کرونا اور کمرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کیا پھیلا لگتا ہے سب کچھ ہی سمٹ کر برباد ہوتا جا رہا، دہشت اور خوف ہر طرف دکھائی اور سنائی دینے لگا۔ ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے۔ جس میں دہشت گرد کرونا بنتا ہے۔ مجھ سمیت نہ جانے کتنے افراد اسی غم میں رہے کہ ”ہائے باجی“ یہ کیا ہو گیا۔ اب آگے کب تک زندگی معمول پر آئے گی۔ آئے گی بھی یا نہیں۔

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو
کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

لیکن اس کے ساتھ ہی اپنے اردگرد غور کیا تو یقین ہی نہیں آیا کہ ایک چھت کے نیچے کم از کم کچھ ماہ ہم میں سے اکثریت نے اپنے والدین، بہن بھائی، شریک حیات، بچوں اور دوستوں کے ساتھ بھرپور وقت گزارنے اور آپس میں بات چیت کرنے کا بہترین وقت بھی ملا جو شاید اس مصروف زندگی میں کبھی ملتا ہی نہیں۔

جب لاک ڈاؤن میں رہنے کی وجہ سے کاروبار بند کرنے پڑے اور اس سے معاشی حالات کے بحران نے بین الاقوامی سطح پر کمر توڑی وہاں پاکستانی قوم ہمیشہ کی طرح اس آئی ہوئی قدرتی آفت / وبا میں بھی ایک دوسرے کی مالی امداد اکٹھا اور دینے کے لیے ایسے پیش پیش ہوئی جیسے ہر بار ایک ہو جاتے ہیں۔ عوام نے ہمیشہ کی طرح دل کھول کر زکات، خیرات اور صدقات نکالے۔

شاید کیا یقیناً یہی بڑی وجہ بنی ہے کہ اس کائنات کے مالک خالق کو یہ عمل پسند آیا ہو کہ یہاں پاکستان میں چونکہ پہلے سے موجود مختلف مسئلے مسائل اور پرانی بیماریاں جیسے پولیو جو کہ دنیا کے دوسرے ممالک سے مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں لیکن یہاں آج بھی ان سے بچاؤ کے قطرے ہر سال بچوں کو لازمی پلائے جاتے ہیں وہاں اس کرونا سے تباہی کی تعداد کم ہی رہی۔

ابھی مکمل طور پر کرونا نے خیر باد نہیں کیا ہے لہٰذا اس میں احتیاط اور حکومتی احکامات پر عمل درآمد لازمی اختیار کرتے رہنا ہے تاکہ ہماری اور ہمارے اپنوں کی جسمانی صحت محفوظ رہے۔

سب کا ایک چھت کے نیچے چھٹیوں میں ساتھ رہنا جہاں مجھ جیسی گھریلو خاتون نے لطف اٹھایا وہاں شدید غصہ اور بڑبڑاتی بھی رہی کیونکہ گھر کی صفائی ستھرائی کا کام بھی بہت بڑھ گیا۔

اور تو اور ایک مکمل اور خالص پاکستانی ہونے کے ناتے اپنا حق اور فرض سمجھتے ہوئے اپنے سے چھوٹے اور کمزور یعنی بچوں کے اوپر دوسروں اور اپنے ہی اوپر آیا ہوا غصہ بھی اپنے ہاتھوں اور زبان سے وقفے وقفے سے اتارتے گئے۔

ہمارے اس غصے کے پیچھے بھی جناب ایک بہت بڑا دکھ غم چھپا ہوا ہے اب اور کیا بتائیں دل خون کے آنسو رو رہا۔ کرونا کا لاک ڈاؤن کیا شروع ہوا ہمارا دن کا سکون اور رات کا چین ہی ختم ہو گیا۔ ہائے اللہ! اپنے تو ہاتھ پیر ہی کٹ کر رہ گئے۔

بس کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اپنی کام والی کو روتے ہیں کیونکہ یہ ایسا واحد تیر ہے جو سیدھا ہمارے اوپر آ کر لگا جب ہماری کام والی نے خلیل الرحمان قمر کی لکھی فلم ”پنجاب نہیں جاؤں گی“ کے بالکل برعکس اپنا قدم اٹھا لیا اور لاک ڈاؤن میں تنخواہ لے کر اپنے بچوں کے ساتھ چلی گئی اور چند دنوں بعد واٹس ایپ کر کے ہمیں پیغام بھیجا کہ باجی ”کراچی سے لاہور“ خیریت سے پہنچ گئی ہوں۔

حکومت نے اپنے فیصلے سنانے ہوتے ہیں اور عوام کو ان فیصلوں کو ماننا لازمی ہوتا ہے یقیناً لاک ڈاؤن کے اس فیصلے پر عوام کا ہی بھلا ہوا لیکن زیادہ تر ہم خواتین وبال میں ایسی پھنسی کہ اگر ہمارا بس چلتا تو اس ”کرونا“ کے ہی خلاف با اثر، سیاسی و سماجی تحریکوں اور حقوق نسواں کے علمبرداروں کو اکٹھا کر کے کراچی پریس کلب کے سامنے بعد نماز جمعہ احتجاج و مظاہرہ کرتے کہ اس ”کرونا“ کو ہی محدود مقامات پر منتقل کیجئے کیونکہ ہمارا شدید نوعیت کا نقصان ہو رہا ”گو کرونا گو“ ۔

گھر کا ہر کمرہ کھیل کے میدان سے کم دکھائی نہیں دینے لگا ہر سامان ادھر سے ادھر اور دن و رات کا شور و غل علیحدہ، ایک بار تو ہم نے غصہ میں زور سے کہا کہ ”یا الہی کہاں جاکر سکون سے آرام کریں“ ہمارے صاحبزادے نے جواب میں فوراً نقل اتارتے ہوئے کہا کہ امی اپنے ملک کا وزیر اعظم کہتا ہے کہ ”سکون کی“ ”زندگی وہ صرف قبر میں ہوتی ہے۔

یہ سنتے ہی اپنی تو وہی مثل ہو گئی کہ گوالن اپنے دہی کو کھٹا نہیں کہتی پھر وہ دن اور آج کا دن ہم نے لفظ ”سکون“ زبان سے نہیں بولا۔

لیکن کیا کرتے اب بہت ہو گیا تھا انہی حالات میں کم از کم اپنا ذاتی کمرہ تو صحیح کر کے رکھنا تھا بس پھر کیا تھا سب کو ساتھ ملایا خصوصاً بچوں کی ٹائیگر فورس پر زور آزمایا سارے کام بانٹ دیے پھر آرام سے موبائل پر خود مصروف ہو گئے تھوڑی دیر بعد آواز آئی کہ ہم نے صفائی کرلی۔

بڑی تسلی سے انگڑائیاں لیتے ہوئے تھوڑی دیر بعد جاکر دیکھا تو بس کمرے کی اوپر اوپر سے صفائی ہوئی لیکن اتنا سارا پرانا بکھرا سامان وہیں کا وہیں،

دوبارہ شدید ترین غصہ آیا اور لگے چھوٹوں کی شامت کہ یہ کس قسم کی صفائی کی ہے ایسی ہوتی ہے صفائی وغیرہ وغیرہ۔

اس بار بچے تو خاموشی سے ہمارا غصہ سنتے رہے۔
البتہ ہمارے اپنے ہی اندر سے کسی نے بولا کہ

” محترمہ آپ کا اپنا ہی کمرہ ہے نہ؟
آپ کے ہی لائے ہوئے سامان ہیں؟
شعورؔ صرف ارادے سے کچھ نہیں ہوتا۔
عمل ہے شرط ارادے سبھی کے ہوتے ہیں۔

اگر اپنی پسند کی صفائی، سجاوٹ، تبدیلی اور حفاظتی اقدامات چاہیے تو خود سے اٹھ کر کرو تاکہ تم کو ہی معلوم رہے کہ کون سی چیز کہاں رکھی اور رکھنی چاہیے تاکہ آئندہ بھی برقرار رکھو۔

بلاوجہ میں ان ٹائیگروں پر اپنا غصہ نہ نکالو۔
پھر غصے کے اس اسپیڈ کو ایک بریکر نے شرمندہ کرتے ہوئے خاموشی سے زور کا جھٹکا دیا۔
تھوڑی ہی دیر میں ہم عادت سے مجبور اپنے اوپر بڑبڑائے۔

اف میرے خدارا یہ کون کون سی نئی پرانی چیزیں ہم اس کمرے میں جمع کرتے گئے حد تو یہ کہ جس کسی نے بھی جو تحفہ سوغات دیا وہ بھی یہیں اور جو ہم خود لائے وہ بھی یہیں، اس کا بھی اندازہ نہیں لگایا تھا کہ آیا اس کمرے میں یہ چیزیں رکھنی بھی چاہیے کہ نہیں بس سب کچھ اسی کمرے کے اندر ”توبہ توبہ کہاں پھنس گئی رے“ ۔

خیر جناب! اللہ اللہ کر کے ہم نے خود سے اپنے کمرے کی صفائی کا آغاز کیا جو کہ کچھ منٹوں یا گھنٹوں میں ہونے والا نہیں بنا بلکہ کچھ دنوں میں وقفے وقفے سے ہوتا ہوا گزرا۔

زیادہ تر تو وہ سامان نکال کر پھینکنے پڑے جس پر ہم نے رکھتے ہوئے دھیان ہی نہیں دیا تھا کہ وہ ضروری سامان بھی ہیں یا نہیں بالآخر ان تمام غیر ضروری سامان کو کمرے سے مستقل طور پر نکال دینے پر تیار ہوئے۔ چند دنوں کی مستقل محنت کے بعد یہی منحوس بگڑی شکل نظر آنے والا کمرہ انتہائی کشادہ اور آرام دہ دکھائی دینے لگا۔

پھر ایک دن بڑی سی مسکراہٹ اور جمائی کے بعد ہم اپنے آرام دہ بستر پر آنکھیں بند کر کے دراز ہونے ہی لگے تھے ابھی ہماری جمائی آدھے راستے میں ہی تھی کہ پھر سے اپنے اندر سے آواز آئی۔

” محترمہ ہو گئی صفائی؟
کیا اس کو برقرار رکھنے کے لیے واقعی اب مزید کام نہیں کرنے؟
سوچیئے زرا؟

کیا آپ کو پسند آئے گا کہ ایک دن دوبارہ سے، اس کمرے کی وہی پہلے کی طرح بگڑی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے؟

محترمہ کیا آپ تیار ہیں؟

جیسے ہی یہ خوفناک خیال اور اسی کمرے کی پرانی بگڑی تصویر ہمارے تصور میں دوبارہ نمودار ہوئی اور ہم نے صدمے سے اپنی پاکستانی فلمی اداکارہ ”شبنم“ کی طرح اپنی آنکھیں زور سی بھینچیں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے کانوں کو بند کر کے زور سے چلائے ”نہیں“ ۔

کچھ دیر گہری اور لمبی لمبی سانسیں لینے کے بعد جب اپنے حواس نارمل محسوس ہوئے تو اپنے آپ سے کہا کہ یہ کمرہ ہمارا ہے، یہ صاف اور آرام دہ رہے گا تو ہم کوہی اس کے استعمال سے سکون اور فائدہ ملنا ہے۔

پھر اس کی حفاظت اور روز کی بنیاد پر صفائی کی ذمہ داری بھی ہمارے اپنے اوپر ہی آتی ہے لہٰذا ذمہ داری قبول کی اور اس پر قائم رہنے پر عہد کیا اور عہد پر قائم رہنے کے لیے دل سے اپنے رب سے دعا بھی مانگی۔

اس کے بعد ہم نے اپنی ہر دل عزیز پرانی پاکستانی فلمی ہیروئن ”نشو“ کا بھی دل سے شکریہ ادا کیا کہ اگر وہ فلموں کے ذریعے لمبی گہری سانس لینا نہ سکھاتی تو شاید ہم اس خوفناک خیال سے پرانی انڈین فلمی ہیروئن ”راکھی“ کی طرح ہر وقت بہانے بہانے سے روتے دھوتے اور ”کرن ارجن“ کو تلاش کرتے ہوئے نظر آتے رہتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صبا الصباح کی دیگر تحریریں