شہر مرگ (ناول)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ڈاکٹر طاہر نواز کا پہلا ناول ہے۔ ان کی فکشن کی پہلی کتاب ہے۔

ناول میں ایک شہر تو ہے لیکن یہ کسی شہر کی کہانی نہیں اور نہ ہی کسی شہر کے عروج و زوال کا نوحہ ہے۔ شرقی اور غربی حصوں میں تقسیم یہ ایک بے نام شہر ہے البتہ اس کے نقشے اور چند دیگر تفصیلات کو مد نظر رکھیں جیسا کہ لوگوں کا رہن سہن، کرداروں کے نام، بعض مبہم اور غیر مبہم حوالے، واضح کلچرل اور مذہبی کوڈز اور پھر بین المتونیت کی بلا واسطہ موجودگی، ایسے میں (شعوری اور لاشعوری طور پر ) ایک مانوس دور کا منظر نامہ ابھر کر سامنے ضرور آتا ہے جسے بہ سہولت نو آبادیاتی دور سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔

ایک لڑکا ”جمال“ جس کی عمر دس سال ہے۔ ایک عمر رسیدہ، چیچک کی بیماری میں مبتلا خاتون جس کا نام ”روشن آرا بیگم“ ہے جو اپنی جوانی میں ایک بے حد حسین اور مشہور طوائف تھی اور تیسرا کردار ”روز میری“ کا ہے۔ جو ایک ڈاکٹر ہے، اس شہر میں پردیسی ہے۔ اس کا تعلق تو مقتدر اور حاکم طبقے یا اشرافیہ سے ہے لیکن اس کے دل میں محکوم، بیماریوں میں مبتلا مقامی لوگوں کا درد اور بے پناہ ہمدردی موجود ہے اور اسی لیے وہ اپنے لوگوں کی مخالفت کے باوجود اپنا کلینک شہر کے اس حصے میں بنائے ہوئے ہیں جہاں مقامی، کچلے اور پسے ہوئے لوگ بستے ہیں۔

یہ تین کردار اور ان کی انفرادی کہانیاں ہی دراصل ناول کا بنیادی مواد اور نکتہ ارتکاز ہیں جو اس شہر مرگ میں تنہائی، بے یقینی، قسمت اور موت سے نبرد آزما ہیں۔ قحط، بیماریاں اور قدرتی آفات کا سلسلہ، موت کی ہولناکی، دلدوز مناظر اور دیگر تفصیلات ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور تکنیکی اعتبار سے عمدگی اور خوبصورتی سے فکشنائز ہوئے ہیں اور اپنے آپ میں نہایت تاثر خیز ہیں۔ جمال جو ایک لاوارث بچہ ہے جسے دو اجنبی اور مہربان عورتیں روشن آرا بیگم اور روزمیری، نقاہت اور بے ہوشی کے عالم میں سڑک پر گرا ہوا دیکھتی ہیں اور اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔

روشن آرا بیگم کو بھی روزمیری نے ہی سہارا دے رکھا ہے۔ جلد ہی جمال ان دونوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ کیوں کہ روزمیری ایک بیوہ ہے، اکیلی اور بے اولاد بھی ہے اور روشن آرا بیگم جو تنہائی اور افلاس کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ خود بھی لاوارث ہے۔ ”روشن آرا بیگم اور روزمیری“ دو ایسے کرداروں کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے جن کی زندگی کی کہانی اختتام کے قریب ہے زوال کو چھو رہی ہے جبکہ جمال ایک ایسا بچہ ہے جسے آغاز ہی میں سخت حالات، تلخ تجربات اور ایسے صدمات کو جھیلنا پڑا ہے جنھوں نے اسے تنہا اور لاوارث کر دیا ہے۔

ناول کا آغاز ایک قبرستان سے ہوتا ہے جہاں ”جمال“ اپنی بہن کی قبر پر کھڑا آنسو بہا رہا ہے۔ پھر قبرستان سے نکل کر سڑک پر بے ہوش کر گرنے اور روشن آرا بیگم اور روزمیری کو ملنے اور پھر ان دونوں کی موت کے بعد روزمیری کی قبر پر آنے تک، جمال کے اس سفر اور تجربے کو قاری بہت قریب سے دیکھ اور محسوس کر سکتا ہے کیوں کہ ناول میں وقت کے اسی مختصر دورانیے کو ہی فوکس کیا گیا ہے جس میں یہ تینوں کردار ایک دوسرے کی زندگی کا حصہ بنتے ہیں۔

ایک اور بے حد اہم کردار ”فادر جیروف“ کا ہے۔ شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ تینوں کردار اور ان کی کہانیاں، ان کا انجام اور تفاعل، اس ناول کے دو میں سے اس ایک بنیادی پہلو کی تشکیل کر رہے ہیں جسے موضوع کے اعتبار سے حاوی (پہلو) قرار دیا جا سکتا ہے جس کا تعلق ڈیسٹنی یا قسمت کے کھیل سے ہے۔ جبکہ فادر جیروف کا کردار انھی تین کرداروں کے ساتھ مل کر اس دوسرے بنیادی پہلو کی تشکیل کر تا ہوا محسوس ہوتا ہے جو حاوی تو نہیں لیکن نمایاں (پہلو) ضرور ہے اور مشنری یا پولیٹیکل ترجیحات کے تحت محکوم یا مقامی لوگوں میں تبدیلی مذہب کی کوششوں جیسے حساس موضوع سے جڑا ہے اور یہی وہ پہلو ہے جو اس ناول کے نو آبادیاتی تناظر کو شدت سے ابھارتا ہے۔

”جس مقصد کے لیے وہ اتنے عرصے سے یہاں قیام پذیر تھے بالآخر قحط نے اس کام کو آسان کر دیا تھا۔ انھیں امید تھی کہ اگر قحط اسی طرح مزید کچھ عرصے تک رہا تو لوگوں کی کثیر تعداد کو تبدیلی مذہب پر راغب کر لیں گے۔ اس کام کے لیے انھوں نے غلے کا بھی بندوبست کر لیا تھا جو کہ عنقریب ہی شہر میں پہنچنے والا تھا“ ۔

ڈاکٹر طاہر نواز کے افسانوں کو بھی پڑھا، سنا اور اب اس ناول کا بھی مطالعہ کر چکا ہوں۔

طاہر نواز کے لیے شاید خیالات کی سادگی، بیان اور زبان کی سلاست افسانوی اسلوب (کہانی یا فکشن) کا پہلا اصول ہے۔ متن کی تشکیل میں شعوری طور پر علامتی طرز اظہار اور تکنیکی یا اسلوبیاتی پیچیدگی سے گریز دکھائی دیتا ہے۔ پلاٹ کی تشکیل میں بھی مبادیات اور سلجھاؤ اہم عناصر ہیں۔ البتہ ڈاکٹر طاہر نواز کی کہانیاں ساختیاتی اعتبار سے عمومی تعبیری پہلووں کے علاوہ خصوصی علامتی جہات کو اجالنے میں بھی کامیاب رہتی ہیں اور اس ناول کے بارے میں بھی شاید کچھ ایسا ہی کہا جاسکتا ہے؟ امید کرتا ہوں کہ ناول کے قارئین کے لیے اس ادب پارے کا مطالعہ ایک خوشگوار اور منفرد تجربہ ثابت ہوگا۔

Latest posts by جواد حسین بشر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
جواد حسین بشر کی دیگر تحریریں