چیونٹیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح چائے بنانے گئی تو سفید کچن کاونٹر پر چھوٹی چھوٹی کالی چیونٹیوں کی قطاریں، ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلی ہوئی تھیں۔ میں نے کیتلی میں پانی ابلنے کو رکھا ہی تھا کہ احساس ہوا، چند چیونٹیاں مجھ پر چڑھ چکی ہیں۔ میں نے ان کے جھٹک کر دور کیا اور ایک گیلے اسفنج سے سب چیونٹیاں سمیٹ کر، نل کے پانی میں بہا دیں۔ چند چیونٹیاں اب بھی بولائی بولائی پھر رہی تھیں۔ کچھ اسفنج کی مار سے لنگڑا رہی تھیں۔

میں اس دیوار کے کونے میں اسپرے کرنے جا رہی تھی، جہاں سے لگتا تھا، یہ چیونٹیوں کا قافلہ آیا تھا۔ لیکن میں ٹھٹک گئی، یہ میں نے کیا کیا اتنی جانیں لے لیں۔ چیونٹیوں کا تو قرآن شریف میں ذکر ہے۔ حضرت سلیمان نے سنا کہ چیونٹی ساتھیوں سے کہہ رہی ہے کہ چھپ جاؤ اس سے پہلے کہ لشکر کے قدم تمہیں کچل ڈالیں۔ مجھے خیال آیا کہ جب میرے گیلے اسفنج نے پہلی چیونٹی کو سمیٹا ہو گا، تو اس نے چیخ کر دوسری چیونٹیوں سے کہا ہو گا، یہ بلا مجھے تو لے جا رہی ہے، تم اپنی جانیں بچاؤ۔ لیکن شاید بہت سی چیونٹیاں اسے بچانے کو بڑھی ہوں گی اور پھر اس کے ساتھ نل سے جاری سونامی میں غرقاب ہو گئی ہوں گی۔ کیتلی کی سیٹی پر میں نے چائے دانی میں پانی انڈیل کر دم کرنے کو رکھ دیا۔ بچنے والی چیونٹیاں غالباً انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کر اپنے کام میں مصروف شکر کے ایک بھورے (ذرات) کے نزدیک گھوم رہی تھیں۔

میں نے ان بے چاریوں کو کیوں مارا میں نے تاسف سے سوچا۔ بانہہ کھجاتے ہوئے پھر غصے کی لہر آئی۔ یہ باہر مٹی میں کیوں نہیں رہتیں۔ میرے کچن میں آئیں گی، تو ان کا یہی حشر ہو گا۔ کیوں آتی ہیں؟ اس سوال کا جواب میرے ذہن نے اسی طرح ترکی بہ ترکی جواب دیا، جیسے کبھی ایک ڈاکو سے پوچھا گیا تھا کہ تم ہمیشہ بینک کیوں لوٹتے ہو، تو شاید پوچھنے والے کا خیال تھا کہ وہ سرمایہ داری اور غریب کے استحصال کی بات کرے گا، لیکن اس نے کہا۔ اس لیے کہ پیسہ وہاں ہوتا ہے۔ مجھے بھی چائے کی میٹھی چسکی لیتے ہوئے، یہی جواب ملا کہ کھانے کے بھورے (ذرات) بلکہ شکر کے بھورے (ذرات) یہاں ہوتے ہیں، باہر مٹی میں نہیں ہوتے۔

چیونٹی اب شکر کا چمکیلا سفید ذرہ اٹھائے دیوار تک پہنچ چکی تھی۔ میں نے پیالی سنک میں رکھ کر پھر اسفنج سے کاونٹر پر گری شکر کو پونچھ دیا۔ مجھے خیال آیا کہ جب یہ گری ہوئی شکر چیونٹیوں کے کسی ہراول دستے کو ملی ہو گی، تو ان کو وہ ایک ہیرے کی کان کی طرح قیمتی لگی ہو گی۔ ہو سکتا ہے جب اس کو دریافت کرنے والی چیونٹی سب سے پہلے یہ بوجھ اٹھائے، اپنے بل میں پہنچی ہو، تو اسے ملکہ سے اذن باریابی ملا ہو اور اس لذیذ ہیرے کو ملکہ کے حضور پیش کرنے کا فخر حاصل ہوا ہو گا۔ میں چیونٹی کو غائب ہوتا دیکھتی رہی۔ یہ بے چاری جا کر کیا بتائے گی کہ اس کا پورا رسالہ جاں بحق ہو گیا۔ بس تین کام کرنے والیاں بچی ہیں۔

چیونٹیوں کی حکومت میں محنت کش، عورت ذات ہی ہوتی ہیں ان کے مرد تو نکھٹو بجار ہوتے ہیں بس۔ ایک مرتبہ ملکہ کی گود بھر دی، پھر ان کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ اب کیا ہو گا؟ شاید کچھ بھی نہ ہو۔ خوف، بیماری اور موت کا بازار گرم ہے اور کوئی کچھ نہیں کرتا۔ شاید ذہن پر اس وبا کے اثر سے خیال دل میں آ رہے ہیں۔ قرآن میں تو شہد کی مکھی، زنبور کا بھی ذکر ہے۔ یہ بھی چیونٹی کی طرح دونوں کیڑے ایک منظم زندگی گزارتی ہیں، بلکہ ان کی محنت کا پھل تو ہمیں بھی بھلا لگتا ہے۔

ویسے تو دیمک کی زندگی بھی اسی طرح منظم ہوتی ہے، لیکن اس کا کبھی اچھے الفاظ میں تذکرہ نہیں ہوتا۔ شاید اس لیے کہ یہ ہماری عمارتوں کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ ہماری کتابوں کو چاٹ جاتی ہیں۔ اب یہ تو ہمیں طے کرنا ہے کہ ہم اپنے ملک کی عمارت کو کھوکھلا کریں گے، اس کی دولت کو چاٹ جائیں گے، یا منظم رہتے ہوئے بیماریوں سے شفا کی نوید بنیں گے۔

Latest posts by ڈاکٹر شہلا نقوی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر شہلا نقوی کی دیگر تحریریں