فلم کے رائٹر ، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر انتہائی تجربہ کار اور اپنے کام کے منجھے ہوئے لوگ تھے۔ رائٹر نے فلم کی کہانی اس بار سرکٹ میں نمائش کے لئے پیش ہونے والی پرانی فارمولا فلموں سے ہٹ کر لکھی۔ پروڈیوسر نے اپنے دور کی سب سے مہنگی فلم بنانے کے لئے روپے پیسے کی پرواہ نہ کی اور بوریوں کے منہ کھلے رکھے۔ فلم کے ڈائریکٹر ماضی میں بڑی سپرہٹ فلمیں دے چکے تھے اور وہ اپنی بنائی ہوئی ہر فلم کو لمبے عرصے تک پردہ سکرین پر لگائے رکھنے کا ہنر جانتے تھے لوگ بھی ان کی فلموں کے عادی ہوچکے تھے۔
نئی فلم وہ منفرد انداز میں بنا رہے تھے اور فلم کا ہیرو بھی ہمیشہ کی طرح خود ہی چنا۔ ہیرو بھی وہ جو فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی کسی اور میدان میں سکہ جما چکا تھا۔ کیا بچے بڑے، لڑکے لڑکیاں، غریب امیر سب دیوانے تھے اس کے حسن اور شخصیت کے، مگر کچھ چاہنے والے یہ ضرور کہتے کہ اسے فلموں میں کام نہیں کرنا چاہیے یہ گندا کام ہے اور صاف ستھرے لوگوں کو اس سے دور رہنا چاہیے لیکن بڑی سکرین پر آنے کے جنون میں مبتلا وہ پندرہ سالوں سے دربدر ہو رہا تھا
Read more