یہ فلم تو ڈبہ نکلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلم کے رائٹر ، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر انتہائی تجربہ کار اور اپنے کام کے منجھے ہوئے لوگ تھے۔ رائٹر نے فلم کی کہانی اس بار سرکٹ میں نمائش کے لئے پیش ہونے والی پرانی فارمولا فلموں سے ہٹ کر لکھی۔ پروڈیوسر نے اپنے دور کی سب سے مہنگی فلم بنانے کے لئے روپے پیسے کی پرواہ نہ کی اور بوریوں کے منہ کھلے رکھے۔ فلم کے ڈائریکٹر ماضی میں بڑی سپرہٹ فلمیں دے چکے تھے اور وہ اپنی بنائی ہوئی ہر فلم کو لمبے عرصے تک پردہ سکرین پر لگائے رکھنے کا ہنر جانتے تھے لوگ بھی ان کی فلموں کے عادی ہوچکے تھے۔

نئی فلم وہ منفرد انداز میں بنا رہے تھے اور فلم کا ہیرو بھی ہمیشہ کی طرح خود ہی چنا۔ ہیرو بھی وہ جو فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی کسی اور میدان میں سکہ جما چکا تھا۔ کیا بچے بڑے، لڑکے لڑکیاں، غریب امیر سب دیوانے تھے اس کے حسن اور شخصیت کے، مگر کچھ چاہنے والے یہ ضرور کہتے کہ اسے فلموں میں کام نہیں کرنا چاہیے یہ گندا کام ہے اور صاف ستھرے لوگوں کو اس سے دور رہنا چاہیے لیکن بڑی سکرین پر آنے کے جنون میں مبتلا وہ پندرہ سالوں سے دربدر ہو رہا تھا، اپنا گھر بھی اجاڑ بیٹھا، سٹوڈیو کے کئی چکر کاٹے مگر کسی فلم ڈائریکٹر نے کوئی لفٹ نہ کرائی، اسی دوران اپنے وقت کے سب سے بڑے ڈائریکٹر سے وہ فلم کا ہیرو بننے کا وعدہ لے بیٹھا اور ڈائریکٹر صاحب کی تین سال تک خدمت بھی بجا لائی مگر ڈائریکٹر بہت سیانا نکلا وقت آنے پر سرے سے ہی مکر گیا۔

پھر کیا تھا کہ وہ فلم انڈسٹری کے تمام ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز سے ہی ناراض ہو گیا اور کئی سال تک یہ غصہ ہر جگہ نکالتا رہا مگر حاصل کچھ نہ ہوا۔ فلم انڈسٹری میں اپنا نام بنانے کے لئے اسے پندرہ سال تک خجل خوار ہونے کے بعد احساس ہوا کہ ڈائریکٹرز کا حقہ پانی بھرے بنا وہ کبھی بھی فلم کا ہیرو نہیں بن سکتا۔ اس احساس کے بعد انڈسٹری کے سب سے بڑے ڈائریکٹر نے اس کے سر پر دست شفقت رکھا کہ وہ اس ملک کی سب سے ہیوی بجٹ اور بڑی کاسٹ سے بننے والی فلم کا ہیرو ہوگا۔

یہ ڈائریکٹر بھی ماضی کے اسی ڈائریکٹر کے شاگرد تھے جنہوں نے ہیرو بنانے کے بہانے اپنی خدمت کروائی تھی۔ بڑے بینر کی اس فلم میں ملک بھر سے ساتھی فنکاروں کی تلاش شروع کردی گئی اور کچھ ہی دنوں میں انڈسٹری کے بڑے بڑے نام فلم کی کاسٹ میں شامل ہونا شروع ہو گئے۔ فلم کی شوٹنگ کا آغاز ہی ایک گرینڈ کیمرہ اوپننگ تقریب سے ہوا اور اس کے لئے لالی ووڈ یعنی ہیرو کے اپنے شہر لاہور کا انتخاب کیا گیا پھر کیا تھا پروڈیوسر نے اپنے ساتھی انویسٹرز کے ذریعے عالی شان تقریب کا اہتمام کروایا اور ملک بھر سے لوگ دیوانہ وار شریک ہوئے۔

فلم کی شوٹنگ کے آغاز اور ہر سین کو فلمانے کے لئے مختلف شہروں کی لوکیشنز پر ایسی ہی پرکشش تقریبات سے دیگر فلمسازوں کی نیندیں حرام ہونا شروع ہو گئیں اور انھیں اپنا سرمایہ مستقبل میں ڈوبتا دکھائی دینے لگا۔ فلم کی شوٹنگ شروع ہوئے دو سال گزر چکے تھے۔ اسی دوران ایک اور ماضی کے پرانے کامیاب اور تجربہ کار ہیرو کی فلم بڑی چالاکی سے جلدی ریلیز کر دی گئی جو پھر ہٹ ہو گئی۔ دو سال سے بننے والی بڑے بینر کی فلم کے ہیرو کا غصہ ایک بار پھر دیکھنے کے لائق تھا کہ اسی پرانے ہیرو کی فلم پھر کامیاب ہو گئی اور میری شوٹنگ ہی مکمل نہیں ہو پا رہی۔

یہ احساس فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کو بھی ہو گیا اس لئے رائٹر کی مدد سے فلم میں جلدی جلدی کئی طویل دورانیے کے نئے سین بھی شامل کیے گئے اور پھر اس کی شوٹنگ کے کئی مشکل مراحل بھی آئے اور فلم کا شدت سے انتظار کرنے والے شائقین سمجھتے رہے کہ بس ابھی ریلیز ہوئی کہ ابھی، مگر فلم کو مکمل ہونے میں مزید پانچ سال لگ گئے۔ اس دوران ڈائریکٹر نے مزید کئی مہنگے اور شوقیہ ساتھی فنکار کاسٹ کر کے انھیں بھی رول دے دیے، اس تاخیر کے باعث فلم کی ہیروئن بھی ڈرامائی انداز میں تبدیل ہو گئی جو فلم کے انتظار میں بیٹھے شائقین کے لئے مزید تجسس کا سامان تھا۔

پروڈیوسر بھی توقع سے زیادہ پیسہ اس امید پر لگاتا رہا کہ فلم کی کھڑکی توڑ کامیابی پر سارا سرمایہ سود سمیت واپس لوٹ آئے گا۔ فلم کی اتنی زیادہ مشہوری اور انتظار کے بعد شائقین کو یقین تھا کہ یہ فلم ماضی میں دیکھی تمام فلموں سے زیادہ گلیمرائز اور سبق آموز ہو گی۔ آخر وہ دن آ ہی گیا جس کا فلم کے ہیرو کو بھی بائیس برس سے انتظار تھا۔ ہیرو کے ایسے نوجوان مداحوں کا بھی انتظار ختم ہوا جنہوں نے قسم کھا رکھی تھی کہ سینما میں زندگی کی پہلی فلم وہ اپنے پسندیدہ ہیرو ہی کی دیکھیں گے۔

دھوم دھام سے ریلیز ہونے والی اس فلم سے سینما مالکان کی بھی چاندی ہو گئی، ٹکٹیں بلیک ہوئیں، رش کو دیکھتے ہوئے حریف فلمسازوں نے تو مارے حسد کے کہہ دیا کہ سینما کی ٹکٹیں ہی سیٹوں سے زیادہ فروخت کردی گئی ہیں۔ فلم بین ٹولیوں کی شکل میں اپنے یار دوستوں اور فیملی کے ہمراہ پہلا شو دیکھنے وقت سے پہلے ہی سینما پہنچ گئے۔ فلم شروع ہونے سے قبل پردہ سکرین پر قومی ترانہ بجایا گیا جسے سب نے احتراماً کھڑے ہو کر سنا اس کے بعد منشیات کے استعمال کے نقصانات کے بارے آگاہی کے لئے اشتہارات چلائے گئے۔

سینما ہال میں بیٹھے بعض منچلے اور کھرانٹ شائقین نے سیٹیاں بجانا شروع کردیں تاکہ اب فلم بھی شروع کرو جس کے لئے انھوں نے وقت اور پیسے خرچ کیے ہیں۔ فلم شروع ہوئی اور ہیرو کی پہلے سین میں دبنگ انٹری پر ہرطرف تالیوں اور سیٹیوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ سین تبدیل ہونے لگے مگر ہر سین کے منظر اور پس منظر میں یکسانیت آنے لگی، ہیرو کی اداکاری ہر تبدیل ہوتے سین میں ایک سی لگنے لگی، ولن، ہیرو کے دوست، سپورٹنگ کریکٹرز اور ایکسٹرا سمیت تمام فنکاروں کی ایکٹنگ دیکھنے والوں کو بڑی ہی اوور لگنے لگی۔

ایک جیسی مماثلت رکھنے والے سین، ڈائیلاگ دیکھ اور سن کر ہال میں بیٹھے شائقین بڑبڑانے لگے اور انھیں یوں لگنے لگا کہ یہ فلم تووہ پہلے بھی کئی بار دیکھ چکے تھے، لوگ اب تو رائٹر اور ڈائریکٹر کو بھی کوسنے لگے کہ کیا چربہ فلم بنائی ہے، پھر اچانک انٹرول کے لئے سینما ہال کی تیز روشنیاں جلنا شروع ہو گئیں جس سے سست اور جمائیاں لیتے فلم بینوں کو پوری آنکھیں کھولنے اور اپنے اردگرد بیٹھے لوگوں سے نظریں ملانے میں بھی دشواری ہونے لگی، اسی دوران ہال کی پچھلی سیٹوں سے اٹھتا شور ہر طرف کانوں میں گونجنے لگا لیکن ایک اونچی آواز سب کو ضرور سنائی دی ”اوئے یہ فلم تو ڈبہ نکلی“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شہباز میاں کی دیگر تحریریں