”مجھے اچھا نہیں لگا، اسے بند کرو“ یہ جملہ کثرت سے روز مرہ زندگی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ گھر میں ٹی وی دیکھتے ہوئے، کھانا کھاتے ہوئے اور کپڑوں کے انتخاب میں اس کا استعمال بہت عام ہے۔ معمولات زندگی میں بھی ”پسند نہیں، بند کرو“ کی اصلاح سنی جاتی ہے۔ سیاسی میدان ہو یا صحت کا، معاشی ہو یا انٹرٹینمنٹ کا، تعلیمی ہو یا کھیلوں کا میدان ہی کیوں نا ہو، ہر اس چیز کو بند کر دیا جاتا ہے، جو ہمارے ملک کے بڑوں کو پسند نہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، ہر شخص ”پابندی کلچر“ کو فروغ دینے کے لئے کسی نہ کسی چیز کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ جو چیز پسند نہ ہو، اس کو مذہبی، اسلامی اور معاشرتی روایات، رسم و رواج، جمہوریت اور اداروں کے تقدس کے لئے خطرہ قرار دے دو۔ کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا۔ تمام اداروں میں ایک ایسا سامراجی دفتر ہوتا ہے جس کا صرف یہی کام ہوتا ہے کہ وہ نا پسند چیزوں کو بند کر دے۔
Read more