شفقت امانت علی خاں اور شفقت سلامت علی خاں کا یہ گانا ”موسیقی“ کو مہنگا پڑے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں شفقت امانت علی خاں اور شفقت سلامت علی خان کا ایک مشترکہ گانا سامنے آیا۔ جس میں انھوں نے کھماج اور درگا کی بندشوں کو بڈاپیسٹ سمفنی آرکسٹرا کے ساتھ گایا ہے۔

شفقت امانت علی خاں پٹیالہ گھرانا اور شفقت سلامت علی خاں شام چوراسی گھرانے کے نمائندہ اور نامور فنکار ہیں۔ ان دونوں فنکاروں نے بڑی خوبصورتی سے مختلف بندشوں کو جو کہ مختلف راگوں میں ہیں ایک ہی گانے میں سمو دیا۔ اور ہنگری کے ساز بجانے والے لے کر انھوں نے اپنے آئٹم کو اور بھی پر کشش بنا دیا۔

اگرچہ یہ گانا راگ کھماج اور راگ درگا کو ہی بنیاد بنا کر گایا گیا مگر شروع میں شفقت امانت علی خاں نے راگ بھیرویں کی مشہور استھائی جو کہ استاد امانت علی خاں اور استاد فتح علی خاں نے گائی ”کب آؤ گے تم آؤ گے“ کی ایک لائن گائی۔ اور اس میں بڑی مشاقی سے گندھار کو ”سا“ مان کر کھماج کے ہی سر گائے جو کہ بھیروی کے سر بن جائیں گے اور پھر بڑی خوبصورتی سے اپنا مشہور گانا ”مورا سیاں موسے بولے نا“ شروع کر دیا۔ یہ گانا بھی استاد امانت علی خاں اور استاد فتح علی خاں کی ہی گائی ہوئی استھائی پر بنایا گیا ہے۔ شفقت سلامت علی خاں نے درگا کی استھائی ”لاکھ جتن کر ہاری“ گایا جسے استاد سلامت علی خاں، نزاکت علی خاں نے گایا تھا۔

اس میں شک نہیں کہ سننے میں یہ بھلا لگتا ہے مگر پٹیالہ اور شام چوراسی کے ان نمائندہ فنکاروں کے اس گانے کے بعد چند سوالات اٹھتے ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اس بات کا پہلے ہی چرچا ہے کہ موسیقی کا علم یا تو چھپایا گیا اور یا اسے غلط بتا دیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب کلاسیکی موسیقی پاکستان میں انتہائی کسمپرسی کا شکار ہے۔ ان کے اس طرح مختلف راگوں کو ملا کر گانے سے نہ صرف راگوں کی اصل شکل گم ہونے کا خدشہ ہے بلکہ اس روایت سے کلاسیکل موسیقی کی مسخ شدہ شکل گانے اور سننے کی عادت پڑ جائے گی۔

شفقت امانت علی خاں اور شفقت سلامت علی خاں کو تو پتا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں کس طرح اور کس خوبصورتی سے وہ بھیرویں، کھماج اور درگا کو ملا کر گا رہے ہیں۔ مگر ضروری ہے کہ یا تو پہلے سننے والوں کو اس حد تک موسیقی کی سمجھ دی جائے کہ وہ نہ صرف اس تجربے سے محظوظ ہوں بلکہ مختلف راگوں کو پہچان پائیں تا کہ کسی طرح کی کج فہمی نہ ہو۔ چونکہ پاکستان میں عام آدمی کلاسیکل موسیقی سے اس حد تک واقف نہیں ہیں اس لئے ان کے کے لئے اس تجربے سے حقیقی لطف لینا ممکن نہیں۔ مگر اس سے کسی حد تک محظوظ ضرور ہوں گے ۔ مگر مبتدی اور نئے گانے والے اور نئے نئے گانے بنانے والے اب اسی ڈگر پر چل نکلیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اصل بندشوں کو مروڑ توڑ کر پیش کیا جانے لگے گا اور پھر اساتذہ کا علمی سرمایہ گھرانوں کی بندشیں کہیں کتابوں میں ہی ملیں گی۔

پہلے ہی ایک کھرا اور سچا راگ یا اس کی بندش کم سننے کو ملتی ہے ہمارے چند اساتذہ پر پہلے ہی کئی علمی بد دیانتیوں کا الزام ہے کہ وہ پہلے سے موجود راگوں کو خودساختہ نام سے گا دیا، راگ کا نام غلط بتا دیا، کرناٹک موسیقی کے راگ لے کر دعوی کر دیا کہ یہ میرا بنایا ہوا راگ ہے۔ اور اب یہ راگوں کو ملا کر گانا بنا دینے کی روایت ڈال دی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کسی بھی راگ کی بندش کی ایک لائن لو، اس کے آگے اپنے انترے لکھو، دو چار راگ بلا سوچے، سمجھے اور جانے ملا دو اور گانا تیار۔

جناب شفقت امانت علی خاں اور جناب شفقت سلامت علی خاں کے اس تجربے کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ شاید گلیمر کی حد تک ٹھیک ہے مگر پرکھوں کی روایات اور علمی سرمایہ کو یوں ضائع کر دینا مناسب نہیں۔ گھرانوں کے نمائندہ فنکاران سے جو کہ ملک پاکستان کے نامور فنکار بھی ہیں یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس حد تک جائیں گے کہ کل کو ایک مستند بندش بھی ڈھونڈے سے نہ ملے اور جگ ہنسائی بھی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شہزاد انجم، امریکہ کی دیگر تحریریں