سامراج کو تگنی کا ناچ نچانے والا

( محمد حسین ہنرمل)\"hunarmal-kakar\"

امریکہ کے دروازے پر کمیونسٹ ریاست کی بنیاد رکھنے والے فیڈل کاسترو بالآخرنوے برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ کیوبا کا یہ عظیم لیڈر جس بھی نظریے کے حامل اور مبلغ رہے، حقیقت میں امر ہوگئے۔ ان کے مسلک سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی مردانگی اور استقامت سے انکار کرنا ناانصافی اور زیادتی کے سوا اور کچھ نہیں۔ پشتو زباں کی ایک کہاوت کے مطابق’’ مردکو جاں سے مارڈالنا بھی صحیح لیکن اس کی مردانگی اور شجاعت کوہرگزنہ چھپانا‘‘۔ فیڈل کاستروکے انقلابی اقدامات اٹھارہ سال کی عمر میں اپنی ذات ہی سے شروع ہوتے ہیں۔ اٹھارہ سال کی عمر میں کی اپنے جاگیردار باپ کی مخالفت پربھی اس وقت پراترآئے تھے اورمزارعین کو منظم کیا تھاجب وہ اپنے حق تلفی اور استحصال کے خلاف ہڑتال کرنے لگے تھے۔

کارل مارکس کے نظریات کو ازبر کرنے والے کاسترواس وقت کے فوجی ڈکٹیٹرFulgencio Batista) )کی حکومت کو للکارنے لگے جو غیرآئینی طریقے سے انہیں کہیں اور سے نصیب ہوئی تھی۔ ان کی حکومت کے خلاف تقاریر کیں، تحریک چلایا اور ملک کے کونے کونے سے بہت کم لیکن ثابت قدم انقلابیوں کو اکٹھا کیا۔ اپنے ایک سوپچاس انقلابی ساتھیوں کی مددسے فیڈل کاسترو نے 26 جولائی 1953کو کیوبا کی فوجی بیرکوں پر حملہ کرکے انقلاب لانے کا آغاز کیا۔ اس حملے کے دوران ان کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور زخمی حالت میں گرفتار کرلئے گئے جبکہ ان کے دوسرے انقلابی ساتھی ملک سے فرار ہوکر پانامہ، وینزویلا اور دوسرے ریاستوں میں پناہ لینے لگے۔ کہاجاتا ہے کہ ان کے ساتھیوں کا جہاں بھی تذکرہ ہوتاتو ’’ 26جولائی والے‘‘ کے نام سے یاد ہوتے۔ دو سال بعد رہائی ملنے کے بعد کاسترو اپنے بھائی راول کاسترو (حالیہ کیوبن صدر) کے ساتھ میکسیکو چلے گئے جہاں ارجنٹینا کے انقلابی چی گویرا سے ان کی پہلی ملاقات ہوئی اور پہلی ہی ملاقات میں دونوں ایک دوسرے کے جگری دوست بنے۔ چی گویرا اسی وقت اپنے محبوبہ کے ساتھ آئے ہوئے تھے، ان کے محبوبہ کے مطابق چے گویرا اور فیڈل کاسترو ساری رات انقلاب سے متعلق باتیں کرتے تھے۔

چند سال بعد سمندری راستے کے ذریعے ایک پرانی کشتی میں چی گویرا اور اپنے بھائی راول کاسترو اور اسی کے قریب انقلابیوں کے ساتھ مشرقی کیوبا پہنچ کر سیارا کی پہاڑیوں میں ڈیرے ڈال دیے۔ انہی پہاڑوں سے امریکہ کے لاڈلے بتستا باتستا حکومت کے خلاف پیہم گوریلا وار لڑتے رہے۔ مزاحمت کے ان پرکرب ایام میں ان کے بہت سے انقلابی ساتھی مارے گئے، حتیٰ کہ ایسا وقت بھی آیا کہ کاسترو کے ساتھ صرف انیس انقلابی رہ گئے۔ طویل کوششوں کے بعد سال انیس سو انسٹھ کو بالآخرکاسترو میدان جیت گئے اور بتستا اپنے امریکی آقاؤں کی طرف فرار ہوکر کیوبن صدر سے ایک بھگوڑے بن گئے۔ کاسترو اب ایک قومی ہیرو کے طورپرسامنے آئے، ہوانامیں دس لاکھ لوگوں نے ان کااستقبال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی دن انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے خطاب کے دوران کاسترو نے بتستا کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے ان کے آقاؤں کی خوب خبر لی، کیونکہ ایک دریا پار کرنے کے بعد انہیں اک اور دریا کاسامنا تھا۔ بقول منیر

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو،
میں ایک دریا کے پار اترا تومیں نے دیکھا

ڈکٹیٹربتستا حکومت کے شدید مخالف مائرو کارڈونا وزیراعظم جبکہ کاسترو فوج کے کمانڈر انچیف مقرر ہوئے، بعد میں کارڈونا کے غیر متوقع استعفے کی وجہ سے کاسترو کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنا پڑا۔ وزیراعظم بننے کے کچھ عرصہ بعد کاسترو نے ملک میں کئی اصلاحات شروع کیں، ان اصلاحات کے نتیجے میں انہوں نے کیوبا کے کارخانے، اہم املاک اور خاص کرامریکی اثاثے قومی ملکیت میں لئے، چونکہ کاسترو کا اصل ہدف ہی امریکی معیشت کی بالادستی ختم کرنا تھی، سوکرڈالا۔

انتقام کے طورپر امریکہ نے کیوبائی شوگر کی خرید سے ہاتھ کھینچ لیا اور تیل بھی روک لیا۔ کاسترو کے ان اقدامات کو غریب اور نچھلے درجے کے لوگوں کی خوب حمایت حاصل رہی تاہم مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز، انجینیئرز اور دوسرے پروفیشنلز کاسترو کے ان اقدامات کے مخالف ہوتے گئے، اورپھرکیوبا سے امریکہ کی طرف ماس مائیگریشن شروع ہونے لگا جو کہ کیوبا کے لئے معاشی برین ڈرین ثابت ہوا۔ کاسترو کے ان اقدامات پر تنقید تو ہوتی رہی لیکن امریکی تعاون سے مختلف اینٹی کاسترو گروپس بھی پیدا ہونے لگے۔ سوویت یونین سے مضبوط تعلقات استوار کرکے کاسترو نے کیوبا دفاعی کمیٹی بنائی، سوویت حکومت سے تیل خریدنے اور شوگر دینے کے معاہدے کیے۔ اور پھر وہ وقت بھی آیا جب غضب کی آگ میں جلتے امریکی صدر آئزن ہاور نے کیوبا سے مکمل طور پر سفارتی تعلقات کا بھی خاتمہ کیا۔

انیس پینسٹھ کو کاسترو نے کیوبا کمیونسٹ پارٹی تشکیل دی اور ملک کو ایک سوشلسٹ ریاست ڈکلیئر کردیا۔ ان کی حکومت کو گرانے کے لئے امریکہ نے اپریل انیس اکسٹھ کو ہزاروں جلاوطنوں کے ذریعے کیوبا پر دھاوا بول دیا جسے سخت جاں کیوبن فوج نے ناکامی سے دوچار کیا۔ امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ فابیان ای سکلانتے کے مطابق فیڈل کاسترو کو کم ازکم 638 مرتبہ قتل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بچ نکلے۔ سخت جاں کاسترواور ان کے انقلابیوں کی انقلاب کے طفیل کیوبا آج دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں زندگی کے بنیادی وسائل کے حصول کے لئے عوام کو نہ تو گونا گوں آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور نا ہی تیسری دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح غریبوں کا استحصال ہوتا ہے۔ جہاں بجٹ خسارے سے ہمہ وقت بچ پاتا ہے، جہاں شرح خواندگی ستانوے اورننانوے کے درمیان ہے، جہاں تعلیم اورصحت مفت، جہاں ننھے منھے بچوں کی اموات کی شرح ہزار میں چھ فیصد سے کم ہے۔ جہاں بے روزگاری نام کی کوئی چیز نہیں اور شکم کی آگ بجھانے کے لئے لوگ جسم فروشی پر مجبور ہوتے ہیں اور نا ہی بھیک مانگنے کا سوچتے ہیں۔

امریکی سامراج کی بالادستی سے نبرد آزما کاسترو کہا کرتے تھے کہ ’’جب تک انسان کا خوں چوسنے والا سامراج باقی رہے گا، اس وقت تک حریت اور آزادی کے متوالے ان کے خلاف مزاحمت کرتے رہینگے اور ہم ان کے پشت پر ہوں گے ‘‘۔ کیوبا میں ایک بڑی تبدیلی لانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر دینے والے کاسترو اگرچہ ستاون سال تک حکمران رہے لیکن شاہانہ زندگی کی انجوائے منٹ سے آخری دم تک گریزاں رہے۔ ذاتی ملکیت رکھی اور نہ ہی عوام کے حقوق کے مقروض اور سرکاری خزانے کے سارق ثابت ہوئے البتہ موروثیت ان پربھی غالب رہی کیونکہ چاردہائیوں سے زیادہ اقتدار میں رہنے کے باوجود کیوبا کی حکمرانی کے لئے اپنے ہی بھائی کاانتخاب کیا جو یقیناً انقلابیوں کا شیوہ نہیں۔ زندگی کے آخری دنوں تک امریکی پالیسیوں کے شدید ناقد رہے، دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی نام نہاد جنگ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے اسی وقت کے صدر بش کی پالیسیوں کو فراڈ اور دوغلے پن سے تعبیر کیا۔ طویل علالت کے بعد گزشتہ ہفتے ان کی انتقال کی خبر نے مجھ سمیت ہزاروں امریکی سامراج مخالفین کو شاید اس لئے سوگوار کردیا کہ کاش سامراج کو تگنی کا ناچ نچانے والے کچھ دن کے لئے اور زندہ ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words