مجھے پسند نہیں، بند کر دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”مجھے اچھا نہیں لگا، اسے بند کرو“ یہ جملہ کثرت سے روز مرہ زندگی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ گھر میں ٹی وی دیکھتے ہوئے، کھانا کھاتے ہوئے اور کپڑوں کے انتخاب میں اس کا استعمال بہت عام ہے۔ معمولات زندگی میں بھی ”پسند نہیں، بند کرو“ کی اصلاح سنی جاتی ہے۔ سیاسی میدان ہو یا صحت کا، معاشی ہو یا انٹرٹینمنٹ کا، تعلیمی ہو یا کھیلوں کا میدان ہی کیوں نا ہو، ہر اس چیز کو بند کر دیا جاتا ہے، جو ہمارے ملک کے بڑوں کو پسند نہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، ہر شخص ”پابندی کلچر“ کو فروغ دینے کے لئے کسی نہ کسی چیز کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ جو چیز پسند نہ ہو، اس کو مذہبی، اسلامی اور معاشرتی روایات، رسم و رواج، جمہوریت اور اداروں کے تقدس کے لئے خطرہ قرار دے دو۔ کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا۔ تمام اداروں میں ایک ایسا سامراجی دفتر ہوتا ہے جس کا صرف یہی کام ہوتا ہے کہ وہ نا پسند چیزوں کو بند کر دے۔

انڈسٹری تمام ممالک میں معیشت کا اہم ستون تصور کی جاتی ہے، جس کو چلانے کے لئے کمرشل کا سہارا نا گزیر ہے۔ بند کرنے کی پالیسی کو بروئے کار لاتے ہوئے، ہماری افسر شاہی نے حال ہی میں ایک کمرشل کو اسلامی روایات کے منافی قرار دیتے ہوئے پابندی کا شکار کیا کہ ایک چھوٹے سی چیز کے لئے ”مجرا“ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب اس سامراجی دفتروں کو کون بتائے کہ اس چھوٹی سی بسکٹ انڈسٹری کا 2017 تک 14 ارب کا سیل ریونیو تھا اور مارکیٹ میں 7 بلین روپے لگائے ہوئے تھے۔ اس چھوٹے سے بسکٹ انڈسٹری سے ہزاروں لوگوں کا روزگار ہے، لیکن کیا کریں ان کو کمرشل پسند نہیں تو مجرا قرار دے کر بند کر دیا ہے۔ حالاں کہ ملک میں پوری ایک اسٹیج ڈراما انڈسٹری نظر نہیں آتی۔ صرف انہیں کمرشل ہی ملکی، سماجی اور اسلامی روایات کے منافی دکھائی دیا ہے۔

نا پسند اشیا، اشخاص اور منصوبوں کو پاکستان میں بند کرنے کا مشغلہ 1947ء میں ہی رائج کر دیا گیا تھا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ میں اس کا پہلا شکار کابینہ کے ایک غیر مسلم وزیر خارجہ جوگندر ناتھ منڈل بنے، جو کہ ہندو مذہب کے اچھوت فرقے سے وابستہ تھے۔ اس وجہ سے وہ ہماری کابینہ افسر شاہی کو پسند نہ آئے اور ان کو مجبوراً انڈیا میں ہجرت کر کے دوبارہ غلامی کی زندگی بسر کرنا پڑی۔

نا پسند کو بند کرنے کا عمل ٹی وی ڈراموں، کمرشل اور اشخاص تک محیط نہیں رہا بلکہ اس نے قومی سطح تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ ڈراموں کی طرح کئی ملکی بہتری کے ایسے منصوبے پسند نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی حریفوں کی انا کی بھینٹ چڑھے ہیں جن سے ملک میں تبدیلی آ رہی تھی۔ اب وہ صرف تاریخ کا سیاہ ورق بننے کے مقام پر ہیں، جس کی واضح مثال پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی) ہے۔ یہ پاکستان میں پہلا اور واحد ادارہ تھا جو کہ جگر کی پیوند کاری کرتا تھا۔

دسمبر 2017ء میں پی کے ایل آئی کو فعال کر دیا گیا اور شہباز شریف کی کوشش سے ڈاکٹر سعید اختر کی قیادت میں دنیا کے مختلف ممالک سے 25 مایہ ناز ڈاکٹرز کی ٹیم اس ہسپتال میں کام کرنے کے لئے آمادہ ہو گئے۔ اچانک چیف جسٹس ثاقب نثار اور ان کے بھائی کی انا آڑے آئی اور انھوں نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر سعید کی تنخواہ کو معما بنا کر از خود نوٹس لیا۔ ڈاکٹر سعید عدالت کے چکر لگانے لگے اور پیوند کاری کا عمل بند ہو گیا۔

2018ء میں 50 مریضوں کی جگر پیوند کاری کی گئی۔ اس کے بعد تمام ڈاکٹر مستعفٰی ہو کر اور واپس چلے گئے اور اس کے بعد کوئی ٹرانسپلانٹ نہیں ہوا ہے۔ شہباز شریف کا نام جڑا ہونے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس ہسپتال پر اتنا کام کیا کہ 470 بیڈ میں سے ابھی تک 60 ہی فعال کر سکی ہے۔ تمام عمارتیں کھنڈر بن رہی ہیں، کیوں کہ سابق حکومت کا نام ہونے کی وجہ سے یہ پسند نہیں۔ لہذا اسے بھی آہستہ آہستہ بند کر دیا جائے گا۔

2018ء کے الیکشن میں حکومت تبدیل ہو گئی اور تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والی حکومت بنی۔ انہیں گزشتہ حکومت کے کچھ منصوبے ناگوار گزرے تو ان کو بند کر دیا گیا۔ جن میں نواز شریف لیپ ٹاپ سکیم ہے، جو وفاق سے 2013ء میں شروع ہوئی اور تمام صوبوں کے طلبا کو میرٹ پر لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے اور بعد ازاں یہ سکیم صوبہ پنجاب میں شہباز شریف سکیم کے روپ میں آ گئی۔ لیکن موجودہ حکومت کو شریف برادران کے نام کی وجہ سے پسند نہ آئی تو سب سے پہلے اسے بند کر دیا۔ کیوں کہ ان لیپ ٹاپ سے جمہوریت کو خطرہ تھا۔

ملک کی تاریخ یہاں تک گہری ہے کہ دو مرتبہ تو پسند نہ آنے کی وجہ سے ملک کے آئین کو ہی ہمیشہ کے لیے بند کر کے مٹا دیا گیا اور اپنی پسند کے مطابق ترتیب دیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ملک میں جو وزیر اعظم پسند نہیں ہوتا تھا صدر اس کو اپنے اختیارات سے گھر بھیجتا رہا ہے۔ یہاں تو پھر مظلوم ڈراما انڈسٹری ہے۔

دور جانے کی بات نہیں ہے کچھ دن پہلے ہی پاکستان کے معروف صحافی سہیل وڑائچ کی کتاب ”یہ کمپنی نہیں چلے گی“ شائع ہوئی لیکن کیا کریں اس پر موجود کارٹون اداروں کو پسند نہیں آیا۔ جس سے ان کے وقار میں کمی واقع ہوئی تو انھوں نے اس کتاب کی تمام کاپیاں ضبط کر کے اس کو بند کر دیا اور ایک خاص شخص کی عزت کو بحال کر کے جمہوریت کو بچا لیا۔ ہمیں اب ایک جمہوری قوم ہونے کے ناتے سے اس بات کا عادی ہو جانا چاہیے کہ یہاں ہر وہ چیز بند کر دی جائے گی، جو افسر شاہی اور حکمرانوں کو پسند نہ ہوئی۔ اس بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جب بھی کوئی ڈراما، کمرشل، کوئی منصوبہ یا تحریر بند کی جائے، تو سمجھ جائیے گا کہ یہ ملکی سالمیت، اسلامی اور معاشرتی روایات کے منافی ہے اور اس سے جمہوریت کو خطرہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد اذان کی دیگر تحریریں