پنجاب کی شاہی اسمبلی

کوئی بیس سال قبل نئی دہلی کے علاقے حوض خاص میں عظیم پنجابی شاعرہ، کہانی نویس اور ناول نگار امرتا پریتم سے ان کے گھر پر ملاقات ہوئی، لاہور کی یادوں اور باتوں کے بعد انھوں نے بھارت آنے کا مقصد پوچھا جس پر انھیں بتایا کہ دہلی میں ”ورلڈ پنجابی کانگریس“ کے اجلاس میں شریک ہونے آئے ہیں، کچھ لمحے خاموش رہیں پھر دھیمے لہجے میں بولیں پنجابیاں نوں اپنی چھوٹی چھوٹی چیزاں دے وڈے وڈے ناں رکھن دی

Read more

فارن فنڈنگ کیس اور ظفر اللہ جمالی کا تاریخی جملہ

وہ مایوس تھا اور جب یہ سوچتا کہ اس ملک میں نواز شریف، محترمہ بینظیر بھٹو، میر ظفراللہ جمالی اور شوکت عزیز وزیراعظم بن سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں وہ غصے میں لال پیلا ہوجاتا، وہ تو ہیرو بھی ہے اور ان سب سے زیادہ اپنے پرستار بھی رکھتا ہے اس لئے اب کسی بھی طرح اس نے بس وزیراعظم بننے کی ٹھان لی، مگر جب اس کی جماعت کا بانی رکن اور قریبی ساتھی اکبر ایس بابر کہتا

Read more

کون سے انسانی حقوق، کیسا آزادی اظہار؟

ہیومن رائٹس واچ نے 2020 ء کو پاکستان میں سیاسی مخالفین، حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لئے سخت سال قراردیا ہے۔ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام نے حزب اختلاف، صحافیوں اور انسانی حقوق کے علم برداروں کو مسلسل ڈرایا دھمکایا اور ہراساں کیا، ان کے خلاف مقدمات درج کر کے قانونی کارروائی بھی کی۔ اس طرح سیاسی مخالفین اور آزادی اظہار پر حملوں نے ملک کو خطرناک راستے پر ڈال دیا اور یہ طرزعمل جمہوری نہیں آمرانہ ہے۔

ملک کی نامور خواتین صحافیوں کو ایک مشترکہ بیان بھی جاری کرنا پڑا کہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے باعث انہیں سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کے ساتھ ریپ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Read more

ہماری کوئی برانچ نہیں

پی ٹی وی ڈراموں کے سنہری دور میں مزاحیہ ڈرامہ ”الف نون“ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ اس کے دونوں کردار آج بھی ہمارے اردگرد ہی کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ کمال احمد رضوی الن کے کردار میں ایک چالاک اور مکار کاروباری شخصیت کے روپ میں ہر قسط میں ایک نئے بزنس پلان کے ساتھ نمودار ہوتے۔ رفیع خاور یعنی ننھا اس کا ایک معصوم اور بھولا بھالا دوست ہر بار الن کے دولت کمانے کے نت نئے پلان کا فرنٹ مین بن جاتا۔ الن کا دولت مند بننے کا خواب تمام تر چالاکیوں اور سازشوں کے باوجود اس وقت دھرے کا دھرا رہ جاتا جب ننھا لوگوں کے سامنے سچ بول دیتا مگر چالاک الن اس موقع پر نہایت مہارت سے غائب ہوجاتا اور آخر میں عوام اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کا بدلہ معصوم ننھے سے اس کی پٹائی کی صورت میں لیتے۔ یوں ”الف نون“ کی مختصر دورانیے کی کہانی کا ایک اور باب اختتام پذیر ہو جاتا۔

Read more

یہ فلم تو ڈبہ نکلی

فلم کے رائٹر ، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر انتہائی تجربہ کار اور اپنے کام کے منجھے ہوئے لوگ تھے۔ رائٹر نے فلم کی کہانی اس بار سرکٹ میں نمائش کے لئے پیش ہونے والی پرانی فارمولا فلموں سے ہٹ کر لکھی۔ پروڈیوسر نے اپنے دور کی سب سے مہنگی فلم بنانے کے لئے روپے پیسے کی پرواہ نہ کی اور بوریوں کے منہ کھلے رکھے۔ فلم کے ڈائریکٹر ماضی میں بڑی سپرہٹ فلمیں دے چکے تھے اور وہ اپنی بنائی ہوئی ہر فلم کو لمبے عرصے تک پردہ سکرین پر لگائے رکھنے کا ہنر جانتے تھے لوگ بھی ان کی فلموں کے عادی ہوچکے تھے۔

نئی فلم وہ منفرد انداز میں بنا رہے تھے اور فلم کا ہیرو بھی ہمیشہ کی طرح خود ہی چنا۔ ہیرو بھی وہ جو فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی کسی اور میدان میں سکہ جما چکا تھا۔ کیا بچے بڑے، لڑکے لڑکیاں، غریب امیر سب دیوانے تھے اس کے حسن اور شخصیت کے، مگر کچھ چاہنے والے یہ ضرور کہتے کہ اسے فلموں میں کام نہیں کرنا چاہیے یہ گندا کام ہے اور صاف ستھرے لوگوں کو اس سے دور رہنا چاہیے لیکن بڑی سکرین پر آنے کے جنون میں مبتلا وہ پندرہ سالوں سے دربدر ہو رہا تھا

Read more