آزادی اظہار رائے: پاکستان میں انٹرنیٹ کی چوکیداری، ’یہ جارحانہ پابندیوں کا سال رہا‘

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انٹرنیٹ
Getty Images
آج دنیا بھر میں انٹرنیشنل انٹرنیٹ ڈے منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر آزادیِ اظہارِ رائے پر کام کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کی شائع ہونے والی رپورٹ پاکستان کا ایک تاریک منظر پیش کر رہی ہے۔

اب سے ایک سال قبل یعنی گذشتہ سال اکتوبر میں حکومتِ پاکستان نے ایک متنازع کینیڈین کمپنی سینڈوائن سے ملک بھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے ترسیل کی جانے والی معلومات کی نگرانی اور جائزہ لینے کے لیے مدد حاصل کی تھی۔

ایک کروڑ آٹھ لاکھ ڈالرز کے اس معاہدے کے تحت انٹرنیٹ کی نگرانی کا یہ سسٹم ڈیپ پیکٹ انسپیکشن (ڈی پی آئی) کا استعمال کرے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی نگرانی سے لے کر کسی صارف کی ذاتی کال کے ڈیٹا تک کی معلومات حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو فراہم کرے گی اور وہ باآسانی اس کا جائزہ لے سکیں گے۔

گذشتہ سال یہ خبر نیویارک کی کوڈا سٹوری نامی ویب سائٹ پر شائع ہوئی تھی جس کے بعد اس بارے میں خاصی تشویش پھیلنے کے ساتھ ساتھ یہ سوالات بھی اٹھائے گئے کہ پاکستان میں کس حد تک انٹرنیٹ صارفین کی نگرانی کی جا رہی ہے اور اس کے ذریعے حکومت پر تنقید کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک برتا جائے گا؟

یہ بھی پڑھیے

فیس بک نے پاکستانی اکاؤنٹس کے ایک ’منظم نیٹ ورک‘ کو بند کر دیا

’پابندی حل نہیں، اس طرح تو کل کو سارا انٹرنیٹ بند کرنا پڑے گا‘

ٹوئٹر کے نظام میں خرابی، دنیا بھر کے صارفین متاثر

اسی بارے میں ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے ادارے ’بولو بھی‘ کی شریک بانی فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ نگرانی کا یہ سسٹم ایسا ہے جیسے کہ آپ دو لوگوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کو سُن لیں، یا کسی کا بھیجا ہوا خط کھول کر پڑھ لیں۔

اوپر بتایا گیا واقعہ ان تمام پابندیوں کا جُزو ہے جو اس سال آن لائن بات یا کام کرنے والوں پر لگائی گئی ہیں اور جو ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے ادارے کی آج کے روز جاری ہونے والی رپورٹ کا بھی حصہ ہیں۔

فیس بک

Reuters

جارحانہ پابندیوں کا سال

اس سال اظہارِ رائے کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئیں، سماجی رابطوں کی ایپس کو متنبہ کیا گیا یا پھر بند کر دیا گیا، ایسے قوانین کا استعمال کیا گیا جن کے بارے میں سماجی کارکنان نے پہلے سے متنبہ کیا تھا کہ یہ لوگوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں۔

اب انٹرنیشنل انٹرنیٹ ڈے پر آزادیِ اظہارِ رائے پر کام کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کی شائع ہونے والی رپورٹ بھی خاصا تاریک منظر پیش کر رہی ہے۔

ڈیجیٹل حقوق پر مرتب کی گئی اس سالانہ رپورٹ میں انٹرنیٹ پر موجود معلومات کی روک تھام اور سخت نگرانی کے لیے بنائے گئے قواعد و ضوابط، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر نفرت آمیز مواد اور آزادیِ اظہارِ رائے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اور اسی حوالے سے ہونے والی پیشرفت کو رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے جارحانہ اقدامات اٹھائے گئے جن کے تحت نہ صرف میڈیا کو محدود کیا گیا بلکہ سماجی رابطوں کے ویب سائٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر بات کرنے والوں کے اظہارِ رائے پر بھی پابندی لگادی گئی۔ ان قوانین کی زد میں جہاں ویڈیو بلاگرز اور ٹِک ٹاکرز شامل ہیں وہیں سماجی کارکنان، سیاست دان، صحافی اور وکلا بھی ان سے نہیں بچ سکے۔

انٹرنیٹ

Getty Images

’انٹرنیٹ کی چوکیداری‘

سنہ 2020 میں فریڈم آف دی ورلڈ کی آزادی اظہارِ رائے پر مبنی عالمی فہرست میں پاکستان 100 میں سے 38 ویں نمبر پر تھا۔ جبکہ رپورٹ میں پاکستان کو ’جزوی طور پر آزاد‘ کہا گیا تھا۔

اگر اب 2020 میں رونما ہونے والے چند واقعات کو دیکھا جائے تو یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ آن لائن سختیوں میں صرف اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے۔

رواں سال جولائی میں یکِے بعد دیگرے پہلے ٹِک ٹاک ویڈیو ایپ کو انتباہ جاری کیا گیا جبکہ ایک اور ایپ بیگو لائیو کو بند کردیا گیا۔ اس کے بعد رواں ماہ ٹِک ٹاک کو پھر سے وارننگ پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں بند کردیا گیا۔

ٹِک ٹاک بند کرنے کے پیچھے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ’غیر اخلاقی اور ناشائستہ مواد‘ کو بنیاد بنا کر پابندی عائد کی۔ لیکن اس کے دس دن بعد ایپ کو مشروط طور پر دوبارہ کھول دیا گیا۔

واضح رہے کہ پی ٹی اے کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جولائی تک پاکستان میں ٹِک ٹاک کے تقریباً دو کروڑ صارف موجود ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ ’افسوس اس بات کا ہے کہ اس کے نتیجے میں انٹرنیٹ تک محدود صحافت خاصی متاثر ہوئی ہے جبکہ آزادی اظہارِ رائے بہت حد تک زباں بندی میں تبدیل ہوچکی ہے۔‘

ٹک ٹاک، پاکستان،

Getty Images

صحافی اور پیکا کا قانون

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق صحافیوں اور کالم نگاروں، کے خلاف پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی پیکا کا بے انتہا استعمال کیا گیا۔ تاکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر سرگرم صحافیوں اور کالم نگاروں کو ایک خاص نکتہ نظر کا پابند کیا جاسکے۔

فریحہ کا کہنا ہے کہ پچھلے دو ماہ میں ہم نے بہت سرگرمیاں دیکھیں۔ ’ایک طرف صحافیوں کو روکنے کے لیے پیکا کا سیکشن 37 استعمال کیا گیا۔ پھر اسی قانون کے بارے میں جن خدشات کا اظہار ہم نے اس سال کے شروع میں کیا تھا وہ اب سامنے آرہے ہیں۔ مختلف نام سے اسی قانون کا ایک اور ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے۔ اور جس طرح کے حالات ہیں، لگتا یہی ہے کہ وہ منظور بھی کرالیا جائے گا۔‘

وفاقی کابینہ نے ایک ماہ پہلے آن لائن مواد کی روک تھام کے لیے نئے قواعد جاری کردیے ہیں۔ جبکہ پیکا کے طرز کے ایک قانون، سیٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز 2020، سماجی اور انسانی حقوق پر کام کرنے والے کارکنان کے بروقت آواز اٹھانے کے نتیجے میں روک دیا گیا۔

فریحہ کا کہنا ہے کہ ’آپ نے یکِے بعد دیگرے صحافیوں کو پرائم ٹائم شو سے ہٹا دیا۔ تو ان کے پاس اب سوشل میڈیا یا یوٹیوب واحد راستہ ہے اپنی بات بتانے کے لیے۔ لیکن اس پر بھی پابندی اور سختیاں لگائی جارہی ہیں تاکہ کوئی خاص بات نہ ہوسکے۔‘

اسی طرح ستمبر کے آخر میں ایک خبر کے مطابق صحافی عمار مسعود، اعزاز سیّد اور 49 صحافیوں کے نام وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے مبینہ طور پر تیار کی گئی ایک فہرست میں شامل کیے گئے تھے۔ ایف آئی اے نے جہاں اس خبر کی تردید کردی وہیں صحافتی اداروں اور دیگر کارکنان کی جانب سے اس پر خاصا شور برپا ہوا۔

صحافی عمار مسعود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمیں بہت ہی صاف الفاظ میں بتادیا گیا ہے کہ بات نہیں کرنی ہے۔ ایک پریس بریفنگ کے دوران کئی صحافیوں کی تصاویر کے گرد لال دائرے لگائے گئے تھے کیونکہ وہ اپنی آزادی اظہارِ رائے کے ذریعے اداروں کو تنگ کررہے تھے۔ نتیجتاً اب نامور صحافی گھروں تک اور آن لائن تک محدود رہ گئے ہیں جبکہ جو ان کے بیانیے کو لے کر چلتا ہے وہ خوشحال رہ رہا ہے۔‘

ایک طرف جو ایف آئی آر درج کی جارہی ہیں، ان کے متعلق فریحہ عزیر کا کہنا ہے کہ ان میں تعزیراتِ پاکستان بھی شامل کی جارہی ہیں تاکہ مقدمے کے دوران ہتکِ عزت کی دفعات بھی شامل کی جاسکیں۔

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال پاکستانی حکام نے انٹرنیٹ آزادی خاصی محدود کردی، جبکہ ٹویٹر یا فیس بُک پر نشر کی گئی پوسٹ پر صحافیوں اور سماجی کارکنان کو انتباہ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ وارنٹ بھی جاری کیے گئے اور سیاسی و سماجی کارکنان کے خلاف مقدمات، اغوا اور گرفتاریوں کے واقعات بھی سامنے آئے۔

پاکستان

BBC

خواتین کے خلاف مظالم آن لائن بھی جاری

رواں سال ماہِ اگست میں خواتین صحافیوں کا ایک وفد قومی اسمبلی میں انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملنے پہنچا۔اس کمیٹی کے تحت خواتین نے بتایا کہ انھیں کس طرح سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر موجودہ حکومت کے کارکنان کی طرف سے گالیوں اور بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فریحہ عزیز نے بتایا ’یہ ایک بڑا قدم تھا جو ہم نے یہ سوچ کر اٹھایا کہ باقی لوگوں کے لیے بھی راستہ بنے۔ لیکن حکمراں جماعت نے اسے فیک نیوز کہا۔ ہمیں کہا گیا کہ ہم غلط بیانی کررہے ہیں۔‘

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق اس سال ناصرف خواتین کو آن لائن دھمکیاں دی گئیں بلکہ ان کے لیے آن لائن بات کرنا بھی مشکل بنادیا گیا۔

جبکہ پاکستان میں جاری انٹرنیٹ کی نگرانی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ان واقعات کے بارے میں فریحہ کا کہنا ہے کہ ’ادارے تو ہم سے حساب لے رہے ہیں، اداروں اور حکومت کا احتساب کون کرے گا؟‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16606 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp