الفاظ کا مصور۔ محمد سجاد جہانیہ

یادوں کے پرندے جب خیال کے پر لگا کر اڑتے ہیں تو کہانی کار تخیل کی زمین پر کہانیاں بونے لگتا ہے۔ پڑھنے والے ان کہانیوں کی بالیوں سے اپنی اپنی سمجھ کے دانے چنتے ہیں۔ کہانی ایک ہی ہوتی ہے مگر تخیل اسے ذاتی پرواز عطا کرتا ہے۔ یادوں کا آئینہ اور تخلیق کی روشنی مل کر جس انسان کی تصویر بناتے ہیں دنیا اسے محمد سجاد جہانیہ کے نام سے جانتی ہے۔ سجاد جہانیہ، یادیں، قلم اور قرطاس

Read more

نظموں کا جیب کترا

پچاس برس گزرے لائلپور کا مہینوال جنوب کی جانب روانہ ہوا۔ دشت دشت کی سیر کرتے سندھو کے کنارے آباد ایک چھوٹے سے شہر لیہ کی ایک چھوٹی سی گلی میں ایک لڑکی سے ایسا ٹکرایا کی پھر اکیلے واپسی کا سفر ناممکن ہو گیا۔ اس سوہنی نے مسعود قمر کے دل میں یوں پڑاؤ ڈالا کہ پھر کبھی ہجرت نہ کر سکی۔ لیہ کی سوہنی اتنی عقلمند تو تھی کہ کچے گھڑے پر اعتبار کرنے کی بجائے پکا رشتہ

Read more

سروگیٹ سوسائٹی

کچھ روز سے سکول کی بچیوں سے متعلق زہر فشانی اور پھر مختلف آراء پر مبنی جو بحث چھڑی ہوئی ہے وہ ہمارے معاشرے کی مجموعی سوچ کی عکاس ہے۔ مقرر کی زبان کی تلخی کا کیا ذکر اس کے جواب میں لوگوں کا ردعمل بھی حیران کن ہے۔ سکول جو مادر علمی ہیں جہاں سے انسان علم و شعور حاصل کرتا ہے اس کا نظام کیسے چل رہا ہے۔ تعلیمی نظام میں شدت پسندی کیسے شامل ہوئی اور حالات

Read more

بے ثمر راہ کی ثمر

ثمر نے ایک متمول گھرانے میں آنکھ کھولی۔ رزق اور بہن بھائیوں کی فراوانی میں زندگی خوبصورت اور مصروف تھی۔ باپ اچھے سرکاری عہدے پر تھا اور فضل ربی پر بھی یقین رکھتا تھا سو گھر میں خدا اور بندوں کا دیا سب کچھ تھا۔ یہ شہر ملک کا وہ علاقہ ہے جسے کوئی صوبہ دل سے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ دہشت گردی کے زمانے میں اس شہر نے پوری پوری قیمت چکائی اور ہنستا بستا شہر بارود کا

Read more

قصہ تین درویش اور چوتھی کھونٹ کا سفر

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گاؤں میں تین بھائی رہتے تھے۔ ہاں تو اس میں انوکھی بات کیا ہے۔ ؟ بھائی تو کہیں نہ کہیں رہتے ہی ہیں۔ ان بھائیوں میں ایسا کیا الگ تھا کہ جس کا ذکر ضروری ہو۔ تو سنیے، ان بھائیوں کی خصوصیت ایسی محبت تھی جو چشم فلک نے بہت کم دیکھی ہو گی۔ دنیا بھر میں بہن بھائی خون کے رشتے میں بندھے ہونے کے باعث ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں مگر یہ

Read more

حسینہ کی سوتن

حسینہ اگر کچھ بہتر حالات میں پرورش پاتی تو شاید اپنے نام کی کچھ لاج رکھ لیتی مگر غربت اور افلاس نے شکل و صورت اور جسم کو وہ اٹھان نہ بھرنے دی جو اسے حسین کہلواتی۔ اس کے چہرے پر صرف آنکھیں ایسی تھیں کہ اگر ان پر غور کیا جاتا تو شاید کچھ تیراک پیدا ہو جاتے۔ جوانی کی منڈیر پھلانگتے ہی ماں باپ نے کھونٹے کی گئیا کھولی اور بشیرے کے تھان پر باندھ دی اب وہ

Read more

جنسی شناخت کا مسئلہ: مریم کی ماما اور چند بچے

السلام علیکم! ”میں مریم کی ماما ہوں“ ۔ میں نے چونک کر سر اوپر اٹھایا اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جو ڈریس پینٹ شرٹ میں ملبوس ہاتھ بڑھائے کھڑا تھا۔ چہرے پر داڑھی مونچھوں کے ساتھ آواز میں بھی بھاری پن نمایاں تھا۔ میں نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا جو یقیناً مصافحے کی نیت سے بڑھایا گیا تھا۔ اس کے حلیے اور جملے کے تضاد نے مجھے زمین اور آسمان کے درمیان کہیں معلق کر دیا تھا۔

Read more

سعادت حسن منٹو: افسانہ بو کی چھاتی اور چھاتی کا سرطان

موبائل فون کی گھنٹی بجی ٹرن۔ ٹرن۔ ٹرن۔ دوسری طرف سے ایک مشینی آواز آئی ”خواتین میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ روزبروز بڑھ رہا ہے“ ۔ منٹو نے حیرت سے فون کو دیکھا اور فون بند کر دیا۔ تھوڑی دیر حیرت میں ڈوبے رہنے کے بعد دوبارہ فون ملایا۔ دو تین گھنٹیوں کے بعد پھر آواز آئی ”خواتین میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ روزبروز بڑھ رہا ہے“ ۔ شدت حیرت سے منٹو گم صم رہ گیا۔ یہ خاتون

Read more

ایک رانی کے نام

پیاری مریم سلامت باشد سب سے پہلے تو بیٹے کی شادی کی مبارکباد قبول کرو۔ خدا کا شکر کہ تمہیں یہ مبارک دن دیکھنا نصیب ہوا۔ پوری قوم کی طرف سے جنید بیٹے اور بہو رانی کے لئے بہت دعائیں۔ دودھوں نہاؤ پوتوں پھلو۔ شادی کی تصاویر دیکھیں دل شاد ہوا۔ نیہر کے گھر سے آئے جوڑے کے دن سے مہندی تاں رچدی منڈے دی ماں نچدی (مہندی تو جب رچتی ہے جب لڑکے کی ماں ناچتی ہے) اور پھر

Read more

وفا کا راہی

*جو نگاہ خرد میں ہوں انمول ایسے موتی محیط دل سے اچھال میرے نزدیک شاعری کیا ہے حسن الفاظ اور حسن خیال گذرتا وقت جہاں انسانی زندگی میں بدلاؤ لاتا ہے وہاں شعر و ادب بھی نئے سانچوں میں ڈھلتے ہیں۔ یہی سب اردو شاعری کے ساتھ بھی پیش آیا۔ روایات کی زنجیروں میں جکڑی اردو شاعری آہستہ آہستہ بغاوت و انقلاب کے پھریرے اڑانے لگی ہے جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر آزادی کی راہوں پر چل نکلی ہے۔

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور محبت کا سرسبز جزیرہ

ڈاکٹر خالد سہیل نامور ماہر نفسیات ہیں اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔ انسان دوست ماحول دوست ڈاکٹر سہیل جہاں دوستوں کے لیے محبت کا استعارہ ہیں وہاں بیماروں کے لیے مسیحا صفت شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے میرا تعارف ”ہم سب“ کے ذریعے ہوا جہاں ان کی تحریروں نے ان کی صفت مسیحائی کے ساتھ ساتھ ادب سے ان کی وابستگی سے متعارف کروایا۔

Read more

لائسنس۔ مابعد منٹو

اکیسویں صدی اپنی عمر کی بیس بہاریں دیکھ چکی تھی۔ نانیوں دادیوں سے سنتے آئے تھے لڑکیاں جلدی بڑی ہو جاتی ہیں اور لڑکے بے چارے باپ کے کاندھے تک آتے آتے بہت وقت لگا دیتے ہیں حالانکہ بچاروں کی داڑھی پیٹ میں ہوتی ہے مگر کون مانے۔ صدی بھی مونث ٹھہری سو پیدائش کے ساتھ ہی جوانی چلی آئی۔ مگر یہ موصوفہ ایسے رنگ ڈھنگ بدلے گی یہ کس نے سوچا تھا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی پری نے سب

Read more

شب گزیدہ: محبت کرنے والوں کی کہانی

بیس بائیس سالہ نوجوان جو شکل و شباہت سے کسی شریف گھرانے کا فرماں بردار بیٹا اور یونیورسٹی کا طالب علم نظر آتا تھا ایک طرف کھڑا تھا۔ کمرہ عدالت میں بے چین بھنبھناہٹ تھی جو اس کے شل اعصاب کو مزید بوجھل کر رہی تھی۔ لڑکے کا باپ سرجھکائے عدالت میں اور ماں گھر میں دل ہی دل میں خدا سے مخاطب تھے شاید وہ سن لے بندگان خدا نے تو کان اور آنکھیں دونوں بند کر لیے تھے۔

Read more

کھول دو نہیں اب بند کردو

آج ایک اور سکینہ نے ازار بند کھولا۔ بوڑھا سراج الدین کب کا مر چکا اسی لئے خوشی سے چلا کر بیٹی کی زندگی کا اعلان نہ کر سکا مگر جنم جلی ماں کی چیخیں صدیوں کے سناٹے چیر گئیں۔ چیخیں دلدوز چیخیں۔ ایک ماں کا جگر کٹ کٹ کر اس کی زبان پر آیا اور اس نے اس گلے سڑے معاشرے پر قے کر دی۔ ماں۔ جو بوڑھے سراج الدین کی طرح حوصلہ مند نہیں۔ ہو بھی نہیں سکتی۔ کیسے حوصلہ کرے۔ ارے اس کی کوکھ جلتی ہے۔ سنو۔ ریاست مدینہ کی ماؤں کی کوکھ جل رہی ہے۔ جہنم کیا ایسی ماں کی کوکھ سے زیادہ بھڑک سکتی ہے۔ کسی جنت سے کوئی آب رواں لاؤ شیریں دودھ اور شہد میں پھاہے بھگو کر اس کے زخموں پر رکھو۔ مگر ماں کی کوکھ کی آگ نہیں بجھے گی۔

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی سے محبت بھرا مکالمہ

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کالم۔ دولے شاہ کی چوہیا پڑھا تو آنکھوں کے سامنے دولے شاہ کی چوہیوں کے ساتھ دولے شاہ کے چوہے بھی رقص کرنے لگے آخر مرد اور عورت کا ساتھ ازل سے ہے اور رہے گاتو د ولے شاہ کی غلامی میں علیحدگی کیسے ممکن۔ پیر تو سب کا سانجھا ہے۔

غور کریں تو احساس ہوتا ہے کہ دولے شاہ کی یہ نسل برصغیر پاک وہند میں ہی جنم لیتی ہے باقی دنیا میں انسان جنم لیتے ہیں کیونکہ ان معاشروں میں دولے شاہ جنم نہیں لیتے۔ اس معاشرے میں دولے شاہ کے چوہوں کی تاریخ سینکڑوں نہیں ہزاروں سال پرانی ہے جن پر حکومت کرنے کے لیے بیرونی دنیا سے انسانی لشکر یہاں ٹوٹے پڑ رہے ہیں اور ان چوہوں پر پرانے فاتحین سے لے کر آج کی جدید کمپنیوں کی حکومت جاری ہے۔ اس علاقے میں دولے شاہ سے محبت اتنی شدید ہے کہ کوئی انسان نما چیز یہاں جنم لیتے ہوئے گھبراتی ہے۔

Read more

مارکس ازم اور ڈارون ازم

ڈارون کا کہنا ہے کہ ارتقا با قاعدہ مراحل پر مشتمل ایک بتدریج عمل ہے۔ فطرت جست نہیں لگاتی بلکہ درجہ بدرجہ مرحلہ وار چلتی ہے۔ بقول ڈارون ارضیاتی ریکارڈ بے حد ناقص ہے۔ ڈارون کی تدریجیت کی جڑیں وکٹورین معاشرے کے فلسفیانہ نقطۂ ہائے نظر میں بہت گہری تھیں۔ اس ارتقا میں سے تمام جستوں، اچانک تبدیلیوں اور انقلابی تغیرات کو ختم کر دیا گیا ہے اور یہی نقطۂ نظر، آج تک سائنس پر حاوی ہے۔ موجودہ رکازیاتی ریکارڈ بڑی حد تک نا مکمل ہے۔ یہ طویل عرصوں پر مشتمل ہے مگر اس میں بہت جھول ہیں۔ ڈارون کو یقین تھا کہ یہ جھول، گم شدہ کڑیوں کی وجہ سے ہیں۔ جب یہ کڑیاں مل گئیں تو فطری دنیا کا ارتقا ایک بتدریج اور ہموار عمل ثابت ہو جائے گا۔

جرمن فلسفہ، خیال پرست ہونے کے باعث ایسے بد ہیئت تصور کی مخالفت کرتا ہے۔ ہیگل اس کا شدت سے مذاق اڑاتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ فطرت اور انسانی معاشرہ دونوں کے اندر جہتیں ارتقا کا اتنا ہی لازمی مرحلہ ہے جتنا کہ رفتہ رفتہ واقع ہونے والی مقداری تبدیلیاں۔

Read more

یکساں تعلیمی نصاب: مزید تعلیمی زوال کا نسخہ

یکساں قومی نصاب کے متعلق کچھ دن سے میڈیا پر بحث جاری ہے اور ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے ایک آرٹیکل پر، جو ڈان اخبار میں چھپا، بڑی لے دے ہو رہی ہے۔ حالانکہ وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ یکساں قومی نصاب کے ہرگز خلاف نہیں کیوں کہ ہمارے ملک میں طبقاتی فرق ہی مختلف نصاب سکول اور طریقہ تدریس کی وجہ ہے۔ میں عرصہ اٹھارہ سال سے کیمبرج انٹرنیشنل سکول سسٹم میں پڑھا رہی ہوں اور

Read more