پب جی کھیل کر نکاح ٹوٹنے کے فتوے کے بعد حلالے کا فتویٰ آتا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پب جی کے متعلق جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن سے مختلف فتوے لیے گئے ہیں جو ان کی ویب سائٹ پر موجودہ ہیں۔ لب لباب ان کا یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے پب جی گیم کھیلی تو حرام کام کیا۔ نیز اس میں وہ راؤنڈ کھیلا جس میں اس کے کنٹرول میں موجود کیریکٹر نے بتوں کے آگے جھک کر پاور لی تو کھیلنے والے نے شرک کیا اور دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا، نیز اس کا نکاح بھی ٹوٹ گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ ”گیم کھیلنے والے شخص کا گیم میں موجود اپنے کھلاڑی کو پاور حاصل کرنے کے لیے بتوں کے سامنے جھکانا اور بتوں کی پوجا کروانا اس کا اپنا فعل ہے، گیم میں نظر آنے والا کھلاڑی اسی گیم کھیلنے والے کا عکاس اور ترجمان ہے۔“

یعنی کسی گیم میں کھیلنے والے کے کنٹرول میں جو بھی کردار ہو گا، اس کے اعمال کا ذمہ دار کھیلنے والا قرار پائے گا۔ ہمارے دل کو تو یہ دلیل لگتی ہے۔ اور اب ملت کے نوجوانوں کو دیکھ کر نہایت پریشانی بھی ہوتی ہے۔ قوم کے نوجوانوں کی عمر عزیز کے بے شمار برس ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے گزرتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے گو پب جی نہیں کھیلی اور شرک سے بچ گئے، لیکن اللہ معاف کرے انہوں نے دوسری گیموں میں گناہوں کے ڈھیر لگا دیے۔

بے شمار گیموں میں انہوں نے بے حساب انسانوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ یعنی ان گنت قتل ان کے نامہ اعمال میں درج ہیں کیونکہ گیم میں نظر آنے والا کھلاڑی ان کا ہی عکاس اور ترجمان تھا۔ یعنی مطلب اس کا یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں جانوں کا قصاص ان پر واجب ٹھہرا ہے۔

نیز رمضان میں روزے کی حالت میں کھلاڑیوں نے ایسی گیمیں بھی کھیلی ہیں جن میں کھلاڑی کے کنٹرول میں موجود کردار کچھ کھا پی کر پاور لیتا تھا۔ یعنی بے شمار روزوں کا کفارہ بھی انہیں دینا ہو گا کیونکہ وہ کھلاڑی ان ہی کا عکاس اور ترجمان تھا۔

پھر ریسنگ گیموں میں یہ دیوانے کیا کیا نہیں کرتے۔ نہ صرف خود دیوانوں کی طرح ڈرائیونگ کرتے ہیں بلکہ راستے میں آنے والے ہر چرند پرند اور انسان کو بھی گاڑی مارنے سے پہلے کچھ نہیں سوچتے۔ کوئی اڑ کر یہاں گرا کوئی وہاں گرا۔ اب ان سب کا تاوان بھی انہیں ہی بھرنا ہو گا کیونکہ گیم میں کیے گئے اعمال بھی حقیقی اعمال ٹھہرے ہیں۔

یعنی جس نے گیم میں گولی چلائی، اس نے گویا حقیقی گولی چلائی۔ جس نے گیم میں حرام حلال کی تحقیق کے بغیر کچھ کھایا اس نے حرام کھایا۔ جس نے روزہ رکھ کر ایسی گیم کھیلی اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔ جس نے ایسی گیم کھیلی جس میں صنف مخالف موجود تھی اس نے گویا زنا ہی کر دیا۔ نیز جس نے بالغوں والی گیمیں کھیلیں اس کی تو عاقبت ہی تباہ ہو گئی اور اسے دنیا میں بھی سنگسار کیا جانا چاہیے۔

بہرحال ان سب گنہگاروں کی پریشانی ان مشرکین سے کم ہے جو پب جی کھیلتے رہے ہیں۔ ان بچاروں کے تو نکاح ہی ٹوٹ گئے۔ اب پتہ نہیں کیسے جڑیں گے یہ نکاح۔ زیادہ سخت والے مولوی جو معمولی خطا پر بھی دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں، وہ تو نکاح جوڑنے کے لیے حلالے کی شرط ضرور لگائیں گے۔ پتہ نہیں پب جی کھیلنے والوں کے لیے حلالے کا فتویٰ آ گیا ہے یا آنے والا ہے؟ کیا اب ہر ویڈیو گیم کی دکان کے ساتھ ایک حلالہ سینٹر بھی ویسے ہی کھلے گا جیسے برطانیہ میں کھلے ہوئے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar