مارکس ازم اور ڈارون ازم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈارون کا کہنا ہے کہ ارتقا با قاعدہ مراحل پر مشتمل ایک بتدریج عمل ہے۔ فطرت جست نہیں لگاتی بلکہ درجہ بدرجہ مرحلہ وار چلتی ہے۔ بقول ڈارون ارضیاتی ریکارڈ بے حد ناقص ہے۔ ڈارون کی تدریجیت کی جڑیں وکٹورین معاشرے کے فلسفیانہ نقطۂ ہائے نظر میں بہت گہری تھیں۔ اس ارتقا میں سے تمام جستوں، اچانک تبدیلیوں اور انقلابی تغیرات کو ختم کر دیا گیا ہے اور یہی نقطۂ نظر، آج تک سائنس پر حاوی ہے۔ موجودہ رکازیاتی ریکارڈ بڑی حد تک نا مکمل ہے۔ یہ طویل عرصوں پر مشتمل ہے مگر اس میں بہت جھول ہیں۔ ڈارون کو یقین تھا کہ یہ جھول، گم شدہ کڑیوں کی وجہ سے ہیں۔ جب یہ کڑیاں مل گئیں تو فطری دنیا کا ارتقا ایک بتدریج اور ہموار عمل ثابت ہو جائے گا۔

جرمن فلسفہ، خیال پرست ہونے کے باعث ایسے بد ہیئت تصور کی مخالفت کرتا ہے۔ ہیگل اس کا شدت سے مذاق اڑاتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ فطرت اور انسانی معاشرہ دونوں کے اندر جہتیں ارتقا کا اتنا ہی لازمی مرحلہ ہے جتنا کہ رفتہ رفتہ واقع ہونے والی مقداری تبدیلیاں۔

ارتقا اور انقلاب ایک ہی عمل کے دو پہلو ہیں۔ ایک نئی نسل کے ارتقا کی نشانی اس کے جنسیاتی ترکیب کا ایسا ارتقا ہے جس کے باعث نئی نسل کے ارکان باہم افزائش نسل کر سکتے ہیں، لیکن دوسری نسل کے ساتھ نہیں۔ نئی نسلوں کا ظہور قدیم نسلوں سے پھوٹنے والی شاخوں سے ہوتا ہے۔ بقول ڈارون ایک نسل دوسری نسل سے ماخوذ ہوتی ہے۔ شجرۂ حیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ نسلوں کا۔ جد اعلیٰ ایک ہو سکتا ہے، جیسے انسان اور چمپینزی مختلف نسلیں ہیں مگر ان کا جد اعلیٰ ایک ہی تھا، جو نا پید ہو چکا ہے۔ یہ تغیر ایک یا دو نسلوں میں نہیں بلکہ لاکھوں برس میں ہوتا ہے۔

مارکس اور اینگلز، ڈارون کے مداح ہونے کے با وجود اس کے نظریات کے بڑے ناقد تھے۔ جدلیاتی مادیت کا طریقۂ کار اختیار کرتے ہوئے مارکس اور اینگلز نے ایسے قوانین دریافت کیے، جو عمومی لحاظ سے تاریخ اور معاشرے کی نشو و نما پر لاگو ہوتے۔ مارکس اور اینگلز سے بہت پہلے دوسروں نے طبقاتی کشمکش کا ادراک کر لیا تھا مگر اس کی سائنسی توضیح نہ ہو سکی۔ مارکس نے قدر محنت کے نظریے کا تجزیہ کرتے ہوئے تاریخی مادیت کو فروغ دیا۔ مارکس اور اینگلز ڈارون کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں، جو ان کے فطرت پر لاگو ہونے والے تصورات کی تصدیق کرتا تھا۔

مارکس ڈارون کی کتاب کو بہت اہمیت دیتا ہے، جو تاریخ میں طبقاتی جد و جہد کے۔ سلسلے میں فطری سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے اور تمام تر خامیوں کے باوجود پہلی مرتبہ فطری سائنس میں (Teleoglogy) پر کاری ضرب لگاتی ہے۔ ڈارون پودوں اور جانوروں کے ارتقا کے قوانین سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ ماہر رکازیات گولڈ کہتا ہے :

”ڈارون نے فطرت کی توضیح کے لیے مستقل مزاجی سے مادہ پرستانہ فلسفے کو لاگو کیا۔ مادہ تمام موجودات کی بنیاد ہے۔ ذہن، روح، خدا ایسے الفاظ ہیں جو خلیاتی پیچیدگی کے شاندار نتائج کا۔ اظہار کرتے ہیں۔“

مارکس اور ہیگل کی جدلیات میں دو بنیادی فرق ہیں۔ اول یہ کہ مادہ پرستانہ فلسفہ ہونے کے ناتے سے یہ اپنے منطقی مقولہ جات کو طبعی حقیقت کی دنیا سے اخذ کرتی ہے۔ فطرت لا امتناعی ہے، نا کہ امتناعی۔ اسی طرح سچائی بذات خود لا امتناعی ہے اور کسی واحد نظام میں سموئی نہیں جا۔ سکتی۔ جس۔ طرح اینگلز نے وضاحت کی ہے کہ نفی کی نفی ایک طرح سے ارتقا کا مرغولہ ہے۔ ایک کھلا نظام نا کہ بند دائرہ۔ مارکس اور اینگلز نے ایک نئے جدلیاتی طریقۂ کار کا خاکہ تیار کیا، لیکن بیسویں صدی تیز ترین سائنسی ترقی یہ بتاتی ہے کہ جدلیات کے مواد کو نئے سرے سے ترقی دے کر مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

مارکس اور اینگلز نے جو سائنسی تحریریں لکھی ہیں انہیں عمومی تاریخ کی انقلابی تھیوری اور سرمایہ داری کے تضادات کے تجزیے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہر ہے سرمایہ دار طبقہ ان تحریروں کو پسند نہیں کرتا، نا ہی مقتدر اسے پسند کرتے ہیں۔ جدلیاتی مادیت ایسا ممنوع موضوع ہے، جسے گہرے اور منظم انداز نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور یہ فتوے وہ لوگ دیتے ہیں، جنہوں نے مارکس یا اینگلز کی ایک سطر بھی نہیں پڑھی ہوتی، مگر کچھ جرات مند ایسے ہیں، جنہوں نے سائنس کے فلسفے کے لیے مارکسزم کی خدمات کا سوال اٹھایا ہے۔

ماضی کی نسبت دور جدید میں ترقی و تبدیلی کا عمل بہت تیز ہو گیا ہے۔ دنیا تیزی سے رنگ بدل رہی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز ترین ترقی ہر دن نئے امکانات سامنے لاتی ہے ترقی کی دوڑ میں انسان اپنے حواس کھو رہا ہے سرمائے کی اندھا دھند دوڑ نے پوری دنیا کو میدان جنگ بنا دیا ہے۔ دولت کی ہوس میں انسانی دیوانگی اپنے عروج پر ہے۔ معاشی بحران، انقلاب اور رد انقلاب سے کوئی ذی ہوش انکار نہیں کر سکتا۔ پچھلے چالیس پچاس سالوں کے درمیان، دنیا میں جہاں انقلاب آئے، کالونیل ازم کا خاتمہ ہوا اور دنیا پوسٹ کالونیل ازم عہد میں داخل ہوئی، اب بھی لڑکھڑا رہی ہے۔ عرب ممالک، افغانستان، کشمیر اور پاکستان ابھی بم دھماکوں، ڈرون حملوں سے گونج رہے ہیں۔ نظریہ انتشار و پیچیدگی موجودہ معاشرے کے معائنے سے جتنی قریب ہوتی جاتی ہے، سرمایہ داری کے تضادات کو سمجھنے کے امکانات میں اتنا اضافہ ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •