ڈی چوک دھرنا: کیا سرکاری ملازمین کا اسلام آباد میں دھرنا حکومتی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

            <figure>
  <img alt="sit in" src="https://c.files.bbci.co.uk/F411/production/_114918426_mediaitem114918425.jpg" height="549" width="976" />
  <footer>BBC</footer>

</figure>14 اکتوبر (بدھ) کو شام ڈھلے درجن بھر صوبائی اور وفاقی اداروں سے منسلک ہزاروں ملازمین، جن میں کثیر تعداد خواتین کی ہے، دارالحکومت اسلام آباد کے معروف ڈی چوک پہنچے اور مہنگائی، نجکاری، جبری برطرفیوں اور مناسب سروس سٹرکچر سمیت اپنے دیگر بہت سے مطالبات کے حق میں دھرنا دے دیا۔

ملک میں سیاسی ماحول پہلے ہی کافی کشیدہ ہے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد عوام کو سٹرکوں پر لانے اور برسرِاقتدار تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ‘فیصلہ کُن مہم’ چلائے جانے کا اعلان کر چکا ہے۔

اس سیاسی منظرنامے کے بیچ اِن ملازمین کا ڈی چوک پر دھرنا کافی اہمیت اختیار کر گیا اور اپوزیشن رہنما گذشتہ روز سے ہونے والی اپنی تقریروں اور پریس کانفرنسوں میں ڈی چوک پر جاری دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے عوام کو پیغام دے رہے ہیں کہ وہ بھی حزبِ اختلاف کے جلسے جلوسوں کے لیے نکلیں تاکہ ’ناکام حکومت‘ سے جلد جان چھڑوائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہر کوئی سراپا احتجاج ہے؟

پاکستان میں غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھنے کی وجوہات کیا ہیں؟

اسلام آباد میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا دھرنا جاری، کلرک احتجاج ملتوی کرنے پر رضامند

اور شاید یہی سیاسی حقائق ہیں جو حکومتی وزرا اور اراکین اسمبلی کو مجبور کیے ہوئے ہیں کہ وہ دھرنا منتظمین سے بات کریں، اُن کے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانیاں کروائیں تاکہ ڈی چوک جلد از جلد خالی کروایا جا سکے اور حزب اختلاف کو موقع فراہم نہ کیا جائے کہ وہ ان مظاہرین کی اسلام آباد میں موجودگی کو اپنی حکومت مخالف تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔

احتجاج

BBC
</figure><p><strong>یہ مظاہرین کون ہیں اور ان کے مطالبات کیا ہیں؟</strong>

پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور اور جناح ایونیو پر بیٹھے ان احتجاجی ملازمین میں بڑی تعداد لیڈی ہیلتھ ورکرز، کلرکس، واپڈا، ریلوے، او جی ڈی سی ایل، پی آئی اے، ای او بی آئی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، پی ٹی ڈی سی اور سٹیل ملز کے ملازمین کی تھی جن کے ساتھ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سمیت دیگر ورکرز تنظیموں کے کارکن بھی شامل تھے۔

ان کے مطالبات میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے لے کر، اداروں کی نجکاری، سروس سٹرکچر میں بہتری، ریگولرئیزیشن، جبری ریٹائرمنٹ اور برطرفیوں کے خاتمے اور برطرف کیے گئے ملازمین کی بحالی جیسے اقدامات سرفہرست ہیں۔

یاد رہے کہ چند دن قبل بھی ان سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین نے پارلیمان کی عمارت کے باہر بڑی تعداد میں جمع ہو کر احتجاج کیا تھا اور اس احتجاج کا تذکرہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لندن سے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس سے اپنے خطاب میں کیا تھا۔

بدھ کی رات مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے ڈی چوک کر دھرنا دیے بیٹھی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ایک تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کچھ تو شرم کرو۔ یہ قوم کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں ہیں۔‘

ان مظاہرین میں بڑی تعداد لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ہے اور اس تنظیم کی صدر رخسانہ انور کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ سے نہ تو لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کا سروس سٹرکچر بنایا جا رہا ہے۔

ورکرز

BBC
ڈی چوک پر موجود لیڈی ہیلتھ ورکرز نے رات کھلے آسمان تلے گزاری ہے

اُنھوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پانچویں سکیل میں بھرتی ہوتی ہیں اور تمام عمر اسی سکیل میں گزار کر ریٹائر ہو جاتی ہیں جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچتے تک بھی ان کی تنخواہ فقط 18ہزار روپے سے زیادہ نہیں بڑھتی۔

ان کے مطابق حکومت اب ان کی سروس کے کئی برس کو شمار ہی نہیں کر رہی ہے جس کا مطلب یہ ہو گا کہ ریٹائرمنٹ پر اب یہ ورکرز مراعات سے محروم رہ جائیں گی۔

رخسانہ انور کا کہنا تھا کہ ’لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں جبکہ اس مہم کے دوران درجنوں لیڈی ہیلتھ ورکرز شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں اور حکومت نے اس ضمن میں کچھ بھی نہیں کیا۔‘

انھوں نے صوبہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب بھی ان کے سامنے لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنے مطالبات رکھے تو انھوں نے تعلیم نہ ہونے کا طعنہ دیے کر مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا نبیلہ کوثر نے بتایا کہ وہ 1995 سے لیڈی ہیلتھ ورکر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ نبیلہ کوثر کے شوہر کے انتقال کے بعد اب بچوں کی تمام ذمہ داریاں بھی ان پر آن پڑی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 20 ہزار سے بھی کم تنخواہ لے کر بچوں کا پیٹ پالنا اتنا آسان نہیں ہے۔

نبیلہ کوثر کے مطابق ’اب مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ میری ملازمت 1995 سے نہیں بلکہ 2012 سے شمار کی جائے گی، جس کا مطلب ہے کہ میں ریٹائرمنٹ پر خالی ہاتھ اپنے بچوں کے پاس گھر جا رہی ہوں گی۔‘

ورکرز

BBC
’20 ہزار سے بھی کم تنخواہ لے کر بچوں کا پیٹ پالنا اتنا آسان نہیں ہے‘

رقیہ رمضان نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے وہ صرف منصوبہ بندی کی حد تک فرائض انجام دے رہی تھیں مگر اب حکومت نے پولیو سمیت دیگر مختلف مہمات بھی ان کے فرائض میں شامل کر دی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کام بڑھانے کے باوجود حکومت نے ان کی تنخواہ اور الاؤنسز میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا ہے جبکہ خطرات بھی اتنے ہیں کہ ہم میں سے اکثر اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

اسی نوعیت کے مطالبات یہاں دھرنا دینے والے دیگر اداروں کے ملازمین کے بھی تھے۔ پشاور سے آئے ہوئے واپڈا کے ملازمین ندیم اقبال کا کہنا تھا کہ جب فوج سمیت ہر ادارے کو تنخواہوں میں اضافہ اور مراعات دی جا سکتی ہیں تو ایسے میں حکومت نجکاری کے ذریعے ہم سے روزگار چھین رہی ہے۔

حکومت کی مذاکرات کی حکمت عملی

موجودہ سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ان مظاہرین پر نہ تو کوئی سختی کی ہے بلکہ جیسے ہی یہ ڈی چوک پہنچے حکومتی وزرا بھی یہاں آئے اور وقت ضائع کیے بغیر مذاکرات شروع کیے جو کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں اور بظاہر اس حکمت عملی سے حکومت نے فائدہ بھی اٹھایا ہے۔

جب حکومت نے گذشتہ شام دھرنے کے منتظمین سے مذاکرات شروع کیے تو بیشتر سرکاری ملازمین کا موقف تھا کہ ان کے مطالبات پورے ہونے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔

تاہم جب ان مظاہرین اور حکومت میں معاہدہ طے پا گیا تو لیڈی ہیلتھ ورکرز کے علاوہ باقی ملازمین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

گذشتہ رات گئے جب حکومتی وزرا انتظامیہ سمیت ڈی چوک پہنچے تو ان کا سامنا وہاں لیڈی ہیلتھ ورکرز سے بھی ہوا۔

ان میں سے ایک ورکر نے تحریک انصاف کے ایم این اے علی محمد خان کو روک کر کہا کہ ’بہنوں اور خواتین کے سر پر دست شفقت رکھیں‘ تو انھوں نے کہا کہ وہ اسی مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں۔

مذاکراتی عمل آگے بڑھانا ہو تو پھر روایتی سیاستدان اور وزیر دفاع پرویز خٹک ہی تحریک انصاف حکومت کا انتخاب ہوتے ہیں۔

پرویز

BBC
</figure><p>ان مظاہرین سے بھی مذاکرات کے لیے حکومت نے انھیں ہی یہ ٹاسک سونپا۔ انھوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انھیں ان کے مطالبات تسلیم کرنے سے متعلق یقین دہانی کرائی تاہم وہاں موجود لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنے مطالبات تسلیم کروائے بغیر وہاں دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ 

حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹی میں مذاکرات کا پہلا دور ناکام رہا تاہم مذاکرات میں ابھی تک کوئی تعطل نہیں آیا۔ حکام وزارت صحت نے ان مذاکرات کے دوران یہ مؤقف اختیار کیے رکھا کہ لیڈی ہلتھ ورکرز کے مطالبات صوبے پورے کریں گے۔

ان ورکرز کا کہنا ہے کہ صوبے ہمارے مسائل حل نہیں کر رہے، اگر وہ ایسا کرتے تو پھر اسلام آباد کا رخ نہ کرتے۔‘ ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت مسائل حل نہیں کر سکتی تو وہ کس چیز کی علامت ہے۔ ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ جب تک مسائل حل نہیں ہوتے تو وہ وزیراعظم ہاؤس کے باہر ہی احتجاج جاری رکھیں گے۔

کیا یہ دھرنا حکومت کو مشکل میں ڈال سکتا ہے؟

سابق سیکریٹری داخلہ تسنیم نورانی نے بی بی سی کو بتایا کہ بیوروکریسی کے بروقت فیصلے نہ لینے کی وجہ سے چینی اور آٹے کے بحرانوں نے جنم لیا اور ملازمین کی پہلے سے موجود جو مشکلات تھیں ان میں مزید اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق احتجاج کی وجہ حکومت کی طرف سے بغیر تیاری کے اصلاحات کا نظام متعارف کرانا ہے۔

تاہم تسنیم نورانی کے خیال میں اگر حکومت اپنے حالات کو بہتر رکھے تو پھر اس طرح کے احتجاج تو ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے خیال میں حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کو بہتر بنانا ہو گا۔

اس سوال کے جواب میں کہ ڈی چوک تک مظاہرین کیسے پہچنے تو ان کا جواب تھا کے انتظامیہ کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ غیر ضروری کوئی سین پیدا نہ ہی تو بہتر ہے۔ وہ اس حوالے سے کسی ’سازشی تھیوری‘ کو درست نہیں مانتے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کے لیے ڈھائی سال میں مشکل ترین حالات ہیں۔ ان کے خیال میں اس وقت ملک میں احتجاج اور مظاہروں کی فضا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر سکتی ہے۔

زاہد حسین کے مطابق اب اہم بات یہ ہو گی کہ حکومت اس چیلنج پر قابو پانے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16003 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp