ایک انڈہ وہ بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج ہی یہ خبر سنی کہ ریاست مدینہ جونئیر میں ایک انڈا سولہ روپے کا ہو گیا یعنی ہماری یہ بات کہ ان سے نہ ہو پائے گا، اس بار بھی سولہ آنے درست ثابت ہوئی۔

پولٹری ایسوسی ایشن کے مطابق، اس کا کارن فیڈ مہنگی ہونا اور کرونا ہے۔

تاہم اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عوام الناس میں یہ خوف تقویت پا رہا ہے کہ جس معاملے یا مسئلے میں کپتان یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ میں صورتحال خود مانیٹر کر رہا ہوں، اس کا رام نام ست ہے، یقینی ہے۔

مہنگائی بھی کئی روز سے خان صاحب مانیٹر کر رہے تھے، دل کو اسی دن سے ہول اٹھ رہے تھے۔ کہیں ناعاقبت اندیشوں کا یہ قیاس اس بار بھی سچ نہ ہو جائے پر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟

کپتان کے ساتھ اس کار خیر میں ٹائیگران بھی شامل ہیں، ان سے تو حاشا وکلا مجھے کوئی پرخاش نہیں۔ یہ معصوم ہیں بلکہ سیدھے یوں جیسے اللہ میاں کی گائے بلکہ بیل۔ گائے تو قبیلۂ گاؤ کی زنان ہے، اب چاہے وہ سی سی پی او پنجاب کے مطابق دور اندیش و عافیت خیش نہ بھی ہوں اور بھری دوپہر یا بیچ بزریا عزت داؤ پے لگائے مٹکتی پھرتی ہوں تو بھی ہم ان کی عزت ہی کریں گے کہ سیاسی گفتگو میں اختلاف بھی ہو تو گھر کی عورتوں کے بارے میں فحش گوئی سے ہر دو حریفوں کو گریز کرنا چاہیے۔ یہ بات اس وقت تمام سیاسی سپورٹرز، ورکرز اور لیڈرز کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

لو۔ بات سے بات نکلی اور ڈی ایچ اے کراچی کی طرح بہہ گئی۔
خیر۔ واپس موضوع پے آئے جاتے ہیں۔

چلو یہ مانے لیتے ہیں کہ انڈے سونے کے تو نہ ہوئے پر سونے کے بھاؤ ضرور ہو گئے یعنی تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ چکی ہے!

مگر بجلی کے نرخ ہر مہینے کیوں بڑھائے جا رہے ہیں؟ سردیوں میں تو آئے سی بھی نہیں چلتے؟ یہ تو پوچھا جا ہی سکتا ہے؟ نہیں۔ میں کیوں پوچھوں، میں نے تو دوائیوں کی قیمت دوگنی ہونے پے بھی چپ سادھ لی تو بجلی کی کیا پرواہ۔ پر یہ کوڑھ مغز عوام کہاں سنتی ہے کہ گھبرانا نہیں ہے۔ ذرا ذرا سے اضافے پے گھبرا رہی ہے۔

آٹا، دال، چینی، سبزی، دودھ، گوشت، خوردنی تیل، پٹرول غرض نام لیتے جائیں اور قیمتوں میں اضافہ دیکھتے جائیں۔ تو انڈوں کو بھی احساس کمتری سے بچانے کے لئے ان کی قیمت میں اضافہ ضروری تھا، مرغیوں کا بھی دل ہوتا ہے اور مرغی کو تو تکلے کا گھاؤ بہت۔ حساس سی ہوتی ہیں۔ رہی عوام تو جب آٹا مہنگا خرید سکتی ہے تو انڈے بھی سہی۔

اب احوال یہ ہے کہ مہنگائی تانڈو کر رہی ہے، قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عام آدمی کی سٹی گم، دماغ سن، کان سائیں سائیں، حلق خشک اور دل دھک دھک کر رہا ہے، آنکھوں کے سامنے ترمرے ناچ رہے ہیں، کہتے ہیں ایسے میں ادھ ابلا انڈا کھا لو تو ڈوبا دل ٹھہر جاتا ہے لیکن انڈا تو سولہ روپے کا ہو گیا۔ ہائے۔ اف!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •