۔ فریاد کی تاثیر دیکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضرت اقبال کا یہ شعر برمحل ہے کہ:
عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی
اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ

ماسٹر علم دین ہوتے تھے مظفرگڑھ کے مضافاتی علاقے کے رہائشی۔ ملتان میں سرکاری نوکر ہوئے اور کئی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھائی رکھا۔ یہ انہی بھلے وقتوں کی بات ہے جب ٹیوشن کا رواج عام نہ تھا اور اساتذہ بھی ”اکرام“ ہوتے تھے۔ امتحانات کے لئے سکول کے بعد بھی بچوں کی مدد اور راہنمائی کو ہمہ وقت دستیاب رہتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد خاموشی سے اپنے آبائی علاقے میں سکونت اختیار کر لی۔

کسی کام کے سلسلے میں ماسٹر صاحب کو ملتان آنا پڑا اور ماضی کی سب یادیں بھی ساتھ امڈ آئیں۔ دل میں آیا کہ کیوں نہ اپنے دوست ماسٹر نور محمد کی خبر گیری کرتے چلیں۔ اپنے کام نپٹائے اور ملتان سے راولپنڈی والی بس پکڑ لی۔ ساری رات سفر میں گزری اور علی الصبح ماسٹر نور محمد کے محلے پہنچ گئے۔ فجر کی اذان ہو چکی تھی تو ماسٹر صاحب نے مسجد کا رخ کیا۔ نماز سے فارغ ہوئے تو وہیں مسجد ہی میں اپنے دوست ماسٹر نور محمد سے ملاقات کی۔ حالات و واقعات سے آگہی لی اور وہیں سے اجازت بھی چاہی۔

ماسٹر نور محمد نے آنے کا سبب پوچھا تو ماسٹر صاحب کہنے لگے کہ گھر سے ملتان کسی کام کے لئے آیا تھا تو سوچا نکل تو پڑا ہی ہوں تو کیوں نہ آپ سے بھی ملاقات کر لوں۔ راولپنڈی کون سا دور ہے۔ ماسٹر نور محمد بھی جہاندیدہ انسان تھے ’خلوص اور چاہ کی اس واردات سے نم دیدہ ہو گئے کہ ابھی بھی دنیا میں کچھ جی دار باقی ہیں۔ وہ دور کچے گھروں اور سستی اشیاء کا ضرور تھا لیکن لوگوں کے جذبات اور احساسات سچے ہوتے تھے۔

یہ واقعہ پڑھے سنے بہت مدت ہو چکی تھی اور اس کا دھندلاتا ہوا عکس شاید دماغ کے کینوس سے مٹ ہی جاتا لیکن ایک حالیہ ذاتی تجربے نے اسے اپنی پوری آب و تاب سے پھر سے زندہ سلامت میرے سامنے لا کھڑا کر دیا۔ کہنے کو 1500 کلومیٹر کا سفر ہے لیکن کرنے میں 14 گھنٹے کی مسلسل ڈرائیونگ اور سفر کی صعوبتیں الگ۔ اپنے لگے بندھے معمولات کو ایسے بدلنا ’مشکل کام ہے۔ ملاقات کی خوشی اپنی جگہ لیکن اتنی دور آ کر ملنے کا حوصلہ پیدا کرنے پر داد بنتی ہے۔

انجینئر محمد نقاب خان شیرازی صاحب ہمارے بہت ہی صد قابل احترام ’نہایت ملنسار‘ نہایت محنتی ’اپنے کام میں طاق‘ زندگی کے نشیب و فراز سے گزر کے کندن ’اپنی بات کا پاس رکھنے والے‘ ہمہ جہت شخصیت ’ہر وقت مدد اور تعاون پہ تیار‘ قرآن و حدیث کے علم کا شوق ’اقبال شناس‘ مشرقی اقدار کا لحاظ ’دینی حمیت‘ جواں جذبہ ایمانی ’صداقتوں کے امین‘ گفتگو میں سچائی کی مٹھاس اور سادگی کی چاشنی اور آئندہ آنے والوں کے لئے صرف سنگ میل نہیں بلکہ اپنی کتاب ’ضمیر کن فکاں ہے زندگی‘ کی صورت میں نقش پا بھی چھوڑ دیے کہ منزل کی جستجو میں جانے والے منزل تک پہنچ بھی سکیں۔

ایسے ہی پروقار ’پر خلوص اور ذی شعور لوگوں کی وجہ سے ہماری اقدار اپنے پورے حسن کے ساتھ ابھی بھی باقی ہیں۔ ماڈرن ٹیکنالوجی کی بات ہو یا سینہ بہ سینہ اپنے پرکھوں سے ملنے والا علم۔ ہر طالب و مورکھ کو اس کی تشنگی کے مطابق سیراب کرتے جاتے ہیں۔ ببانگ دہل حق کے ساتھ کھڑا ہو جانا ہی ان کو منفرد بناتا ہے اور باقی سب خصوصیات ان کی شخصیت کو چار چاند لگاتی ہیں۔

ہم جیسوں کے لئے ان سے ملاقات ہی باعث صد افتخار ’باعث اعزاز‘ باعث مسرت اور باعث فخر ہے۔ ان کی طرف سے عطا ہونے والے تحائف اور ہدایہ نے ہمیں مزید ان کا ممنون و مشکور کر دیا۔ اپنے وسیع تر علم ’تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر انہوں نے کئی ایک موضوعات پہ علم کے موتی بکھیرے اور پورا پورا مستفید فرمایا۔ اللہ کریم ان کے علم‘ حلم ’جان‘ مال ’اولاد اور رزق میں مزید برکتیں عطا فرمائے اور ہمیں ان سے ایسے ہی فیضیاب ہونے کا شرف بخشتا رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •