تاریخ کا پرچہ ہمیشہ آؤٹ ہوتا ہے پھر بھی سب پاس نہیں ہوتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کا یہ ایک دلچسپ پہلو ہے کہ یہ انسانی زندگی میں کیے گئے مطالعے، مشاہدے اور تجربے سے حاصل شدہ نتائج اور اس سے ملحقہ پس منظر، حالات اور واقعات کا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ( اولا ”) مخزن ہو جاتی ہے اور ثانیا“ یہی تاریخ آگے چل کر انسانی مطالعے، مشاہدے اور تجربے کے لئے ماخذ کا کام بھی انجام دیتی ہے۔

آنے والے کل کو سمجھنے کے لئے اور آج کی صورت حال کو پرکھنے کے لئے، گزرے ہوئے کل کو جاننا اتنا ہی ضروری ہو جاتا ہے جتنا کسی سفر میں متعلقہ راستوں سے با خبر ہونا۔ یہ وہ نشان دہی ہے جو فیصلوں میں غلطی کے امکانات کو محدود اور بہتری کے اسباب کو ہموار کرنے میں کار گر ہو سکتی ہے (اور ہوتی ہے ) ۔

اس بارے میں بھی شاید دو رائے نہیں ہو سکتی کہ حقیقت کا سامنا کرنے کے لئے، حقیقت پسندانہ رویہ یہی ہے کہ اس کے ہونے کا اعتراف کیا جائے اور اگر وہ چیلنج کی صورت میں ہے تو اسی تناسب سے اس کے حل کے لئے تدابیر اختیار کی جائیں۔ ان تدابیر میں تاریخ سے رہنمائی اولین دانشمندانہ ترجیح کہی جا سکتی ہے جو بہت سے وسوسوں، مفروضوں اور اندیشوں کو رد کرتے ہوئے حقیقی حل کی سمت حالات کا رخ موڑ سکتی ہے۔

تاریخ میں دستیاب واقعات اور ان کے عمل میں آنے کی وجوہات مختلف زاویوں سے اس قدر صراحت سے نمایاں ہوتی ہیں کہ ان کے تمام پہلووں سے کسی بھی موجودہ صورت حال کو بہ خوبی جانچا جا سکتا ہے۔ تاریخ درحقیقت وہ روشن دان ہے جس سے آنے والی روشنی تصویر کے تمام رخ عیاں کر دیتی ہے اور اس سے در آنے والی ہوا، ذہن کے بند گوشے کھول کر بہتر اور منطقی نتائج پر اکساتی ہے۔

تاریخ کی اس تمام تر اہمیت کے باوجود دلچسپ امر یہ ہے کہ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں تاریخ سے سیکھنے کی ہر گز کوشش نہیں کی گئی اور تاریخ میں ایسے تجزیوں، حکمت عملی اور فیصلوں کا ڈھیر لگا دیا گیا جو دانائی اور دانشمندی کے استعمال سے بہتر امکانات اختیار کر سکتے تھے۔ کسی بھی صورت حال میں دلائل کے انبار سے صحیح رائے کا انتخاب مشکل سہی مگر تمام تر فکری جھکاؤ سے بالا ہو کر، ایسا کرنا، نا ممکن بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں درست سمت کے چناؤ کی ان گنت مثالیں اسی طرز عمل کا اظہار ہیں۔

درپیش حالات اور واقعات میں معاملہ فہمی کا مظاہرہ جس قدر ضروری ہے، اسی قدر وقت کی نزاکت کو بھانپنا شاید اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ بسا اوقات لمحوں کی تاخیر صورتحال میں وہ تبدیلیاں لے آتی ہے جب ایک وقت کے کارگر منصوبے، اپنے وقت سے پہلے یا بعد میں اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔ وہ تب ہی تک اثر انگیز ہوتے ہیں جب تک اس مخصوص لمحے میں ان کا استعمال کارآمد دکھائی دیتا ہے۔ وقت کا پس و پیش ان کی اہمیت پر اپنے انداز سے اثرانداز ہوتا ہے جس کی پیشگی قیاس آرائی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔

انسانی معاشروں میں رواں چھوٹی بڑی کشمکش مختلف صورت حال سے ہوتی ہوئی، ناکامی یا کامیابی سے جب دو چار ہوتی ہے تو یہ سوال ضرور سر اٹھا تا ہے کہ اس دوران تاریخ کے تجربوں کو کہاں تک پیش نظر رکھا گیا۔ ناکامی سے دوچاری کی صورت میں خاص طور پر شرمندگی کے ساتھ یہ احساس قوی ہو جاتا ہے کہ اس دوران تاریخ کے تجربوں سے سبق کیوں نہیں حاصل کیا گیا۔

انسانی جبلت معاملات کو نمٹانے کے لئے اپنی عقل و فہم پر انحصار کی عادی ہوتی ہے اور اس خوش فہمی اور خوش گمانی میں اکثر وہ غلطیاں دہرا دیتی ہے جسے تاریخ نے، نہ دہرانے کی تاکید کی ہوئی ہوتی ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ تاریخ کا پرچہ آؤٹ ہونے کے باوجود، اس امتحان میں سب پاس نہیں ہو پاتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •