کشمیری رہنما محبوبہ مفتی ایک سال بعد رہا



بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما محبوبہ مفتی کو منگل کو رات گئے رہا کر دیا گیا ہے۔ انہیں گزشتہ برس نظر بند کیا گیا تھا۔

بھارتی حکومت نے گزشتہ برس پانچ اگست کو وادیٔ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے عوامی رد عمل کے خدشے کے پیش نظر مختلف سیاسی رہنماؤں سمیت سیکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا تھا جب کہ متعدد کو ان کی رہائش گاہوں پر ہی نظر بند کر دیا تھا۔

محبوبہ مفتی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خود مختاری واپس لیے جانے کے دوران گرفتار ہوئی تھیں اور وہ رہا ہونے والی آخری رہنما ہیں۔

ریاست کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ بھی حراست میں لیے جانے والے رہنماؤں میں شامل تھے۔ تاہم انہیں رواں سال کے شروع میں ہی رہا کر دیا گیا تھا۔

محبوبہ مفتی کی رہائی سے متعلق حکومت کے ترجمان روہت کنسل نے ایک ٹویٹ کے ذریعے مطلع کیا ہے جب کہ محبوبہ مفتی نے بھی اپنے ٹویٹ میں ان تمام حامیوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کی حمایت کرتے رہے تھے۔

یاد رہے کہ محبوبہ مفتی کی رہائی ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ میں جمعرات کو سماعت ہونا ہے۔

محبوبہ مفتی کی صاحبزادی نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت والدہ کی نظر بندی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

​خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق محبوبہ مفتی کی رہائی کے حوالے سے ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کو فوری طور پر منسوخ کیا جا رہا ہے۔

اس ایکٹ کے تحت مقدمہ چلائے بغیر دو سال تک کسی کو بھی نظر بند کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال کہا گیا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے کو باقی ملک سے قریب تر کرنے کے لیے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ضروری ہے۔

حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے سے قبل وادی میں موبائل فونز، انٹرنیٹ اور لینڈ لائنز ڈاؤن کر کے مکمل مواصلاتی بلیک آؤٹ نافذ کر دیا تھا۔

بعدازاں محبوبہ مفتی سمیت متعدد افراد کو بھی حراست میں لے لیا تھا تاکہ کشمیر کی خود مختاری ختم کرنے کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے ممکنہ مظاہروں کو روکا جا سکے۔

Facebook Comments HS

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3333 posts and counting.See all posts by voa