حکومت کی اپوزیشن سے ٹکراؤ کی پالیسی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تصویر کا دوسرا رخ کیسا ہو گا، اس پر قبل از وقت قیاس آرائی تو نہیں کی جا سکتی لیکن یہ رخ ہے کون سا، اس پر اظہاریہ بنتا ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ کیا ہے، اس حوالے سے سوچ بچار اور سیاسی شخصیات کی متلون مزاج کیفیات و اطوار کا جائزہ لینے کے بعد اک مبہم سی صورت احوال کا خاکہ بنتا بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا، لچک اور ”کچھ دو و لو“ کے اصولوں کے تحت چلنے والے اس نظام میں کسی بھی وقت، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

سنجیدہ حلقوں کی جانب سے بارہا کہا جاتا ہے کہ ریاستی اداروں کو اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت زیادہ ہے، ریاستی ستونوں کے ایک ستون میں بھی دراڑ سے پورے نظام کو ہی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے نقار خانے میں طوطی کی آواز نہ سننے کا گلہ کرنا بے سود ہے، کیوں کہ موجودہ نظام میں ”ڈی جے سسٹم“ آ گیا ہے۔

حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کی جانب سے پاور شو کے بعد حکومتی غلطیاں، معاملے کو سنگینی کی طرف لے جا رہی ہیں، بالخصوص کراچی جلسے کے بعد جو کچھ ہوا، وہ ایک ورق پر رہنے والوں کی صفوں میں دراڑ کا باعث بن چکا ہے۔ سیاسی پنڈتوں نے قانون نافذ کرنے والوں کو سیاست میں اس طور استعمال کرنے کو نیک شگون قرار نہیں دیا۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے فیصلوں میں مداخلت میں بے بس ہونے اور یوٹرن کے حوالے سے مخصوص شہرت حاصل کرچکے ہیں، اقتدار کے تخت پر بیٹھنے کی وجہ سے انہیں کئی معاملات میں اپنے ماضی کے کئی دیرینہ اصولی موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

ماضی میں دیے گئے بیانات کا اجمالی جائزہ لیں، تو با آسانی سمجھ میں آ جاتا ہے کہ عمران خان، مروج نظام میں تبدیلی کے لئے کثرت سے مصلحت پذیری سے بھی کام لے رہے ہیں۔ بظاہر تمام ادارے ایک ورق پر ہیں، لیکن شخصی بنیادوں پر نظریات و مفادات کا ٹکراؤ بھی واضح نظر آتا ہے۔ پی ٹی آئی کو توقع کے مطابق قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہیں ملی، جس کا انہیں بھر پور یقین تھا۔ ہاتھوں میں رسی بندھی ہوئی ہے لیکن وہ اتنی سخت نہیں کہ انہیں تکلیف ہو، لیکن بے بسی اور مکمل خود مختاری کا حاصل نہ ہونا، عمران خان کی فطری عادت اور مزاج کے خلاف ہے۔

اقتدار کی مسند پر بیٹھنے سے قبل کے عمران خان کی سوچ، نظریہ و عملی کاوشیں سمیت بیانات نئے عمران خان سے قطعی مختلف ہیں، انہیں حکومتی مجبوریوں کا نام بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن یہ امر واثق ہے کہ وہ خود کو مکمل آزاد تصور نہیں کرتے۔ کسی انسان کی سوچ مختصر وقت میں تبدیل نہیں ہوتی، خاص طور مخصوص سوچ اور نظریے پر چلنے والا، برسوں برس انتہائی کم تعداد میں ہی عوام کو متاثر کر سکا، لیکن اقتدار کے لئے سمجھوتے پر راضی کیوں کیا، اب یہ راز مخفی نہیں رہا۔

اپوزیشن، حزب اقتدار کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو کھلم کھلا چیلنج دے رہی ہے، جلسے جلوس کی حد تو وقتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن عوامی رائے کو بدلنا، جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ اس کے لئے حزب اختلاف کو کڑی محنت کرنا ہو گی، سیاست اناڑی یا کھلاڑی کا کھیل نہیں کہ جس میں کسی کی ہار اور جیت سے فرق نہ پڑتا ہو، بلکہ وطن عزیز کو در پیش چیلنجوں میں تمام ریاستی ادارے سہ جہتی حکمت عملی سے کام کرتے ہوئے باریک بینی سے عمل پیرا ہیں۔

بظاہر اس وقت سیاسی طور پر ایسی قیادت کا فقدان پیدا کرنے کا تاثر دیا جا رہا ہے کہ مملکت کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی ایسی جماعت نہیں جس پر تیسری مرتبہ اعتماد کیا جا سکے۔ متبادل قیادت کے فقدان کے نظریے کو پی ٹی آئی فرنٹ فٹ پر کھیل رہی ہے۔ قانون سازی کے اداروں کی بے وقعتی کا ایک ایسا تاثر بھی عوام میں جا رہا ہے کہ کھربوں روپے خرچ کرنے کے با وجود دو ایوانی پارلیمانی نظام مسائل کا حل تلاش نہیں کر سکتا، سوا دو برس ہنگامہ آرائیاں اور پارلیمنٹ کو سیاسی پلیٹ فارم بنانے کی روش نے ووٹر کے اعتماد کو مجروح کیا ہے اور صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام سے بہتر قرار دینے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق ماضی کے دھرنے میں دی جانے والی تجویز ٹیکنو کریٹس گورنمنٹ بھی زیر غور ہے۔

عمومی رائے جو سامنے آئی ہے کہ موجودہ حکومت کو پارلیمان میں ایسی اکثریت حاصل نہیں، جس کی وجہ سے وہ من پسند قوانین بنا سکتے، بالخصوص سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی کے مرحلے میں حکومتی پسپائی آرڈیننس جاری کرنے سے عیاں ہو جاتی ہے۔ تیسری حکمت عملی بہت حساس نوعیت کی ہے۔ سیاسی پنڈتوں نے عمران خان کی شخصیت کے جائزے میں اجمالی رائے قائم کی ہے کہ سینیٹ انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے تک عمران خان، کئی معاملات میں مصلحت کے تحت پرانی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے، اسے دباؤ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا، تاہم جیسے ہی انہیں سینیٹ میں اکثریت مل جاتی ہے تو وہ ان قیود کو پھلانگ سکتے ہیں جو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں میں تلخی کا سبب بنتی رہی ہے۔

ریاستی اداروں کا ایک ورق پر ہونے کا بیانیہ، گو کہ اس وقت کمزور ہو چکا ہے اور اس میں واضح دراڑیں دیکھی جا سکتی ہیں، لیکن فی الوقت سینیٹ انتخابات تک نئے عمران خان کا بیانیہ عملی طور پر اپوزیشن کے لئے زیادہ پریشان کن نظر نہیں آ رہا۔ حزب اختلاف اس وقت جانتی ہے کہ حکومت کو کئی ایسے داخلی و خارجی مسائل در پیش ہیں کہ انہیں مفاہمت کی سیاست کے لئے بیک ڈور چینل بالآخر استعمال کرنا ہوں گے۔

ریاستی اداروں کے خلاف لب کشائی، دشنام طرازی اور الزامات نئی بات نہیں ہے، لیکن موجودہ دور میں جس طرح کابینہ کے بعض اراکین، حزب اختلاف کے خلاف بیانیہ میں ریاستی اداروں کے خود ساختہ ترجمان بنے ہوئے ہیں، ان کی وجہ سے ریاستی اداروں کی غیر جانبداری متاثر ہو رہی ہے اور سخت بیان بازیوں سے عالمی سطح پر ریاستی اداروں کا کردار بد قسمتی سے حکومتی رد عمل کی وجہ سے بد نامی کا سبب بن رہا ہے۔ اپوزیشن حکومت ”گرانے“ میں کامیاب ہوتی یا نہیں، اس سے اہم امر یہ ہے کہ اپوزیشن کے خلاف حکومتی اقدامات سے ریاستی اداروں اور حکومت کے درمیان ایک غیر مرئی دراڑ پیدا ہو چکی ہے۔ یہ دراڑ وقت کے ساتھ گہری ہو سکتی ہے اور اس کے اثرات کو سینیٹ انتخابات کے فوراً بعد دیکھا بھی جا سکے گا۔ ایسے موقعوں پر عموماً یہی کہا جاتا ہے کہ مملکت اس وقت نازک دور سے گزر رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •