افغانستان: کیا خواتین کے خلاف سنگین جرائم کو طالبان کے خلاف ’پروپیگنڈا‘ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Khatira during an interview with the BBC
BBC
خطیرہ پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ بطور پولیس اہلکار افغانستان کے شہر غزنی میں اپنی ڈیوٹی ختم کر کے واپس جا رہی تھی
افغانستان میں ایک خاتون پولیس اہلکار کے طور پر خطیرہ جانتی تھیں کہ انھیں خطرے کا سامنا ہے۔ اپنے ملک کی حفاظت کرنے کے لیے انھوں نے ایک بھاری قیمت چکائی ہے اور یہ سب کچھ اچانک ہوا تھا۔

وہ افغانستان کے شہر غزنی میں بطور خاتون پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی ختم کر کے واپس گھر جا رہی تھی کہ دو موٹر سائیکل سواروں اور ایک پیدل شخص نے ان پر حملہ کیا تھا۔

خطیرہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پیدل چلنے والے شخص نے چیخ کر کہا تھا اسے گولی مار دو، میں انھیں نہیں جانتی تھی، انھوں نے میرے گھر کے قریب حملہ کیا تھا۔‘

انھیں ٹھوکریں مار کر منھ کے بل زمین پر گرا دیا گیا تھا، جب ہسپتال میں انھیں ہوش آیا تو ان کی آنکھوں پر خنجر کے حملے کے زخم تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے درد ہو رہا تھا اور میں کچھ دیکھ نہیں پا رہی تھی، ڈاکٹروں نے بتایا کہ میری آنکھیں زخمی ہیں، میں انھیں کھول نہیں سکتی تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

افغانستان میں امن کی قیمت کیا خواتین کو ادا کرنی پڑ رہی ہے؟

نام بتانے پر عورت کی پٹائی کیوں؟

افغان خواتین خودکشی کیوں کر رہی ہیں؟

انھیں ایک ماہ بعد دوبارہ آنکھوں کے معائنے کے لیے آنے کا کہا گیا تھا۔ جب انھوں نے معائنہ کروایا تو انھیں احساس ہوا کہ اب ان کی بینائی نہیں رہی ہے۔

’پروپیگنڈا وار‘

Female officers in Afghanistan

Afghan Ministry of Interior
خطیرہ حملے سے چند ماہ قبل ہی افغان پولیس میں بطور خاتون اہلکار بھرتی ہوئی تھیں

یہ ہولناک حملہ چار ماہ قبل ہوا تھا لیکن افغانستان حکومت کی اس جرم پر توجہ اب ہوئی ہے۔

افغانستان کے وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے چھ اکتوبر کو خطیرہ سے ملاقات کرتے ہوئے انھیں علاج میں مکمل مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ انھیں ایک گھر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے طالبان پر اس حملے کا الزام عائد کیا ہے، انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’طالبان طاقت کے زور پر اس قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔‘

طالبان نے اس حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اس حملے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

بی بی سی افغان سروس کی مدیر مینا بکتاش کا کہنا ہے کہ روایات اور جدت کی کشمکش میں پھنسے افغانستان جیسے ملک کے لیے ایسے تنازعات سیاست سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

https://twitter.com/andarabi/status/1313547241563586565

ان کا کہنا ہے کہ ’افغان حکومت نے طالبان پر الزام عائد کیا، طالبان نے الزام رد کر دیا، اس دوران کسی نے زحمی کے بارے میں نہیں سوچا، ملک میں غربت کے بارے میں اور افغان معاشرے کی پستی کے متعلق نہیں سوچا، نہ ہی قدامت پسند روایات اور معاشرے میں خواتین کے حقوق کے بارے میں سوچا گیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ خطیرہ جیسی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو طالبان اور افعان حکومت ’ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا وار میں استعمال کر رہی ہے۔‘

خطیرہ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس وقت تک ملک کی شہ سرخیوں میں نہیں آیا جب تک بی بی سی نے ان کا انٹرویو نہیں کیا اور اس بارے میں وزارت داخلہ کا موقف جاننے کی درخواست نہیں کی۔

بی بی سی کی افغان سروس کی مدیر کا کہنا ہے کہ ’روزانہ درجنوں لڑکیاں تشدد کا نشانہ بنتی ہیں، ان کے ناک کاٹے جا رہے ہیں، ان کے کان کاٹے جا رہے ہیں، انھیں مارا پیٹا جاتا ہے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

’ملک میں نوجوان لڑکیوں پر تشدد کے بہت سے ایسے واقعات ہیں جہاں ان کی ٹانگوں اور ہاتھوں کو سگریٹ سے جلایا جاتا ہے لیکن یہ خبریں کبھی شہ سرخیوں میں نہیں آتیں۔‘

خواتین کے لیے خطرناک ملک

Female officers in Afghanistan

BBC
آکسفام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین سکیورٹی اہلکاروں کو زیادہ خطرہ ہے کیونکہ انھیں معاشرتی طور پر تنقید اور بدنامی کا سامنا ہے

برطانوی فلاحی ادارے آکسفام کے مطابق افغانستان خواتین کے لیے خطرناک ممالک میں سے ایک ہیں۔ خواتین پولیس اہلکاروں کو معاشرے میں بدنام کیا جاتا ہے اور انھیں ان کے کام کی وجہ سے مار دیا جاتا ہے۔

افغانستان کے صوبے عزنی، قندوز اور کابل میں خواتین پولیس اہلکاروں کے خلاف حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تاہم بی بی سی کی افغان سروس کی مدیر کا کہنا ہے کہ ان جرائم پر اس وقت تک کم توجہ دی جاتی ہے جب تک کہ وہ خبروں میں نہ آ جائیں۔

بی بی سی افغان سروس کی مدیر بکتاش کا کہنا ہے کہ ’حکومت ان واقعات کی ذمہ داری طالبان پر عائد کرتی ہے لیکن انھیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ اس وقت یہ تسلیم کرتی ہے کہ حکومت ان خواتین کی حفاظت نہیں کر سکتی۔‘

خطیرہ کے والد اس واقع کے بعد سے گرفتار ہیں اور ان پر اس حملے کا الزام ہے۔ ان کی بیٹی (خطیرہ) کا کہنا ہے کہ ان پر اس لیے شک ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ خطیرہ یہ کام کریں۔

افغانستان کے وزیر داخلہ اندرابی نے خطیرہ کے والد پر طالبان کا رکن ہونے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ غزنی صوبے کی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک عام شہری ہیں۔

Khatira during an interview with the BBC

BBC
خطیرہ کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ سے پولیس اہلکار کے طور پر کام پر واپس جانا چاہتی ہیں

کابل کے ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد خطیرہ اب غزنی واپس آ چکی ہیں۔

اپنے زخموں کے باوجود خطیرہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانا چاہتی ہیں لیکن حکام ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

’انھوں نے مجھے بتایا کہ آپ بینائی سے محروم ہیں، آپ کام نہیں کر سکتی، آپ ریٹائرمنٹ لے لیں۔ میں نے ان سے کہا میں ریٹائرمنٹ نہیں لوں گی۔‘

اگر ان کا علاج ہوتا ہے اور وہ ٹھیک ہو جاتی ہیں تو وہ دوبارہ بطور پولیس افسر کے اپنے کام پر جانے کے لیے پرعزم ہیں۔

خطیرہ کا کہنا ہے کہ ’اپنی نوکری پر واپس جانا میرا سب سے بڑا خواب ہے، تاکہ میں کچھ ثابت کر سکوں، کچھ حاصل کر سکوں اور اپنے ملک کی خدمت کر سکوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16014 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp