گاڑی کی مرمت میں دنبوں کا کردار


\"husnain

خدا کے فضل سے آج تک جتنی بھی گاڑیاں خریدیں نقصان اٹھایا۔ بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے میں جو مزا ہے وہ فائدوں میں کہاں نظر آئے گا۔ جب یہ گاڑی لی تو معلوم ہوا کہ صرف چوہتر ہزار کلومیٹر چلی ہوئی ہے۔ بہت خوشی ہوئی کہ بھئی کبھی تو اچھا سودا ہوا۔ کچھ دن بعد دھوپ روکنے کو سن وائزر کھولا تو اس پر تیل بدلنے کی آخری تاریخ اور کلومیٹر لکھے ہوئے تھے۔ ان میں اور گاڑی کی موجودہ میٹر ریڈنگ میں صرف دو لاکھ کلومیٹر کا فرق موجود تھا۔ عجیب سا اطمینان محسوس ہوا کہ اس بار بھی معمول سے ہٹ کر کچھ نہیں ہوا، اسلاف کی آن سلامت رہی، ایمان بچ گیا مرے مولا نے خیر کی!

ویسے گاڑی بہترین تھی۔ ہموار ڈرائیو، آرام دہ سیٹ، اچھا اے سی، اچھے سپیکر، چلتا ہیٹر، مزید کیا چاہئیے، تو چلتی رہی۔ ایک ماہ بعد گرمیوں کی ایک دوپہر تھی، ماڈل ٹاؤن کی وہ سڑک تھی جس پر داستان سرائے موجود ہے، اچھا خاصا چلتے چلتے دو جھٹکے لگے اور گاڑی کی رفتار ایک دم آہستہ ہو گئی۔ یوں سمجھ لیجیے جیسے کسی نے گلا گھونٹ دیا ہو۔ رفتار بڑھائی، نہیں بڑھی، گئیر نکالا، چھوٹے گئیر میں کی، پھر بھی ویسے ہی، کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ سائیڈ میں کھڑی کی اور بونٹ کھول کر جائزہ لینا شروع کیا۔ نہ اس دن سے پہلے کوئی علم تھا انجن کے بارے میں نہ آج ہے۔ تو وہ جائزہ ایسے ہی ختم ہوا جیسے قدیم مصری زبان میں لکھی کتاب کھول لی جائے اور دو صفحے پلٹ کر بہ صد احترام بند کر دی جائے۔ دوبارہ سٹارٹ کی اور قریب ترین مکینک کی دکان کا ارادہ کیا۔ وہ دکان اتفاق سے اسی کمپنی کی دکان تھی جس کمپنی کی گاڑی ہے۔ بہت مشکل سے جگہ ملی، وہ کہتے تھے نیچے لے جائیں، گاڑی بتاتی تھی کہ صاحب نیچے گئی تو دوبارہ اوپر نہیں آنے والی، جو اندازے لگوانے ہیں یہیں لگوا لیجیے۔ یونیفارم میں ایک صاحب آئے، چابی لے کر انجن سونگھا اور بتا دیا کہ ڈاؤن ہے۔ ڈاؤن سمجھیے بیڑہ غرق ہے۔ پورا انجن بدلے گا، خرچہ ان کے الفاظ میں اتنا تھا جس میں تین نئی جاپانی موٹر سائیکلیں آ جاتیں۔

چیل کے گھونسلے میں ماس، فقیر کی جھونپڑی میں ہیرے جواہرات اور گفتار کے غازیوں کی جیب میں روپے کبھی نہیں ملیں گے۔ گاڑی بڑھائی، جیسے تیسے لے جا کر ایک اور مشہور مستری کو دکھائی، وہی خرابی انہوں نے بھی بتائی۔ خرچہ اتنا بتایا کہ دو موٹر سائیکلوں کے برابر تھا۔ تسلی ہوئی کہ دو چار دکانیں اور دیکھی جائیں شاید مزید کم پر بات بن جائے۔ اب دس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر دو تین اور مستری دیکھے۔ خرچہ تقریبا یہی نظر آیا۔ مایوسی بڑھ رہی تھی۔ واپسی کا ارادہ کیا۔ اگلے دن ایک ضروری کام سے نکلنا تھا، لمبا سفر تھا، کافی سوچا کیا ہو گا، کیسے ہو گا۔ چلتے چلتے ایک سڑک پر بورڈ نظر آیا جو کسی گاڑیوں کی ورک شاپ کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ کچا راستہ تھا جو اس دکان تک جاتا تھا۔ مغرب کا وقت تھا۔ آخری کوشش کے چکر میں گاڑی اتاری اور وہاں لے جا کر کھڑی کر دی۔

باہر نکل کر جو دیکھا تو وہ ورک شاپ کم اور گاؤں دیہات کا ڈیرہ زیادہ لگتی تھی۔ داخل ہوتے ہی کونے میں ایک کمرہ ہے جس میں دو جگہیں داخل ہونے اور نکلنے کے لیے موجود ہیں، دروازے ان میں نہیں ہیں۔ ساتھ ایک غسل خانہ ہے، دروازہ لگا ہوا ہے، باقی ایک کھلا سا صحن کہہ لیجیے۔ وہاں دو بڑے سے درخت ہیں، نیچے دو تین چارپائیاں پڑی ہیں۔ گاڑیوں کے سپئیر پارٹس ہر جگہ دکھائی دیں گے۔ پیچھے دنبے اور بکرے بندھے ہیں۔ مرغیاں گھوم رہی ہیں، خرگوش بھی ایک کونے میں دبکے ہوئے ہیں، دیوار پر ایک مور چل رہا ہے۔ کوئی بلی کہیں سے آئے گی تو اپنا ہی گھر سمجھ کر وہ بھی پیر پسار لے گی۔ کچی اینٹوں کے فرش پر تازہ چھڑکاؤ ہوا ہے، مٹی کی خوشبو ہے ساتھ پیٹرول کی بھی مکس ہوئی جاتی ہے۔ دو تین دوست یار بیٹھے ہیں۔ سگریٹ کھینچے جا رہے ہیں۔ عین پیچھے مسجد کا مینار ہے جہاں سے اذان کی آواز سپیکر سے نکلتی ہے اور پورے ماحول پر چھا جاتی ہے۔ مستری صاحب اکیلے ایک گاڑی کے ساتھ لگے ہیں، فارغ ہوتے ہیں، ادھر آتے ہیں۔ پورے دن کی بار بار سنائی گئی کہانی ان کے سامنے دہرائی جاتی ہے، وہی جواب ملتا ہے۔ انجن ڈاؤن ہے۔ اب کے لیکن ایک کام اچھا ہوتا ہے، جو قیمت مرمت کی بتائی جا رہی ہے وہ بس اتنی ہے کہ اس میں ایک جاپانی موٹر سائیکل بھی پوری نہیں آتی۔ اتنے پیسے موجود ہیں۔

کام کب شروع ہو گا؟ \"sheep-3\"
ابھی
کون کرے گا بھائی؟
سر جی میں خود اور یہ میرا بھائی، یہ فلاں کمپنی کا مکینک ہے
کل صبح گاڑی چاہئیے ہو گی یار
مل جائے گی
انجن کہاں سے آئے گا اب رات میں؟
بلال گنج سے سر جی
بسم اللہ استاد۔

انجان مستری پر اعتماد کرنے کو دل مان جاتا ہے۔ اس میں بہت سا ہاتھ ان دنبوں، خرگوشوں اور مور وغیرہ کا بھی ہے۔ شعیب صاحب موٹرسائیکل بھگا کر جاتے ہیں اور دو گھنٹے میں انجن کا وہ حصہ جو بدلنا تھا وہ لیے چلے آتے ہیں۔ گاڑی کا انجن زنجیروں میں جکڑ کر چرخی کی مدد سے نکالا جاتا ہے، ایک دو لوگ اور بھی آکر ساتھ لگ جاتے ہیں، انجن نکلتا ہے تو مالک کو نیند آ جاتی ہے، وہ سونے کے لیے گھر چلا جاتا ہے، تمام رات کام ہوتا ہے، صبح دس بجے گاڑی واپس مل جاتی ہے۔ شعیب صاحب اس دن سے مستری اعلی قرار پاتے ہیں۔ خاور کی گاڑی بھی وہیں جاتی ہے لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔

اس کے بعد کئی مرتبہ گاڑی کی مرمت کے لیے جانا ہوا۔ پہلا اور آخری دن تھا جب شعیب نے کمانڈو پھرتی دکھائی تھی۔ اب آدمی جانے سے پہلے فون کرے کہ بھئی گاڑی لا رہے ہیں، تیل پانی بدلنا ہے، تمام چیزیں پہلے ہی منگوا کر رکھ لیں تو بہتر ہے۔ گاڑی پہنچے گی، شعیب صاحب آئیں گے۔ ملاقات ہو گی، پھر وہ شاگرد کو آواز دیں گے اور مطلوبہ چیزیں منگانے کا بندوبست کریں گے۔ اس دوران گول گپے والا آ جائے گا۔ پوری ریڑھی آپ کو آفر کر دی جائے گی، خود کھڑے ہوں، بنائیں کھائیں، جو مرضی کریں۔ اچھا بھئی، زندگی کا مزا تو کھٹے میں ہی ہے، بسم اللہ۔ وہ نہیں آئے گا تو لسی کہیں سے آ جائے گی، کھانے کا وقت ہے تو کھانا پہنچ جائے گا، کچھ نہیں تو بوتل یا چائے مگر وہ بندہ نہیں آئے گا جو تیل یا مطلوبہ پرزہ لینے گیا ہے۔ کھا پی کر فارغ ہوں، چارہائی پر لیٹ کر آسمان کو پندرہ بیس منٹ دیکھیں تو اچانک سواری کی آواز کانوں میں آئے گی اور وہ شاگرد سامان لیے پہنچ جائے گا۔ اب وہ شعیب کو ڈھونڈے گا لیکن وہ غسل خانے میں ہوں گے۔ انہیں گرمی لگی تو وہ اس وقفے کا فائدہ اٹھانے کے لیے نہانے چلے گئے۔ شاگرد گاڑی سے لگ جائے گا، کام شروع ہو چکا ہے، کم از کم ایک گھنٹہ گذر گیا ہے۔

شعیب صاحب باہر آئیں گے، فٹافٹ گاڑی کی طرف لپکیں گے اور کام شروع کر دیں گے۔ کام کرتے کرتے اچانک کوئی لیلا (دنبہ) آواز لگائے گا اور وہ ماں صدقے کہتے ہوئے ادھر بھاگ جائیں گے۔ دراز میں سے بادام نکالیں گے، تھوڑی کشمش مکس کریں گے، دنبے کو اپنے ہاتھ سے کھلا کر، اس کا منہ چوم کر واپس آئیں گے اور کام دوبارہ شروع ہو گا۔ اتنی دیر میں شاگرد اپنی حد تک کام کر چکا ہو گا اب بس شعیب کا فائنل ٹچ باقی ہے۔ کام شروع ہو گا اور تھوڑی دیر میں اندھیرا ہو چکا ہو گا۔ اب شعیب موبائل کی ٹارچ آن کریں گے، اسے منہ میں دبائیں گے کہ ایک دنبہ پھر آواز دے گا۔ وہ بھاگے بھاگے جائیں گے ان سب کی زنجیر کھولیں گے، آزاد کر کے پھر آ جائیں گے۔ موبائل کی روشنی میں کام جاری ہو گا کہ وہ ساتھ آ کر کھڑے ہو جائیں گے۔ اب ایک شعیب ایک شاگرد اور چار دنبے گاڑی کو ٹھیک کرنے میں پوری دلچسپی رکھتے ہوں گے۔

اچانک ساتھ والے پلاٹ سے چند خانہ بدوش خواتین پانی بھرنے آ جائیں گی۔ شعیب پھر اٹھیں گے، موٹر کا بٹن آن کر کے واپس آ جائیں گے۔ پانچ منٹ بعد اسے بند بھی کرنا ہے۔ ابھی بیٹھے ہوں گے کہ وہی دانتوں میں پکڑا فون بج پڑے گا۔ اب شعیب صاحب کونا ڈھونڈیں گے یا کھڑے کھڑے بات ختم ہو جائے گی۔ کونا ڈھونڈنے پر کس کافر کو اعتراض ہے، بھئی ہر ایک کا حق ہے اور جس کی شادی نہ ہوئی ہو اسے تو سجتا بھی بہت ہے۔

تو گاڑی کا ایک آدھ پرزہ ابھی باہر ہے۔ ایک دفتر سے اور دو فون گھر سے آ چکے ہیں۔ واپسی پر دہی، ڈبل روٹی، انڈے، مکھن، توت سیاہ اور چائے کی پتی لے کر جانا ہے، لیکن شعیب کی جانے بلا، کام ہو تو رہا ہے، اور کتنا تیز ہو؟

اؤ یار شعیب کب تک ہو جائے گا کام
سر جی اللہ دی مرضی
یار میں دربار تے نئیں آیا ورکشاپ ہیگی اے، آپ دس میرا ویر کدوں تک ہوئے گا؟
سر جی بس ہو گیا

کام کرتے کرتے شعیب کو اچانک کچھ یاد آتا ہے، اندر جاتے ہیں، دراز سے کیلا نکال کر پہلے انتہائی خلوص سے آفر کرتے ہیں، آپ کھائیں یا نہ کھائیں، آپ کی مرضی۔ اس کے بعد دنبوں کو جا کر کیلے کھلائیں گے، پھر کام ختم کرنے کے لیے شروع کر دیں گے۔ کام ختم ہو جائے گا لیکن چارپائی پر لیٹ لیٹ کر ہڈ حرامی اپنا مرید کر چکی ہو گی۔ اب بس بندہ گھر پہنچے، ٹانگیں سیدھی کرے، باقی ستے خیراں! اکثر مناسب سے پیسے بتائیں گے۔ کبھی کبھار پیسے زیادہ لگیں گے مگر کام بہرحال اچھا ہوا ہو گا۔

وہ چاروں دنبے اس عید پر شعیب نے قربان کر دیے۔ اب کی بار ایک نیا بکرا اکیلا وہاں موجود تھا۔

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “گاڑی کی مرمت میں دنبوں کا کردار

  • 06/12/2016 at 8:37 شام
    Permalink

    Bakra :p

Comments are closed.