مولانا ظفر علی خاں کی توند کیوں نہیں تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا ظفر علی خاں کے بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ اچھے مقرر تھے، شاعر تھے، انشا پرداز تھے، سیاست دان تھے، اچھے صحافی تھے یا اچھے ایڈیٹر تھے۔ ان میں یہ سب خوبیاں موجود تھیں۔ شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ان کے علاوہ ان میں کچھ پہلوانی خوبیاں بھی موجود تھیں۔ لیکن عام پہلوانوں کی طرح وہ ایک بہت بڑی توند کے مالک نہیں تھے۔ ان کی توند کیوں نہیں تھی؟ اس راز سے ایک اور ”مولانا“ چراغ حسن حسرت نے پردہ اٹھایا ہے۔

لیکن پہلے مولانا ظفر علی خاں اور چراغ حسن حسرت کی پہلی ملاقات کا احوال جو حسرت صاحب نے یوں بیان کیا ہے : ”اب سے کوئی دس سال ادھر کا ذکر ہے کہ میں اخبار ’نئی دنیا‘ کے دفتر میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔ اتنے میں کسی نے آ کر کہا کہ ’جمیندار صاحب ( مولانا ظفر علی خاں کے اخبار کانام زمیندار تھا) آئے ہیں۔‘ میں لنگھی باندھے بیٹھا تھا۔ سر کے بال پریشان، ڈاڑھی کئی دن کی بڑھی ہوئی، ’جمیندار‘ کا نام سنتے ہی ہڑ بڑا کے اٹھا، پوچھا ’کون جمیندار صاحب؟

‘ وہ بے چارا کچھ کہنے نہ پایا تھا کہ مولانا شائق احمد عثمانی آئے اور کہنے لگے : ’بھئی مولانا ظفر علی خاں آئے ہیں۔‘ چچا صدیق انصاری نے، جو اپنے گدیلے پر بیٹھے پانوں کی جگالی فرما رہے تھے، انگڑائی لی اور نیم باز آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ کر ایک اور گلوری کلے میں دبا لی۔ ان دنوں ’نئی دنیا‘ کا دفتر چونا گلی میں ہوا کرتا تھا۔ سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ باہر ایک طرف عصر جدید پریس، دوسری طرف حکیم غلام مصطفیٰ کا مطب۔

مولانا ظفر علی خان

دروازے کے اندر گھسو تو داہنی طرف نئی دنیا آباد تھی اور بائیں طرف مولانا شائق احمد عثمانی نے پرانی دنیا بسا رکھی تھی، یعنی اپنے اہل و عیال اور عربی کی بھاری بھرکم کتابوں سمیت رہتے تھے۔ میں اس نئی دنیا کا کولمبس (چراغ حسن حسرت“ کولمبس ”کے قلمی نام سے فکاہیہ کالم لکھا کرتے تھے ) تھا اور مقالہ افتتاحیہ کے جہاز کے ساتھ ساتھ فکاہات کی کشتی بھی چلاتا تھا، افسوس کہ یہ محفل سال بھر کے اندر اندر برہم ہو گئی، نہ نئی دنیا رہی نہ پرانی دنیا، رہے نام اللہ کا۔“

چراغ حسن حسرت نے مولانا کی دفتر میں آمد کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے : ”تھوڑی دیر میں مولانا ظفر علی خان کھٹ کھٹ کرتے تشریف لائے۔ میں نے انہیں پہلے نہیں دیکھا تھا۔ تصویریں ضرور دیکھی تھیں لیکن تصویروں سے کسی شخص کی صورت شکل کے متعلق صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، بہرحال اتنا تو یقین تھا کہ ان کی توند تو ضرور بڑھی ہوئی ہو گی۔ آخر جب معمولی کارکنوں کا قبہ شکم گنبد فلک سے ہمسری کرتا ہے تو مولانا ظفر علی خاں کو جنھیں آل انڈیا لیڈر کی حیثیت حاصل ہے، ایک عدد گرانڈیل توند کا مالک ہونا چاہیے۔ لیکن ان کو دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ نہ توند نہ عمامہ، آخر یہ کیسے مولانا اور کیسے لیڈر ہیں؟ یہ راز لاہور آ کے کھلا کہ مولانا توند سے کیوں محروم رہے؟“

وہ توند سے کیوں ”محروم“ تھے؟ لگے ہاتھ اس کا تذکرہ بھی حسرت صاحب سے سن لیجیے : ”میں لاہور آیا تو کچھ دنوں زمیندار کے دفتر میں قیام رہا۔ ایک رات کا ذکر ہے کسی نے پچھلے پہر میرا شانہ ہلایا۔ میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ لیکن ابھی صبح کاذب تھی، ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ کوئی شخص میرے سرہانے کھڑا ہے۔ میں گھبرایا کہ الٰہی یہ کیا ماجرا ہے۔ اتنے میں مولانا کی آواز آئی کہ اٹھو میرے ساتھ سیر کو چلو۔

میں سمجھ گیا کہ مولانا سیر کو جا رہے ہیں اور مجھے شرف رفاقت بخشنا چاہتے ہیں۔ لیکن خدا بھلا کرے قاضی احسان اللہ مرحوم کا، انہوں نے مجھے پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ اگر مولانا تمھیں اپنے ساتھ سیر کو لے جانا چاہیں تو ہر گز نہ جائیو۔ میں نے پوچھا یہ کیوں؟ کہنے لگے وہ پچھلے پہر اٹھ کر نہر کے کنارے میلوں دوڑتے ہی چلے جاتے ہیں، ڈنٹر پیلتے ہیں، تم ساتھ گئے تو تمھیں بھی دوڑائیں گے اور جب تم نڈھال ہو جاؤ گے تو اپنے ساتھ نماز پڑھائیں گے۔

اب مولانا نے ساتھ چلنے کر کو کہا تو قاضی صاحب کی نصیحت یاد آ گئی اور آنکھوں تلے موت کا نقشہ پھر گیا۔ میں نے نہایت مضمحل آواز میں کہا کہ ’مولانا میں تو۔ میں تو سخت بیمار ہوں، رات بخار ہو گیا تھا۔ اب سر میں میں بھی سخت درد ہے، پیٹ میں بھی درد ہو رہا ہے۔ غالباً قولنج ہے۔ مجھے یہ مرض پہلے بھی ہو چکا ہے۔ ہائے اللہ‘ یہ کہہ کر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔

یہ تدبیر کارگر ہوئی۔ مولانا نے مجھ سے ہمدردی ظاہر کی۔ علاج کے متعلق چند معقول مشورے دیے اور تشریف لے گئے۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور جی میں تہیہ کر لیا کہ اب دفتر میں نہیں رہوں گا۔ اب یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ مولانا توند سے کیوں محروم ہیں۔ ”

ان کی پہلوانی خصوصیت کی مزید تفصیل چراغ حسن حسرت نے ان الفاظ میں بیان کی ہے : ”آگے چل کر معلوم ہوا کہ انہیں صرف دوڑنے اور ڈنٹر پیلنے کا ہی شوق نہیں، مگدر بھی ہلاتے ہیں، نیزہ بازی اور شہسواری میں بھی برق ہیں، پیراکی اور کشتی گیری میں بھی بند نہیں، نشانہ بھی اچھا لگاتے ہیں۔ حیدر آباد دکن کی ملازمت کے زمانے میں کچھ دن فوج میں بھی رہے۔ یہ قصہ عجیب ہے، سپاہی نیزہ بازی کے کرتب دکھا رہے تھے ان کی بھی طبیعت لہرائی۔ گھوڑے پر سوار ہو کے نیزہ تانا اور آن کی آن میں میخ اکھیڑ لی۔ ہر طرف سے تحسین وآفرین کا غلغلہ ہوا اور ان کی خدمات فوج کے صیغے میں منتقل کر دی گئیں، لیکن افسرالملک سے نباہ نہ ہو سکا، اس لئے استعفا دے دیا۔“

( اس مضمون کی تیاری میں چراغ حسن حسرت کی کتاب ”مردم دیدہ“ سے مدد لی گئی) ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •