بلال بھائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ 1983 ء کے موسم سرما سے ذرا پہلے کا زمانہ تھا، جب پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہء صحافت میں، اس برس داخلہ لینے والے طالب علموں کی کلاسوں کا آغاز ہوا۔ وہاں میری ملاقات زاہد مقصود اور طاہر رفیق سے ہوئی۔ ہم تینوں ہاسٹل کے سکونتی ہونے کے باعث آپس میں ذرا جلدی شناسا ہو گئے۔ وہیں ہاسٹل میں ہماری ملاقات پنجابی کے طالب علم اور شاعر واجد فاروق سے بھی ہوئی۔ ہم چاروں کے حلقے میں دو اور کا اضافہ ہو گیا، جن میں سے ایک زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے منظور قادر اور دوسرے راولپنڈی کے نوجوان وکیل ممتاز احمد بلال تھے۔

وقت اتنی ہی تیزی اور چالاکی سے گزر گیا، جتنی تیزی اور چالاکی سے اس کے گزرنے کا شکوہ، ہر کوئی کرتا آیا ہے۔ اور یوں 2020ء آ گیا۔ میں اسلام آباد چلا آیا تھا اور یہیں کا ہو گیا۔ زاہد مقصود لاہور ہی رہے اور سینیئر صحافی ہو گئے۔ طاہر رفیق نے مختلف شہروں کے صحافتی اداروں میں کام کرنے کے بعد فیصل آباد میں اپنے آبائی مشہور پرنٹنگ پریس کا نظم و نسق سنبھالا۔ واجد فاروق کئی ملکوں سے ہوتے ہوئے کینیڈا آباد ہوئے۔ منظور قادر علم و دانش کی منزلیں طے کرنے کے بعد ڈاکٹر منظور قادر بن گئے اور انٹرنیشنل سائنسی تحقیقی اداروں میں کام کرتے ہوئے کینیڈا جا بسے۔

راولپنڈی کے اس وقت کے نوجوان وکیل ممتاز بلال نے اپنا شہر نہ چھوڑا اور وہ ترقی و شہرت کے زینے چڑھتے ہوئے سپریم کورٹ کے نامور سینیئر ایڈووکیٹ بن گئے۔ ان گزشتہ 37 برسوں میں بہت کچھ بدل گیا، لیکن اگر نہیں بدلا تو ان چھے کا دوستانہ نہ بدلا۔ ان بیتی چار دہائیوں میں کوئی موقع ایسا نہیں تھا، جب ان چھے میں سے کوئی آپس میں ملا ہو یا گفتگو کی ہو، تو انہوں نے فرداً فرداً باقی سب کا احوال دریافت نہ کیا ہو۔ لیکن 9 اکتوبر 2020 ء بروز جمعہ وقت نے آخر کار ان چھے کو شکست دے دی۔

میں صبح دفتر جا رہا تھا کہ موبائل پر زاہد مقصود کی کال کی گھنٹی سن کر چونکا، کیوں کہ یہ وقت عمومی گفتگو کا نہ تھا۔ میرے ہیلو کرنے کے بعد بھی دوسری طرف خاموشی رہی۔ پھر زاہد کی آواز آئی کہ ایک بری خبر ہے۔ میں نے تشویش سے کہا، خدا خیر کرے۔ دوسری طرف پھر خاموشی چھا گئی۔ چند سیکنڈ بعد زاہد نے کہا بلال نہیں رہا۔ میں نے اپنے گم ہوتے حواس میں چیخ کر کہا، کون سا بلال؟ حالاں کہ ہمارا بلال ایک ہی تھا اور اسی کی تصویر ذہن میں بھی آ گئی، لیکن اس خبر کے حوالے سے میں اسے پہچاننا ہی نہیں چاہتا تھا۔

میری چیخ کے جواب میں، زاہد نے کوئی جواب نہ دیا۔ بس میں نے دوسری طرف سے خاموش آنسوؤں کی آواز سنی۔ پتا نہیں ہم دونوں میں سے کس نے فون بند کیا۔ تھوڑی دیر بعد طاہر رفیق کی کال آ گئی۔ میں نے کال ریسیو کرتے ہی کہا، پلیز مجھے کوئی اطلاع نہ دینا۔ اس کے پاس بھی کچھ کہنے کو نہ تھا۔ ہم دونوں کانوں سے موبائل لگائے صرف ایک دوسرے کی خاموشی سن رہے تھے۔ 6 اکتوبر 2020ء کو اچانک بلال کا بلڈ پریشر شوٹ کر گیا، پھر برین ہیمرج کا حملہ ہوا اور 3 دن بعد 9 اکتوبر کو وہ سب کو چھوڑ کر چلے گئے۔

ممتاز بلال اپنی شخصیت، اپنی فطرت اور اپنی عادتوں میں بہت ممتاز تھے۔ وہ پر سکون اور آسان انسان تھے۔ وہ دوسروں کو سکون اور آسانی مفت بانٹتے تھے۔ قہقہے اور خوش دلی ان کا ٹریڈ مارک تھا۔ ایک دفعہ بلال نے مجھے بتایا کہ حکومت انہیں قانونی شعبے میں اہم سرکاری ذمہ داری دینا چاہتی تھی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ میں نے از راہ مذاق چھیڑنے کے انداز میں کہا کہ بلال بھائی آپ نے انکار کیوں کیا؟ اس عہدے کی دوسری سہولتوں کے ساتھ ساتھ آپ کو جھنڈے والی لمبی گاڑی بھی ملتی۔

وہ سنجیدگی سے بولے، میں گاڑی کا قیدی نہیں بننا چاہتا۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ جیل اور گاڑی کے قیدی ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ بلال آخری سانس تک، صرف ضمیر کے قیدی رہے۔ اسی لیے وکلا برادری کی ایک بڑی تعداد انہیں اپنا عزیز رکھتی تھی اور بہت عزت دیتی تھی۔ بلال کی ایک معصومانہ اور دل فریب عادت تھی کہ وہ دوستوں سے گپ شپ کرتے ہوئے جب بھی کسی ناول، فلم یا واقعے وغیرہ کو بہت متاثر کن بتانا چاہتے تو سامنے بیٹھے دوست کو مخاطب کر کے اس چیز کے بارے میں آدھا جملہ بولنے کے بعد، چند لمحوں کا پاز دیتے۔ جس سے حاضرین کا سسپنس بڑھ جاتا۔

اس کے بعد وہ ذرا زور سے صرف ”اف“ کہتے۔ مثلاً: ”یار زاہد، تم نے وہ فلم دیکھی ہے؟ اف۔“ یا یہ کہ ”طاہر تم نے وہ ٹائی پہنی ہے؟ اف۔“ یا مجھے کہتے، ”پیرو وہ کتاب پڑھو۔ اف۔“ گویا ان کے جملے کی ادائیگی کے بعد ”اف“ کہنے سے ہم سمجھ جاتے کہ کوئی بہت ہی زبردست اور اہم بات ہے۔ بلال بھرا میلہ چھوڑ گئے۔ بعض اوقات بھرا میلہ چھوڑنے والے، میلہ لوٹ بھی لیا کرتے ہیں، لیکن بلال بھائی، آپ اوپر سے ذرا نیچے دیکھیں کہ آپ کے جانے کے بعد ہمارا کیا حشر ہوا ہے اور ہر ایک کا دل سسک سسک کر کہہ رہا ہے، ’بلال بھائی اف۔‘

اب ہم باقی پانچوں ایک دوسرے کو تکے جا رہے ہیں۔ حالاں کہ ایک دوسرے کو تکنے کی تاب نہیں رکھتے۔ ایک دوسرے کو سنتے جا رہے ہیں۔ حالاں کہ ایک دوسرے کے سامنے چپ ہیں۔ کینیڈا سے ڈاکٹر منظور قادر نے طاہر، زاہد اور مجھے فون کیا اور کہا، میں کس سے کس کا افسوس کروں۔ دوسروں کو زندگی خوش خوش گزارنے کا ہمیشہ مشورہ دینے والا واجد فاروق، وہ آپ آج، مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے، رو پڑا۔ بلال اپنے خاندان کے لیے ایک سر سبز، خوش نما، خوشبو دار، پھل دار اور سایہ دار درخت تھے۔

ان کی جدائی سے محترم بھابھی پر غم کا جو پہاڑ ٹوٹا، اس کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ بلال بھائی، آپ کی لاڈلی راج دلاری حبا نے تو ابھی اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل ہی کی تھی کہ آپ چلے گئے۔ بلال بھائی، آپ کی آنکھوں کا تارا مستقبل کا روشن ستارہ، آپ کا بیٹا موسیٰ، اگلے برس جب یونیورسٹی کانووکیشن میں اعلیٰ تعلیمی ڈگری حاصل کر کے ڈائس سے اترے گا، تو آپ کو نہ پائے گا۔ بلال بھائی، آپ کے بہن بھائی اور عزیز رشتے دار آپ کو تلاش کر رہے ہیں۔

یہ سب نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں۔ بس روتے ہی روتے ہیں۔ بلال بھائی، آپ نے تو ان سب کی آنکھوں میں کبھی ایک آنسو بھی نہیں آنے دیا تھا۔ بے شک موت ایک حقیقت ہے، لیکن یہ حقیقت بہت ظالم بھی ہے۔ بلال بھائی، آپ کے بارے میں لکھنے کو بہت کچھ ہے، لیکن ہمت نہیں رہی۔ بس آخر میں ایک شعر لکھ رہا ہوں، جو اکتوبر 2018ء میں آپ نے مجھے سنایا تھا۔ آج ٹھیک دو سال بعد وہی شعر میں آپ کو واپس لوٹا رہا ہوں۔
کوئی مضبوط سی زنجیر بھیجو
تمہاری یاد پاگل ہو گئی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •