ڈارون کا کہنا ہے کہ ارتقا با قاعدہ مراحل پر مشتمل ایک بتدریج عمل ہے۔ فطرت جست نہیں لگاتی بلکہ درجہ بدرجہ مرحلہ وار چلتی ہے۔ بقول ڈارون ارضیاتی ریکارڈ بے حد ناقص ہے۔ ڈارون کی تدریجیت کی جڑیں وکٹورین معاشرے کے فلسفیانہ نقطۂ ہائے نظر میں بہت گہری تھیں۔ اس ارتقا میں سے تمام جستوں، اچانک تبدیلیوں اور انقلابی تغیرات کو ختم کر دیا گیا ہے اور یہی نقطۂ نظر، آج تک سائنس پر حاوی ہے۔ موجودہ رکازیاتی ریکارڈ بڑی حد تک نا مکمل ہے۔ یہ طویل عرصوں پر مشتمل ہے مگر اس میں بہت جھول ہیں۔ ڈارون کو یقین تھا کہ یہ جھول، گم شدہ کڑیوں کی وجہ سے ہیں۔ جب یہ کڑیاں مل گئیں تو فطری دنیا کا ارتقا ایک بتدریج اور ہموار عمل ثابت ہو جائے گا۔
جرمن فلسفہ، خیال پرست ہونے کے باعث ایسے بد ہیئت تصور کی مخالفت کرتا ہے۔ ہیگل اس کا شدت سے مذاق اڑاتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ فطرت اور انسانی معاشرہ دونوں کے اندر جہتیں ارتقا کا اتنا ہی لازمی مرحلہ ہے جتنا کہ رفتہ رفتہ واقع ہونے والی مقداری تبدیلیاں۔
Read more