اپنی فنی زندگی کے آغاز ہی میں ایسے ایسے ’نابغہ روزگار‘ لوگ دیکھے کہ مجھے سمجھ نہ آئی کہ ان کی مہارت کا دم بھرنا ہے یا ان کی چالاکی سے بچنا ہے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں ہی ان سے احتراز واجب تھا۔ کیونکہ ایک تو وہ براہ راست ہم پہ مسلط نہیں تھے اور دوسرے یہ کہ ان کے شعبہ جات مختلف تھے۔ ایک صاحب ہفتے کے روز اپنے ماتحت عملے کو بتا کر جاتے تھے کہ کل یعنی اتوار کے روز اس اس وقت انہیں فون کر کے یہ یہ سوال پوچھے جائیں۔
یہ بات سن کر دل میں گرہ سی بندھ گئی ، اب انتظار تھا کہ کسی طور یہ عقدہ کھلے۔ سچے دل کی باتیں رب بھی جلدی سن لیتا ہے تو اس کے جواب کا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ایک دن موصوف نے پوٹلی کھول ہی دی کہ ایسا کرنے سے وہ اپنے گھر والوں کو بتا سکتے ہیں کہ میرے بغیر پلانٹ کا کام نہیں چلتا اور کس قدر اہمیت کی حامل شخصیت آپ کے گھر رہتی ہے۔ اسی دن یقین آ گیا کہ ان صاحب کا بھی گھر کی مرغی دال برابر والا معاملہ ہی ہے۔ لیکن اس میں نکتہ ’خوشی‘ کا ہے کہ اگر اسی میں اور ایسے ہی ان کی خوشی ہے تو خوش ہونے میں کیا برا ہے۔
Read more