چنوا اچیبے: وطن اور جلاوطنی (6)


\"nasirجس زمانے میں ایلزپتھ ہکسلے اپنی کتاب White Man\’s Country شایع کر رہی تھیں، انھی دنوں، لندن سکول آف اکنامکس و پولیٹیکل سائنس کے ممتاز پروفیسر برونسلا میلنوسکی کے شاگرد جومو کینیاتا اپنے ہم وطن گیکیوا لوگوں سے متعلق اپنا مقالہ Facing Mout Kenya شایع کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ جومو کینیاتا نے اپنی کتاب میں گوروں اور کالوں کے تعلق سے ایک مختصر حکایت بہ عنوان ’جنگل کے شرفا‘ شامل کی، جو دراصل ایک سیاسی طنز ہے۔ یہ حکایت، ہکسلے کا جواب ہے۔ یہ حکایتِ دلپذیر سننے سے تعلق رکھتی ہے۔

ایک آدمی نے اپنے دوست ہاتھی کو بارش میں بھیگتے دیکھا تو اسے اپنی جھونپڑی میں سونڈ دھرنے کی اجازت دے دی۔ ہاتھی نے آدمی کی منشا اور احتجاج کو بالاے طاق رکھتے ہوئے، رفتہ رفتہ اس چھوٹی سی جھونپڑی میں اپنے جسم کے باقی حصوں کودھکیلنا اور آرام پہنچانا شروع کردیا، یہاں تک کہ ہاتھی چھونپڑی میں آدمی اس سے باہر تھا۔ دونوں میں فساد کی خبر پاتے ہی جنگل کا بادشاہ آن پہنچا۔ اس نے فی الفور ایک شاہی کمیشن بٹھایا کہ آدمی کی شکایت کی تحقیق کرے۔ لیکن اس کمیشن میں عزت مآب ہاتھی کی کابینہ کے ارکان شامل تھے، جیسے جناب گینڈا، جناب بھینسا، اورعزت مآب روباہ کمیشن کی سربراہ تھیں۔ کمیشن ہاتھی اور آدمی \"Chinuaدنوں سے ملا؛ مگر صرف ہاتھی کو گواہ پیش کرنے کی اجازت دی۔ یہ گواہ لگڑ بگا تھا۔ آدمی کی گواہی اس لیے نہ سنی گئی کہ اس نے خود کو متعلقہ حقائق کے بیان تک محدود نہیں رکھا تھا۔ کمیشن نے اپنا فیصلہ سنانے سے پہلے وقفہ کیا اور اس وقفے میں ہاتھی کی ضیافت میں

  شرکت کی۔ کمیشن نے فیصلہ دیا کہ آدمی کی چھونپڑی میں خالی جگہ موجود تھی اور ہاتھی جائز طور پر یہ خالی جگہ اپنے مصرف میں لایا؛ ہاتھی کا یہ عمل آخر لامر آدمی کے لیے اچھا تھا۔ کمیشن نے آدمی کو اجازت مرحمت کی کہ وہ کوئی ایسی جگہ تلاش کر لے جو اس کے لیے زیادہ مفید ہو اور وہاں جھونپڑی تعمیر کر لے۔ اپنے طاقت ور پڑوسیوں کی دشمنی سے ڈر کر آدمی نے یہ فیصلہ قبول کر لیا۔

آدمی نے جو اگلی جھونپڑی بنائی، اسے جناب گینڈے نے ہتھیا لیا اور اس کی چھان بین کے لیے ایک اور شاہی کمیشن بٹھایا گیا۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ جنگل کے تمام بڑے آدمی کی بنائی ہوئی چھونپڑیوں میں بس گئے۔

بالآخر جب آدمی کو یقین ہو گیا کہ اسے جانوروں اور ان کے شاہی کمیشنوںسے انصاف نہیں ملے گا تو اس نے معاملات خود اپنے ہاتھوں میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کہا :کوئی شے ایسی نہیں جو زمین کو کچلتی ہو اور اسے چھل جھانسے سے پھانسا نہ جا سکے یا دوسرے لفظوں میں آپ کسی کو ایک وقت میں بے وقوف بنا سکتے ہیں، ہمیشہ کے لیے نہیں۔ چناں چہ اس نے اپنی تدبیر پر عمل کرنا شروع کیا۔ اس نے ایک عظیم الشان چھونپڑی تعمیر کی۔ حسب توقع جنگل کے تمام جانور اس پر قبضے کی خاطر دوڑے۔ جب وہ لڑ رہے تھے تو آدمی نے جھونپڑی کو اآگ لگا دی۔ جھونپڑی مع جنگل کے تمام شرفا کے خاکستر ہوگئی۔ تب آدمی یہ کہتے ہوئے اپنے گھرکی طرف چل پڑا کہ امن مہنگا ہے مگر اس کی قدر، لاگت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ خوش و خرم جیا۔\"Chinua

 یہ حکایت نو آبادیاتی تاریخ اور اس کے سلسلے میں مقامی لوگوں کے ردّعمل کی تمثیل بھی ہے۔ جومو کینیاتا کے پاس زندگی کا متنوع تجربہ تھا؛ وہ ایک معمولی گھریلو ملازم رہا، ایک گورے کا باورچی رہا؛ سٹور کلرک رہا؛ اور ایک ممتاز یورپی ادارے میں ایک نامور ماہر بشریات کا طالب علم رہا اور ایک پر جوش قوم پرست بنا؛ جیل کاٹی اور سفید فاموں کے مظالم سہے۔ اس حکایت کے ذریعے اس نے نہ صرف افریقی استعمار زدگی کابیانیہ وضع کیا بلکہ استعماریت سے عہد برا ہونے کا وژن بھی خلق کیا جو ایک پر تشدد تدبیر سے عبارت ہے۔ لہٰذا یہ اتفاق نہیں کہ وہ 1963 میں نو آزاد ملک کینیا کا پہلا وزیراعظم بنا۔ اچیبے اس کہانی کو سفید فاموں کی افریقا سے متعلق کہانیوں کے مقابلے میں افریقیوں کی اپنے لیے ایک جوابی کہانی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ (گو اچیبے اس طرح کے تشدد میں یقین رکھتے محسوس نہیں ہوتے جو مذکورہ طنزیے میں موجود ہے )۔ یہ اور دوسری کہانیاں، اچیبے کے اس یقین کو مزید پختہ کرتی ہیں کہ نو آبادیاتی قبضے کو جائز ثابت کرنے کی خاطر گھڑی گئی کہانیوں کے اثر کو کھنڈانے کا حل مقامی کہانیاں ہی ہیں۔ مقامی کہانیاں اس مقامی وجود کو گویا بنانے کی کوشش ہیں، جنھیں یورپی بیانیوں میں خاموش رکھا گیا۔ اس عمل کو وہ کہانیوں کے ذریعے حساب چکانا (Balance of Stories ) اور سلمان رشدی کے لفظوں میں The Empire Writes Back کہتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ ایک ضرب المثل کا حوالہ دیتے ہیں کہ جب تک شیر خود اپنے مورّخ پیدا نہیں کرتے، تب تک شکار کی کہانی، شکاریوں کی عظمت کے گن گاتی رہے گی۔ اچیبے کی اپنی کہانیاں اس ضرب المثل کی عملی تفسیر ہیں۔\"chinua-achebe-related\"

اپنے مورّخ اور اپنے کہانی نویس پیدا کرنے کا عمل صرف اپنے گم شدہ اور مسخ شدہ ثقافتی وجود کی باز یافت نہیں، بلکہ اپنے ثقافتی ضمیر کی تشکیل نو ہے۔ دوسرے لفظوں میں جوابی کہانیاں، محض پرانی کہانیاں نہیں جنھیں انگریزی، فرانسیسی یا اپنی مقامی زبان میں لکھا گیا ہو۔ اگرچہ ایک حد تک اچیبے کے خیالات سے یہ گمان ضرور گزرتا ہے۔ اس کا سبب افریقی نو آبادیات ہے۔ برصغیر کے برعکس افریقا میں مقامی لوگوں کو غلام بنایا گیا، ان سے زمینیں ہتھیا کر، انھیں بے دخل کر کے وہاں گوروں کو بسایا گیا۔ نیز افریقا میں تعلیم، سیاست، شہری تنظیم کے وہ ادارے نہیں تھے جو انگریزوں کے آنے سے پہلے برصغیر میں موجود تھے۔ محمود ممدانی کے بہ قول نو آبادیاتی مورخوں نے دراصل دو حاشیے کھینچے تھے۔ ”ایک ظاہر اور دوسرا پوشیدہ۔ افریقا کو اس حاشیے پر رکھا گیا جو پوشیدہ تھا۔ “(اچھا مسلمان، برا مسلمان، ترجمہ سہیل ہاشمی، قمر آزاد ہاشمی، ص 30)۔ محمود ممدانی ییل یونیورسٹی کے کرسٹوفر ملر کا حوالہ بھی دیتے ہیں جس کے مطابق یورپی تاریخوں میں افریقا کو ”ایک خالی اندھیرا“ لکھا گیا، کیوں کہ یہاں سے نہ تو عظیم تحریریں ملیں نہ قدیم و عظیم عمارات۔ اس کے لیے مصر و حبشہ کو افریقی شناخت کے بیانیے سے باہر رکھا گیا۔ بلاشبہ افریقا (مصر کے بغیر بھی) ایک حقیقی، زندہ مقامی ثقافت کا حامل تھا؛ اس کے پاس اپنی کہانیاں تھیں اور زندگی، سماج، خدا، کائنات سے متعلق سارا فلسفہ انھی میں مضمر تھا۔ سائنس و فلسفے کی روشن روایت کی بنا پر تفاخرپسند یورپ کے لیے یہ کہانیاں ”ایک خالی اندھیرا“ ہوں گی، مگر افریقیوں کے لیے ان میں وہ ساری روشن بصیرت مضمر تھی جو اپنے طریقے سے زندگی بسر کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر اچیبے کہانیوں کو ردّنوآبادیات کو مﺅثر ہتھیار قرار دیتے ہیں تو وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ یہ کہانیاں خود پر مسلط کردہ حاشیائی مقام کے خلاف احتجاج ہیں۔ جو ثقافت کہانیاں تخلیق کر سکتی اور ان میں اپنی حیات اجتماعی کا وژن سمو سکتی اور اس وژن کو اپنی زندگی کی راہ نما بنا سکتی ہے، اس کے لیے ایک تاریک حاشیے کا تصور پرلے درجے کی بد مذاقی ہے۔ بایں ہمہ نہ تو اچیبے نے، نہ دوسرے افریقی مصنفین نے قدیم افریقی کہانیوں کاان کی قدیمی ہیئت کے ساتھ احیا کیا؛ انھوں نے افریقا سے متعلق ناول لکھے اور اپنے مضامین میں قدیم اساطیری و نیم تاریخی کہانیوں کی تعبیرِنو کی۔ ان کے ناولوں کا موضوع افریقا ہے؛ اس کی قبل نو آبادیاتی، نو آبادیاتی اور بعد از نو آبادیاتی تاریخ و ثقافت \"130523203\"ہے۔ یہ ناول اکثر ان لوگوں نے لکھے جو جلا وطن تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ جلا وطنی سابق ایشیائی و افریقی نو آبادیاتی ممالک اور مغرب کے متعدد ادیبوں کا مسئلہ ہے۔ اگرچہ نو آبادیاتی ملکوںاور یورپ کے ادیبوں کی جلا وطنی کے اسباب مختلف ہیں، مگر ایک بات ان میں مشترک نظر آتی ہے کہ ان کا وطن ان کی تحریروں میں ایک قسم کی ’آرکی رائٹنگ‘ کی صورت موجود ہے؛ گھر واپسی یعنی Home Coming کی آرزو سے ان کے تخیل میں ایک الاﺅ سا روشن رہتا ہے۔ وہ ایک اجنبی ملک کا آب و دانہ کھاتے ہیں، مگران کی روح کے چاک پر اس مٹی سے نئی نئی صورتیں خلق ہوتی رہتی ہیں جہاں ان کی آنول نال گڑی ہوتی ہے۔ جدائی اور کھوئی ہوئی جنت کا احساس، جلاوطنی کا عمومی جذباتی تجربہ ہے۔ ظاہر ہے یہ تجربہ خود اپنے وطن میں رہنے بسنے کے تجربے کی نقل ہے، نہ اس کے مماثل۔ وطن کے جنت ہونے کا ادراک، وطن میں نہیں جلا وطنی میں ہوتا ہے۔ لہٰذا جلا وطنی ایک ایسا تناظر ثابت ہوتی ہے جو وطن کا ایک نیا معنی روشن کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جلا وطنی میں یادداشت کے ملبے سے، اگر ایک طرف وطن کی نرول بازیافت ہوتی ہے، خاص طور پر وطن کے اس تصور کی جسے مسخ کیا گیا ہوتا ہے، تو دوسری طرف ایک جنت نما وطن کے تصور کی تشکیل بھی ہوتی ہے۔ جلا وطن ادیب کا تخیل صرف ماضی کے مانوس خطے ہی میں نہیں پہنچتا، ایک مثالی خطے کا منفرد تصور بھی تخلیق کرتا ہے۔ (تاہم یہ بات ان ادیبوں پر صادق نہیں آتی جو اپنے چھوڑے ہوئے گھر کو استعمار کی نظر سے دیکھتے اور اسے پس \"0076480\"ماندہ، غیر ترقی یافتہ اور توہمات میں لپٹی ایک تلخ حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں)۔ جلا وطن ادیب اکثر زبان ِ غیر میں اپنی کہانی لکھتے ہیں۔ اس سے ان کے یہاں دوری اور قربت، اجنبیت اور مانوسیت، کے متضاد احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ مگر یہی وہ تضاد اور پیرا ڈاکس ہے جس سے ان اکا ادب اپنی خاص معنویت حاصل کرتا ہے۔ تاہم چوں کہ یورپی اور ایشیائی و افریقی ادیبوں کے وطنگھر کی تاریخ الگ الگ ہے، اس لیے انھوں نے اپنے وطن کی طرف واپسی کے تجربے کو اپنی تحریروں میں الگ طور پر پیش کیا ہے۔ نو آبادیاتی ممالک کے جلا وطن ادیب، اپنے وطن کا تصورنو آبادیاتی تجربے کے بغیر نہیں کرتے؛ وہ ایک طرف اس تجربے کو اپنے وطن کی جنت کے غارت کرنے کا سبب قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف یہی تجربہ انھیں اس جنت کی تخیلی بازیافت کی زبردست تحریک بھی دیتا ہے۔ یہاں پہنچ کر ہم یہ سمجھنے کے قابل ہوجاتے ہیں کہ چنوا اچیبے نے آخر اپنے خطبات کا عنوان وطن اور جلا وطنی کیوں رکھا؟صرف ا س لیے نہیں کہ وہ امریکا میں مقیم ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ انگریزی میں لکھنے، انگریزی ادبیات کی تدریس میں مشغول رہنے کی بنا پر وہ ذات کی سطح پر بھی جلا وطنی کا تجربہ کر رہا ہے۔ اپنی کہانی کسی اور کی زبان میں لکھنا، خاص طور پر اس زبان میں جس کے ادبیوں کی ایک بڑی تعداد نے زخم بھی دیے ہوں، اپنے وطن سے ایک اور طرح کی جدائی اور کھوئے ہونے کا احساس پیدا کرتی ہے۔ یہ گھر واپسی کی ایک ایسی اوڈیسی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ کیا کوئی ایسی جلا وطنی ہے جو وطن کی جنت کی یاد دل سے مٹا دے!

(ختم شد)

Facebook Comments HS