خیبر پختونخوا کا بے روزگار کر دیا گیا بکروال


\"aamir-hazarvi\"

محمد شفیع بالاکوٹ سے بارہ کلو میٹر آگے گاؤں گھنیلہ کا باسی ہے۔ گھنیلہ زندگی کی اکثر سہولیات سے محروم علاقہ ہے۔ یہاں کے منتخب لوگوں نے بھی اس علاقے کی طرف توجہ نہیں دی۔ غربت جگہ جگہ بکھری نظر آتی ہے۔ معصوم بچوں کے خوبصورت چہرے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے۔ بچوں کے ہاتھوں کے نرمی سختی میں بدل چکی ہے۔ عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی نظر آتی ہیں۔

گھنیلہ میں اسکول بہت ہی کم ہیں اور جو ہیں ان میں بھی سہولیات کی کمی ہے۔ یہاں کے باسیوں کا گذر بسر بکریاں پالنے کی وجہ سے ممکن ہے۔

جب سے عمران خان کی حکومت آئی بکروالوں پہ زندگی بوجھ بن گئی۔ جنگلات میں درندے کھلے چھوڑ دیے گئے ہیں۔ درندوں کا نشانہ انسان و جانور سبھی بن رہے ہیں۔ محمکہ جنگلات کی سختی کی وجہ سے ان لوگوں کی بکریوں کا چارہ بھی بند ہو چکا ہے۔ بکروال کمیونٹی کے ایک ذمہ دار شخص محمد سرفراز سیال نے کچھ صحافیوں کو اپنے علاقے میں آنے کی دعوت دی۔ چار بندوں پہ مشتمل ہماری میڈیا ٹیم گھنیلہ پہنچی۔ وقاص خان۔ فیضی بھٹی۔ اور شیرافضل گجر صاحب کی معیت میں ایک شام بکروال لوگوں کے ساتھ گذری۔ ہم نے رات محمد شفیع کے گھر گزاری۔

محمد شفیع پینتس سال کا جوان آدمی ہے۔ محمد شفیع بچہ تھا کہ اس کا والد فوت ہو گیا۔ محمد شفیع غربت اور یتیمی ساتھ ساتھ لے کر پیدا ہوا۔ اسے یاد نہیں کہ اس نے بکریاں چرانی کب شروع کیں؟ اس نے بتایا کہ جب ہوش سنبھالیں خود کو پکریاں چراتے پایا۔ اسکول۔ مدرسہ۔ پڑھا۔ ٹی وی و اخبار کبھی نہیں دیکھا۔ عمر سفر میں گذر رہی ہے۔ آج یہاں تو کل وہاں۔ مستقل ٹھکانہ کوئی نہیں ہے۔ خدا نے جو کچھ دیا اس پہ راضی ہوں۔

شفیع کی باتوں میں بناوٹ نہ تھی وہ سیدھی اور سچی بات کرتا تھا ہم نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سوال پوچھا کہ آپ اپنے بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں یا نہیں؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ اور ان شاء اللہ کبھی تعلیم دلواؤں گا بھی نہیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے ایسا جواب دیا جسے سن کے ہم سب کانپ اٹھے۔ حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔

اس نے کہا کہ بچوں کو مولوی بناؤں گا تو تب بھی مجھے جہنم میں لے کر جائیں گے اور بابو بناؤں گا تب بھی جہنم میں لے کر جائیں گے۔

ہم نے پوچھا وہ کیسے؟

اس نے کہا مولوی جھوٹ بولتے ہیں۔ قرآن کا مفہوم بدلتے ہیں۔ ایک مولوی ایک آیت پڑھ کے اپنا ترجمعہ کرتا ہے دوسرا مولوی وہی آیت پڑھ کے دوسرا ترجمہ۔ چلیں ترجمعہ جو بھی پیش کریں وہ جانیں اور خدا جانے؟ لیکن یہ آیت پڑھ کے اور ترجمہ کر کے لڑاتے ہیں۔ یہ تقریر کر کے تو چلے جاتے ہیں جبکہ عوام لڑتے ہیں۔ کیا اسلام کے نام پہ میں بچوں کو نفرت کے ماحول میں ڈال دوں؟ ہم نے شرافت کا وقت گزارا ہے بیٹوں کو بھی شرافت سے زندگی گزارنے کا کہا ہوا ہے مولوی مقدس بدمعاش ہیں۔ یہ اپنی لڑائی کو اچھا بنانے کے لیے بھی قرآن کا حوالہ دیتے ہیں۔

اسکول اس لیے نہیں پڑھاتا کہ یہ پڑھ کے کسی عہدے پہ جائیں گے۔ وہاں جا کے ظلم کریں گے۔ کسی غریب کا دل دکھائیں گے۔ کسی ماں کو آنسو دیں گے۔ کسی کا حق ماریں گے۔ میں جنگلات والوں کو بھتہ دے رہا ہوں نا۔ ان پڑھے لکھے لوگوں نے دنیا تباہ کی ہے۔ انہوں نے بارود بم اور گولیاں بنائی ہیں۔ یہ آلات قتل بناتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دنیا کا امن تباہ ہوا ہے ان کی وجہ سے کرپشن ہوتی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہوتا؟ ان پڑھ تو بکریاں چراتے ہیں انہیں رزق سے ہی فرصت نہیں وہ ظلم کیسے کریں گے لہذا ہم جاہل اچھے ہیں۔

میں نے کہا کل آپ کے بچے کسی بنگلے کوٹھی کار یا عہدے پہ بیٹھے بندے کو دیکھ کر کہیں کہ ہمارے باپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے تو اس کا کیا بنے گا؟ اس سوال کا اس نے جو جواب دیا وہ بھی حیران کن تھا۔ اس نے کہا میرے بیٹےہوئے تو کبھی شکوہ نہیں کریں گے میں نے اپنے باپ یا ماں پہ شکوہ نہیں کیا۔ میں اللہ کی تقسیم پہ راضی ہوں وہ بھی راضی ہوں گے۔

میں نے ایک سوال یہ پوچھا کہ حکمران کون سا پسند ہے؟ اس نے جھٹ سے جواب دیا کہ مشرف۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے بہترین جواب دیا کہ مشرف کے دور میں قحط نہیں ہوا ہمیں روٹی ملتی رہی۔ جمہوری لوگ جب آئے ہمیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جب مشرف کی حمایت سنی تو فرنود عالم یاد آئے جنہوں نے لکھا تھا کہ سماج کا پہلا کلمہ روٹی ہے۔ روٹی ہی ایمان و کفر کے فیصلے کرواتی ہے۔ روٹی ہی جمہوریت کو بدترین اور آمریت کو بہترین قرار دلواتی ہے۔ کاش ہمارے حکمران یہ نکتہ سمجھ لیں۔

ایک سوال پوچھا کہ کون سا فرقہ پسند ہے؟ اس نے کہا کہ کافر پسند ہیں۔ ان کے خلاف جب کوئی بات کرتا ہے تو تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ مسلمان تو مسجدوں میں نہیں چھوڑتے۔ روٹی پانی کا بھی نہیں پوچھتے الٹا مذاق بھی اڑاتے ہیں اور بکریاں بھی چھین لیتے ہیں۔ ملک کے بہت سارے شہروں میں جانا ہوتا ہے کافر خدمت کرتے ہیں۔ رہنے کے لیے جگہ دیتے ہیں لہذا سچی بات یہی ہے کہ کافر پسند ہیں۔ مسلمانوں سے انسانیت ختم ہو چکی ہے۔ ان سے اللہ کے گھر محفوظ نہیں رہے۔ ایک بار بکری ڈھونڈتے ڈھونڈتے رات ہوگئی مسجد میں جا کے سو گیا۔ ذہن میں تھا کہ اللہ کا گھر ہے کوئی کچھ نہیں کہے گا لیکن ایک بندا آیا اس نے لاتیں مار کے اٹھایا اور باہر نکال دیا۔ الٹا چور بھی کہا۔ اب بھلا کردار کس کا اچھا ہے؟ مسلمانوں کا یا کافروں کا؟ ہم چپ تھے۔

ایک سوال یہ پوچھا کہ آپ کی خواہش کیا ہے؟ اگر آپ کے حج کے لیے سردار صاحب سے کہا جائے تو روضہ رسول پہ جا کے حضور کے آگے شکایت کرو گے؟

اس نے جواب دیا حج کی یا کسی بھی چیز کی خواہش نہیں ہے۔ بس ایک خواہش ہے اللہ طاقت دے تو دنیا سے برے لوگوں کو ختم کر دوں۔ جن لوگوں نے ہمارا حق مارا ہے ان سے اپنا حق چھین سکوں۔ دنیا میں اس وقت تک تبدیلی نہیں آ سکتی جب تک کچھ لوگوں کی گردنیں نہیں اڑائی جائیں گی۔ دنیا کے تمام بڑے لوگ ایک جیسے ہیں ان کی لڑائیاں مصنوعی ہیں۔ یہ ہمیں دھوکے میں رکھتے ہیں۔ یہ دنیا کی طرح دھوکے باز ہیں۔

قارئین آپ کو بتاتا چلوں کہ آج کل محمد شفیع فارغ بیٹھا ہے اس نے بکریاں بیچ دی ہیں۔ بکریاں بیچنے کی دو وجہیں ہیں ایک یہ عمران خان نے جنگلات کے محمکے والوں پہ سختی کی ہوئی ہے۔ محکمہ جنگلات والے بکریاں چرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ جو جنگل کا رخ کرتا ہے اس پہ جرمانہ کرتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وائلڈ لائف والوں نے درندے جنگل میں آزاد چھوڑ دیے ہیں۔ نوے کے قریب بکریاں ریچھ مار چکے ہیں اور کئی سفید داڑھی والے لوگوں کو بھی زخمی کیا ہے اور بہت سارے بچوں کو بھی زخمی کیا جا چکا ہے۔

محمد شفیع کو جب بکریوں کی یاد ستاتی ہے تو وہ اٹھتا ہے اپنا سینہ زمین کے اس حصے پہ رگڑتا ہے جہاں اس کی بکریاں بیٹھا کرتی تھیں۔ وہ روتا ہے اور دیر تک روتا ہے اس کی چیخیں دور دور تک سنائی دیتی ہیں۔ اس کی دیکھا دیکھی اس کے بچے بھی یہی کام کرتے ہیں۔

کتنا بڑا حوصلہ ہے کہ یہ لوگ ظلم اور بھوک سہہ کے بھی چوری نہیں کرتے۔ بغاوت نہیں کرتے۔ رات کے پچھلے پہر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔

میں نے شفیع سے کہا اگر آپ کہیں تو آپ کی آواز عمران خان تک پہنچاؤں؟ تحریک انصاف کے دوستوں سے کہوں کہ وہ ایک بکر وال کی آواز خان صاحب تک پہنچائیں۔

اس نے منع کر دیا اور کہا ہر گز نہیں اب تو ڈیڑھ سال رہ گیا ہے اسے اور بھی زور لگانے دیں۔ جو کمزوروں پہ زور لگاتا ہے وہ دوبارہ نہیں آیا کرتا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ہمارا خدا نہیں ہے؟ اس نے طاقت نہیں دی تو کیا دعائیں بھی نہیں سنے گا؟ وہ ہماری دعائیں ضرور سنے گا۔ کپتان سے مت کہیے گا کہ وہ ہم غریبوں پہ رحم کرے، اسے کہو زور لگا لے۔

\"hazara-shepherd\"

زندگی کی رنگینیوں میں سانسیں بتانے والے دیکھیں کہ غریبوں کے مسائل کیا ہیں؟ ایک بکروال دنیا کو کس نگاہ سے دیکھ رہا ہے؟ یہ غریب لوگ بے وقوف نہیں بس خاموش ہیں۔ جس دن یہ بول اٹھے اس دن کسی کو جائے پناہ نہیں ملے گی۔

محمد شفیع سے جب ہم جدا ہوئے تو کہا کہ بیٹوں سے ملاقات نہیں کروائی بیٹوں سے ملاقات تو کرواتے۔ اس نے معذرت کی اور دیہاتی لہجے میں کہا میں آپ کی جوتی کا بھی نوکر۔ آپ کی خدمت کر سکتا ہوں لیکن بیٹوں سے اس لیے نہیں ملا سکتا کہ آپ انہیں اپنی راہ پہ نہ لگا لیں۔ وہ بچے ہیں اور بچے کچے دماغ کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی باتوں میں آجائیں گے۔ کل تعلیم کا مطالبہ کر کے مجھے مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ آج کل کی تعلیم فتنہ ہے، میں اس سے بچوں کو بچاؤں گا۔

دوستو آپ محمد شفیع سے محبت کریں یا نفرت یہ آپ کا حق ہے۔ لیکن یہ وہ شخص ہے جس نے ٹی وی نہیں دیکھا، جس نے اخبار نہیں پڑھا، جو کسی مکتب کا پڑھا ہوا نہیں ہے۔ جس کی مجلس بھی کوئی نہیں ہے۔ اس نے دنیا کو پرکھا سمجھا اور ہمیں کھل کے بتا دیا۔

دنیا ایک بکروال کی نگاہ میں کیسی ہے، فیصلہ خود کیجئے۔

Facebook Comments HS