتا ہے انھیں۔۔۔ تم کبھی درد ہو، اذیت ہو، کبھی آسودگی اور راحت ہو۔۔۔ وہ بھی شکست خوردہ ہیں تمہارے ہاتھوں جو خودکش لباس پہنے انجانی جنت کے حصول کو نکلتے ہیں پر۔۔ ۔ تم نہ مذہب ہو، نہ کرینہ ، بندش ، نہ دھرم ہو۔۔۔ جب فیس بُک پہ سکرول کرتے ہوئے ،کسی فرنگی فوٹوگرافر کے نائیس کلکس دیکھتی ہوں۔۔۔ چہروں پہ کالے داغ لئے، اُجڑے مکانوں ، گمگشتہ مکینوں،اور مسخ گھروندوں کے بیچ کھڑے شامی بچے ۔۔۔ تو رُک \"peshawar\"جاتی ہوں ۔ ان بچوں کی آنکھوں میں سوال بن کر تم مجھ سے بات کرتی ہو۔ ان سوالوں میں درد، جدائی ، بھوک، اور بے بسی کے اتنے الجھاﺅ ہوتے ہیں کہ جن کے جواب مجھ جیسے کسی مفلس العقل کے پاس نہیں ۔ مجھے اولڈ ایج ہاﺅس میں بیٹھی ماں کے سوال بھی پریشان کرتے ہیں جو خود اپنے ہی سوالوں کے جواب جاننا نہیں چاہتی۔ ۔۔تم بے بسی ہو، مات ہو، یا خواب کی شکستگی؟۔۔۔۔کبھی سوال ہو، کبھی خامشی، کبھی لاجواب افسردگی۔۔۔

  میں نے کئی بار اپنی آنکھیں زور سے بھینچ کر کوشش کی کہ ادراک کر سکوں اُن گہرے اندھیروں کا جو ہیلن کیلر کی آنکھوں میں تاعمر بسے رہے پر وہ قدرت کے رنگ اور زندگی کا حسن دیکھتی رہی، اپنی انگلیوں سے پھولوں کو چھو کر، پتوں کی رگوں میں دوڑتے پانی کو محسوس کر \"syria\"کے۔۔۔وہ جو ازل سے ہی سماعت سے محروم تھی، وہ درخت کے تنے کو چھو کر شاخ پہ بئٹھے پرندوں کے نغمے کیسے سنا کرتی تھی۔ تو سوچتی ہوں کہ تم وہ نہیں زندگی جو ہم تمہیں سمجھتے ہیں ۔ تم تو حسیات کے حصار سے آزاد ہو۔۔۔

تم خواب نہیں، دھوکہ نہ سراب نہ اشارہ ہو۔۔

 تم ہوشربا طلسم ہو، کرامت کا استعارہ ہو۔

تم چاہت ہو، ایمان ہو، محبت ہو، پہچان ہو۔\"the-hollow-men\"

تم وجد ہو، تم وصل ہو، تم عشق ہو، نروان ہو۔

تمہیں کھوجنے لگوں تو جانے کہاں تک نکل جاﺅں۔ ڈیئر زندگی ، تم جس روپ میں بھی ہو بس مہربان ہو جاﺅ !

Facebook Comments HS