کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی فوٹیج: سوشل میڈیا پر سیاسی رہنماؤں کے ایک دوسرے پر الزامات، سوشل میڈیا صارفین کی رائے منقسم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر کی گرفتاری سے متعلق گذشتہ روز ایک نئی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اس ویڈیو کے حوالے سے جہاں سوشل میڈیا صارفین کی آرا منقسم ہیں وہیں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی اس بارے میں بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اس فوٹیج کو مسلم لیگ نواز کی غلط بیانی کا واضح ثبوت قرار دے رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ کے رہنما اس پر تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’سویلین بالادستی کا ہزاروں میل کا سفر آج سے شروع ہو چکا‘

آئی جی سندھ کی پولیس افسران سے احتجاجاً چھٹی پر جانے کا اقدام مؤخر کرنے کی اپیل

آئی جی سندھ کا مبینہ ’اغوا‘: بلاول بھٹو کے مطالبے کے بعد آرمی چیف کا تحقیقات کا حکم

چند گھنٹے کا ’پولیس افسر‘:تعریفیں، مبارکبادیں اور پھر گرفتاری

یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیپٹن (ر) صفدر کو 19 اکتوبر کی صبح کراچی کے ایک مقامی ہوٹل سے گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر نعرے بازی کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا اور پیر کو ہی کراچی کی ایک مقامی عدالت نے انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

گذشتہ روز صوبہ سندھ کے محکمہ داخلہ نے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمے اور پولیس کی اعلیٰ قیادت سے ’بدسلوکی اور توہین‘ کی تحقیقات کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی ہے۔

جمعہ کو لاہور میں دھرنے پر بیٹھے بلوچ طلبا سے ملاقات کے بعد مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں کراچی واقعے پر انکوائری کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر چیز بہت واضح ہے۔

ادھر وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل کی فوٹیج سے ان کا جھوٹ منظر عام پر آ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ہم نے نہیں سندھ حکومت نے گرفتار کیا، یہ ایک دوسرے سے ہی مخلص نہیں ہیں۔‘

ویڈیو میں کیا دیکھا جا سکتا ہے؟

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اعوان کی گرفتاری کے لیے کیا گیا آپریشن تقریباً 46 منٹ تک جاری رہا۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس چھ بج کر آٹھ منٹ پر ایک نجی ہوٹل میں داخل ہوتی ہیں۔

صبح چھ بج کر 45 منٹ پر پولیس 15ویں فلور پر آتی ہے جہاں کیپٹن صفدر اور مریم نواز کا کمرہ موجود ہے۔ اس ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ سادہ لباس میں ملبوس ایک شخص ہوٹل لابی میں گھوم رہا ہے اور فون پر کسی سے بات بھی کر رہا ہے۔

اس کے بعد فوٹیج میں کمرے کے دروازے پر زور آزمائی کے مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں لیکن اس میں ان افراد کی شناخت واضح نہیں ہے۔ جس کے کچھ ہی دیر میں کیپٹن صفدر کمرے سے باہر آتے ہیں اور انھیں لفٹ کے ذریعے نیچے لایا جاتا ہے۔

اس دوران ایک کیمرہ مین بھی پولیس والوں کے ہمراہ ہوتا ہے جو یہ لمحات عکس بند کر رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا کیا مؤقف ہے؟

اس ویڈیو پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی مواصلات شہباز گِل کا کہنا تھا کہ میں ن لیگ کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس ویڈیو میں دروازہ توڑنے کی نشاندہی کر دیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ دروازے کا لیچ پولیس کے جانے کے بعد توڑا گیا اور تصویر کشی کی گئی۔۔۔ فوٹیج میں نظر آ رہا کہ پولیس والے کیپٹن صفدر کو عزت و احترام سے بغیر زور زبردستی لے کر جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ رینجرز اس معاملے میں کہیں نظر نہیں آ رہی صرف پولیس گرفتار کر رہی ہے اور ہوٹل کے داخلی راستوں پر رینجرز کی گاڑیاں ویسے بھی 24 گھنٹے حفاظت کے لیے موجود رہتی ہیں۔

’ریاست کے اوپر ریاست کا یہ کھیل اب چھپ نہ سکے گا‘

ادھر پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آواری گیٹ کا شرمناک واقعہ بتاتا ہے کہ کون آئین توڑ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ذمہ داروں کو بے نقاب کرنا دنوں یا گھنٹوں کی نہیں منٹوں کی بات ہے۔ ریاست سے اوپر ریاست کا یہ کھیل اب چھپ نہ سکے گا۔‘

اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایک خاتون کے کمرے میں دروازہ توڑ کر زبردستی گھس آنا جب وہ سو رہی ہو کیا انتقام کی آگ واقعی اتنا اندھا کر دیتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

سوشل میڈیا پر بھی سیاسی رہنماؤں کی طرح صارفین کی آرا بھی منقسم نظر آئیں۔ اسد ملک نامی ایک صارف نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے ہر شہری کی قانون کے مطابق حفاظت لازم ہے۔

میمونہ نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ ایک شرمناک واقعہ ہے جس میں سیلکٹڈ اور سیلیکٹرز کی فاشسٹ ذہنیت واضح ہو رہی ہے اور ان کے نزدیک خواتین کی کوئی عزت نہیں ہے۔

اس حوالے سے ایک اور صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا مدینہ کی ریاست میں بھی خواتین کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا تھا۔ ایک صارف نے لکھا کہ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد انکوائری میں دس دن نہیں دس منٹ لگنے چاہییں۔

تاہم دوسری جانب صارفین کی جانب سے سفید کپڑوں میں ملبوس شخص اور کیمرہ مین کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے اور الزام عائد کیے گئے کہ یہ مسلم لیگ ن سے منسلک افراد ہی ہیں۔

ندا باجوہ نامی ایک صارف نے لکھا کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی اس لیے نہیں ہے کیونکہ قانون صرف غریب کے لیے ہے امیر کے لیے نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16689 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp