عراق میں احتجاجی تحریک کا سال مکمل، کیا کھویا، کیا پایا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عراق
EPA
عراق میں ایک برس پہلے احتجاج کی ایک ایسی بے مثال لہر اٹھی جس نے ایک تحریک کا روپ دھار لیا۔ اس احتجاجی تحریک کے مطالبات میں ملک میں سیاسی اصلاحات، بدعنوانی اور اقرابا پروری کا خاتمہ اور غیر ملکی طاقتوں کی غلامی سے چھٹکارا سرفہرست تھے۔

احتجاج کا سلسلہ اکتوبر 2019 کے اوئل میں کئی جنوبی صوبوں میں شروع ہوا۔ یہ احتجاج کچھ ہفتوں کے لیے تھم گیا لیکن پھر اچانک 25 اکتوبر کو شدت سے واپس آیا اور جنوبی صوبوں سے نکل کر ملک کے دوسرے حصوں تک پھیل گیا۔

احتجاج کا یہ سلسلہ کئی ماہ بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔ ابتدائی دنوں میں احتجاجی مظاہرین کی ساری توجہ بدعنوانی اور سہولتوں کی عدم دستیابی پر تھی۔

اسی احتجاج کی وجہ سے وزیر اعظم ادل عبدل مہدی کو اپنی کابینہ کے ہمراہ مستعفیٰ ہونا پڑا اور ان کی جگہ نئے وزیر اعظم نے عہدہ سنبھال لیا ہے۔ پھر کورونا کی عالمی وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا اور ملک میں لاک ڈاؤن کا نفاد عمل میں آیا۔

یہ بھی پڑھیے

عراق کی بس یہی کہانی ہے

عراق میں حکومت مخالف مظاہرے، بغداد میں کرفیو

امریکہ کی عراق سے فوج نکالنے کے ’خط‘ کی تردید

عراق میں اہم فوجی اڈوں سے امریکی فوجیوں کی واپسی

لاک ڈاؤن کے اٹھائے جانے کے بعد احتجاج کا سلسلہ ایک پھر شروع ہو گیا ہے اور اب یہ سلسلہ بغداد سے لے کر جنوبی شہر نصریہ تک پھیل چکا ہے۔

نئے احتجاج میں انھیں مطالبات کو پھر سے دہرایا جا رہا ہے۔ احتجاجی مظاہرین ملک کی سیاسی اشرافیہ کو ملک میں اصلاحات کی راہ میں روڑے اٹکانے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

احتجاجی تحریک کے رہنماؤں اور نوجوانوں میں اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

عراق میں احتجاج

Getty Images

احتجاجی تحریک کہاں پہنچی ہے؟

احتحاجی تحریک کے شروع ہونے کے ایک سال مکمل ہونے پر 25 اکتوبر کو ایک بار احتجاج کی کال دی گئی۔

لیکن حالیہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے اپنی توجہ مخصوص مطالبات پر رکھی ہے جن میں بجلی کی عدم فراہمی اور تنخواہوں کی عدم ادئیگی بہت نمایاں ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے عراق کی آمدنی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ تیل کی آمدن عراق کا سب بڑا ذریعہ آمدن ہے۔

احتجاج کے تازہ سلسلے میں اس یگانگت کی کمی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہےجو احتجاج کے ابتدائی مہینوں میں دیکھی گئی تھی۔

اس احتجاجی تحریک کو اپنی صفوں میں ایسے مسلح عناصر کو گھسنے سے روکنا ہو گا جنھوں نے گذشتہ برس کئی متحرک کارکنوں کو نشانہ بنایا تھا۔

مظاہرین پر حملوں کے پیچھے کون ہے؟

مظاہرین کے خلاف تشدد کی وجہ سے احتجاج کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا اظہار رواں ماہ کے اوئل میں کربلا اور نصریہ میں ہونے والے مظاہروں میں سامنے آیا۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ کچھ نامعلوم افراد مظاہرین کی صفوں میں داخل ہو گئے اور انھوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کی وجہ سے جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔

کربلا میں مظاہرین پر تشدد کے خلاف نصریہ میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی وجہ سے شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے قبائل پر زور دیا کہ وہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو روکیں۔

احتجاجی تحریک کے رہنما پہلے ہی مقتدی الصدر سے ناراض ہیں۔ مقتدی الصدر کی مسلح تنظیم بلیو ہیٹس جو مظاہرین کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی، پر الزام ہے کہ اس نے احتجاجی مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

عراق

EPA

اب تک کیا بدلا ہے؟

احتجاجی تحریک کی وجہ سے ادل عبدل مہدی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن نئی حکومت کی تشکیل میں کئی ماہ لگ گئے۔

کئی ماہ کے بعد بالآخر سابق انٹیلجس سربراہ مصطفی ال خدیمی ایک متفقہ امیدوار کے طور سامنے آئے اور انھوں نے مئی میں نئی حکومت قائم کر لی تھی۔

نئے وزیر اعظم مصطفی خدیمی عہدہ سنبھالتے ہی اس طاقتور مسلح ملیشیا کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے شیعہ پیرا ملٹری فورس پی ایم ایف کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم خدیمی نے وقت سے پہلے انتخابات اور مظاہرین کے خلاف تشدد میں ملوث لوگوں کے احتساب کا وعدہ کیا ہے۔

لیکن وزیر اعظم کو ان دونوں محاذوں پر مزاحمت کا سامنا ہے۔ ملک کی سیاسی اشرافیہ ان مراعات کو کھونا نہیں چاہتی جو اس نے پچھلے کئی سالوں میں حاصل کی ہیں۔

کیا کچھ نہیں بدل سکا؟

نئی حکومت کی تشکیل اور اگلے برس کے اوئل میں نئے انتخابات کے وعدے کے باوجود عراق میں وہی سیاسی صورتحال برقرار ہے جو احتجاج سے پہلے تھی۔

امریکہ اور ایران عراق میں اپنے اثر ر رسوخ کی کشمکش میں مصروف ہیں۔ تحریک کے ابتدائی دنوں میں لگایا جانے والا نعرہ، ’ہم ایک قوم چاہتے ہیں، اب کہیں گم ہو گیا ہے۔

عراق میں 2020 اس بحث میں گذر گیا ہے کہ امریکی فوجوں کو عراقی سرزمین سے چلے جانے چاہیے یا نہیں۔

US soldiers in Iraq

AFP

نئے وزیر اعظم مصطفی خدیمی طاقتور شیعہ ملیشیا کو قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ملک میں بغیر کسی روک ٹوک کے کارروائیاں کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے جون میں خطیب حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر چھاپہ مارنے کی اجازت دی۔ اس چھاپے میں کئی افراد کو گرفتار کیا جو مبینہ طور پر دہشگردی کا کارروائیوں کی تیاری کر رہے تھے۔ لیکن جب اس کا ردعمل سامنے آیا تو گرفتار افراد کو رہا کر دیا گیا۔

جون میں مظاہروں کا سلسلہ جن وجوہات کی وجہ سے شروع ہوا تھا، یعنی شہری سہولتوں کی عدم دستیابی اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی، وہ مسائل اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران نے ان مسائل کے حل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

احتجاجی تحریک کے خلاف حملے جاری ہیں اور کووڈ 19 کے بحران کے باوجود پچھلے برس میں احتجاج کی وجہ عراق میں کئی اہم سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں لیکن وہ تمام حقیقتیں جن کی وجہ سے 2019 میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو ا تھا، اپنی جگہ برقرار ہیں۔.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16593 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp