کیا پاکستان میں اسلامی حکومت قائم ہو سکتی ہے؟


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

پاکستان کا موجودہ دستور اسلامی ہے۔ اس پر تمام مسالک کے ان علما کے دستخط موجود ہیں جو کہ دستور کی تشکیل کے وقت اسمبلی میں موجود تھے۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں اس میں قرار دادِ مقاصد تک ڈنڈے کے زور پر شامل کر دی گئی تھی جو کہ دستور ساز اسمبلی نے کسی مصلحت کی وجہ سے ہی دستور کا حصہ نہیں بنائی تھی۔ اس کے باوجود آپ اگر کسی شہری سے بھی پوچھیں تو غالب امکان ہے کہ وہ یہی کہے گا کہ پاکستان کا دستور اسلامی نہیں ہے۔ کالعدم تحریک طالبان، لال مسجد کے ملا عبدالعزیز اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لینے والے ایسے دوسرے افراد اور گروہوں کا بھی یہی موقف ہے کہ پاکستان کی حکومت اسلامی نہیں ہے اور وہ ہتھیار کے زور پر اسلامی حکومت لائیں گے۔

ان کے ہتھیار کے زور پر اسلامی حکومت لانے کی کوشش میں ساٹھ ستر ہزار پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ طالبان، خاص طور پر ازبکوں نے جس طرح قید کیے جانے والے فوجیوں کے سر کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلی، اور اس طرح کے دوسرے کریہہ اور خلاف اسلام کام کیے، تو ان کے حامی بھی ان سے دور ہونے لگے ہیں۔ داعش کا ظلم دیکھ کر، قیدیوں کو زندہ جلا دینے کے مناظر دیکھ کر، تو لوگ باقاعدہ خوفزدہ ہو گئے ہیں کہ ایسے حکمران آ گئے تو کیا ہو گا۔ شاید اسی انتہاپسندی کو دیکھ کر ملک کے سب سے مقبول لیڈر نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ ملک کا مستقبل لبرل ہونے میں ہے۔ بلاول بھٹو بھی اگلے انتخابات پیپلز پارٹی کی لبرل بنیاد پر لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ حتی کہ ماضی میں تحریک طالبان کے لڑاکوں کو شہید قرار دینے والی اور پاکستانی فوجیوں کو شہید نہ ماننے والی جماعت اسلامی کے نائب امیر اسد اللہ بھٹو بھی یہ بیان دے چکے ہیں کہ جماعت اسلامی ایک لبرل جماعت ہے۔

ملک میں لبرل طبقہ ایک بڑی تعداد میں موجود ہے اور وہ موجودہ طرز حکومت برقرار رکھنے کی دعویدار جماعتوں کو ہی ووٹ دیتا ہے اور مذہبی بنیاد پر ووٹ مانگنے والوں کو غالب ترین اکثریت سے مسترد کرتا ہے۔ یہ ووٹر ملک میں اسلامی نظام تو چاہتا ہے، مگر سعودی، ایرانی، طالبانی یا داعشی انداز کے نام نہاد ’اسلامی‘ نظام حکومت سے متنفر ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ووٹر کیسا اسلامی نظام چاہتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ سو فیصد ممکن نہ ہو تو ستر اسی فیصد اسلامی نظام حکومت قائم کر لیا جائے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ ستر اسی فیصد اسلامی نظام حکومت کیا ہے جس پر لبرل، سیکولر، اسلامسٹ وغیرہ سب ہی متفق ہو سکتے ہیں۔

اسلامی حکومت کے بارے میں ایک عام شہری سے بات کی جائے تو اس کے ذہن میں خلافت راشدہ کا دور ابھرتا ہے۔ اس دور میں سے خاص طور پر حضرت عمرؓ کا دور مثالی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ چاروں خلفائے راشدین کے دور میں صرف یہی دس سال ایسے تھے جب ملک خانہ جنگی اور فتنوں سے محفوظ رہا تھا۔ ایک طرف تو حضرت ابوبکرؓ کے دور میں لڑی جانے والی ارتداد کی جنگوں کا خاتمہ ہو چکا تھا، دوسری طرف ابھی امت حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے دور میں ابھرنے والے فتنوں سے محفوظ تھی، اور تیسری طرف روم اور ایران کی فتوحات کی وجہ سے مملکت کے خزانے بھی بھرے ہوئے تھے۔

حضرت عمرؓ کے طرز حکومت کی بات کی جائے تو ایک عام پڑھے لکھے شخص کے ذہن میں اس زمانے کی عبادات اور اذکار و وظائف کا تصور نہیں آتا ہے۔ وہ یہ نہیں بتاتا ہے کہ حضرت عمرؓ اتنے نیک تھے کہ ساری ساری رات جاگ کر عبادت کرتے تھے، بلکہ وہ یہ بتاتا تھا کہ حضرت عمرؓ ساری ساری رات جاگ کر رعایا کی خبر گیری کرتے تھے۔ اس کے ذہن میں وہ حکمران آتا ہے جس سے ایک عام شہری بھی جواب طلب کر سکتا تھا کہ یہ دوسری چادر تمہارے پاس کہاں سے آئی ہے اور مال میں یہ اضافہ کیوں ہوا ہے۔ اس کے دور میں قاضی کی عدالت میں ایک حکمران کا بھی وہی مقام تھا جو ایک غریب شہری کا تھا اور دونوں برابر تھے۔ قانون دونوں پر یکساں طور پر لاگو کیا جاتا تھا۔ قانون کے آگے مصر کا گورنر تو کیا شے تھا، خلیفہ وقت کا اپنا بیٹا بھی لاچار ہو کر سزا پاتا تھا۔ گورنروں کے دروازے عام شہریوں کی داد رسی کے لئے کھلے رکھنے کا حکم تھا۔ عہدے پر تقرری کرتے وقت مال کا حساب لیا جاتا تھا، اور عہدہ چھوڑتے وقت موجودہ اثاثے دیکھ کر کسی غیر معمولی اضافے کو ضبط کر لیا جاتا تھا۔ اس حکمران کے دور میں ریاست ایک فلاحی ریاست تھی جس کے بچوں بوڑھوں اور معذوروں کو بلاتفریق مذہب وظیفہ ملتا تھا۔ حاکم وقت ہزاروں میل دور فرات کے کنارے کسی کتے کے بھوکے ہونے کا قصور وار بھی خود کو ٹھہراتا تھا۔

یعنی اس مثالی دور میں حکمرانوں کو عام شہریوں کے آگے جوابدہ ہونا پڑتا تھا۔ انصاف فوراً ملتا تھا اور قاضی کے نزدیک غریب اور امیر ایک برابر تھے۔ حکمرانوں کی کرپشن پر سخت کنٹرول تھا۔ غریب افراد کی ریاست والی وارث تھی۔ کیا ان پوائنٹس پر لبرل، سیکولر اور اسلامسٹ متفق نہیں ہیں؟ کیا اسلامی نظام کے اس پہلے حصے کی متحد ہو کر کوشش نہیں کی جا سکتی ہے؟

ہمارے ہاں اسلامی نظام نافذ کرنے کے داعی صرف ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالنے کی سزا دینا چاہتے ہیں، اور عوامی فلاح کا ذکر ہی نہیں کرتے ہیں۔ جبکہ اسلامی ریاست، پہلے عوام کو مجبوریوں سے آزاد کرتی ہے، اور اس کے بعد سخت سزاؤں کے نفاذ کی طرف آتی ہے۔ حضرت عمرؓ کے دور کے دو واقعات مشہور ہیں۔ ایک تو قحط کے زمانے میں سخت سزاؤں کی معطلی، اور دوسرے وہ واقعہ جب چند غلاموں نے ایک اونٹ چرا کر کھا لیا تھا۔ پکڑے گئے تو چوری کے جرم میں ان کے ہاتھ کاٹنے کی بجائے حضرت عمرؓ نے انہیں اس بنا پر معاف کر دیا کہ وہ بھوک کے ہاتھوں مجبور تھے اور کہا کہ ان کے مالک کو سزا ملنی چاہیے جس نے انہیں اس حد تک بھوکا رکھا کہ وہ چوری پر مجبور ہو گئے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اسلامی نظام کا فلاحی انداز متعارف کرانے پر توجہ دی جائے تو پھر ہی اسلامی نظام کا نفاذ ہو سکتا ہے، ورنہ پھر یہ آدھے تیتر اور آدھے بٹیر والی منافقت ہی ہو گی۔ اسلامی حکومت کے ان نکات کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگے جائیں گے، تو عوام ووٹ کیوں نہیں دیں گے؟ ایک بھوکے آدمی کو ابدی دنیا کی جنت سے زیادہ اس دنیا کی روٹی سے مطلب ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “کیا پاکستان میں اسلامی حکومت قائم ہو سکتی ہے؟

  • 08/12/2016 at 1:23 شام
    Permalink

    Well said. The same thing is in my mind also. Why only controversial and disputed points are highlighted by both Islami and Liberal segments instead of trying to find some common ground?

Comments are closed.