امریکہ کی مدد سے جن تنظیموں کو تربیت دی وہی ہم پر حملہ آور ہو گئیں : سرتاج عزیز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"sartaj

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں اشرف غنی کا لہجہ نریندر مودی سے ملاقات کے بعد بدل گیا جو میرے لئے بھی حیران کن تھا ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کے بعد پہلے نجی ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغان صدر نے نریندر مودی سے قبل جب میرے ساتھ ملاقات کی تو بہت اچھی رہی اشرف غنی نے پاکستان کی امداد پر مثبت گفتگو کی مگر مودی سے ملاقات کے بعد کانفرنس میں انکا لب ولہجہ حیران کن تھا۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت نہ کتے تو بھارت کو فری ہینڈ مل جاتا بھارت کے رویے نے سارک پلیٹ فارم کو بھی نقصان پہنچایا ہے پاکستان کی کانفرنس میں شرکت کو تمام شرکا نے سراہا بھارت دہشتگردی کے نام پر پاکستان کو بدنام کرنا چاہتا ہے حالانکہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ پاکستان نے ہی قربانیاں دی ہیں جسے پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ خیال تھا کہ اس دورے سے پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کم ہوگی۔ امرتسر میں مجموعی طور پر میرے ساتھ اچھا رویہ رکھا گیا میڈیا سے بات کرنے سے روکنا بھارتی میڈیا کی سٹریٹجی تھی دہشتگردی کو روکنے کے لیے بارڈر مینجمنٹ ضروری ہے۔ گذشتہ کچھ ماہ افغانستان میں حالات ابتر ہوئے ہیں امریکہ کی مدد سے جن کو تنظیموں کو تربیت دی وہ پاکستان پر ہی حملہ آور ہوئیں ہم نے ہزاروں غیر رجسٹرڈ مدارس بند کئے۔ انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو پکڑا۔ چین اور روس نے امن کیلئے پاکستان کے کردار کو ناگزیر قرار دیا ہے کانفرنس اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے بھارت چاہے تو قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات ہو سکتی ہے ۔ مسئلہ کشمیر پر ایران کی ثالثی کی پیشکش کو خوش آمدید کہتے ہیں جو بھی ملک اس میں حصہ لینا چاہے ہم خوش آمدید کہیں گے اس سے پہلے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے بھی پیشکش کی تھی۔ بھارت نے کبھی ثالثی کی بات منظور نہیں کی اور کہتا ہے کہ کشمیر دوطرفہ ایشو ہے اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بات چیت آگے نہ بڑھے تاہم بھارت مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر مذاکرات بلاک ہو چکے ہیں عالمی برادری مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا کرے۔ ایران کی جانب سے ثالثی کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر بھارت آمادہ نہیں۔ دریں اثناءترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ عالمی پابندیوں کے باوجود کبھی افغانیوں کا ساتھ نہیں چھوڑا افغانستان میں ہر صورت قیام امن کے حق میں ہیں نفیس زکریا نے کہا کہ امرتسر میں جو کچھ ہوا اس کا بخوابی اندازہ تھا۔انہوں نے کہا کہ نوجوان مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کریں مسئلہ کشمیر پر عالمی رہنما¶ں تک سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام پہنچائیں کشمیر مبں بھارتی جارحیت پر اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان مسئلہ کشمیر کو عالمی رہنما¶ں تک بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچائیں۔ گزشتہ 5 ماہ میں ہم نے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھایا۔ گزشتہ 5 ماہ میں ہم نے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اٹھایا ہے ہر دو طرفہ مذاکرات میں ہم نے کشمیر کی بات کی ہے بھارت کبھی لائن آف کنٹرول کبھی ورکنگ با¶نڈری کو گرم کر رہا ہے کشمیر میں ڈیمو کرافک تبدیلی لائی جا رہی ہے کشمیر ہمارے دل میں بستا ہے۔کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کم ہو کر 68 فیصد رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سامنے مقبوضہ کمشیر میں بھارتی مظالم کے ثبوت پیش کئے ہیں مقبوضہ کشمیر میں آج تک 18 اجتماعی قتل کے بڑے واقعات ہو چکے ہیں حریت رہنما¶ں کو نظر بند کرنے کی مذمت کرتے ہیں مقبوضہ کشمیر میں گرفتار کئے گئے افراد سے متعلق تشویش ہے ہم نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ ”فیکٹ فائنڈنگ“ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجے۔ اس موقع پر کشمیری اور حریت رہنما¶ں نے بھی خطاب کیا۔ مشیر خارجہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر پر دوطرفہ مذاکرات بلاک ہوچکے ہیں، ہم چاہتے ہیں ایل او سی پر کشیدگی نہ ہو، بھارت کے ساتھ فی الحال کوئی بریک تھرو نظر نہیں آتا، طالبان کی اصل طاقت افغانستان میں ہے۔ بھارت کے ساتھ معاملات میں فی الحال کوئی بریک تھرو نظر نہیں آتا ،طالبان کی اصل طاقت افغانستان میں ہے، کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی برادری کردار ادا کرے ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو ویزے کی سہولت ملے اور ایل او سی پر کشیدگی نہ ہو، کشمیر پر دوطرفہ مذاکرات بلاک ہو چکے ہیں اس پر عالمی برادری کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اشرف غنی نے جو زبان استعمال کی وہ مستقل نہیں البتہ ہمیں ان کی باتوں پر مایوسی ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •