بیشک۔ ۔ ۔ دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے

جب کبھی طبیعت مکدر ہونے لگے اور آس پاس کی دنیا سے جی اکتانے لگے تو اس کا بہترین علاج سفر ہے۔ ایسا سفر جس میں زاد راہ کم ہو، منزل کا کوئی علم نہ ہو، بس من چلے کے سودے کی طرح اپنے حصے کے عرفان کی تلاش میں نکلنا ہو لیکن یہ سفر…

Read more

خدمت کی قضا نہیں ہے

فی زمانہ کچھ ایسا ہی رواج پروان چڑھ گیا ہے اور مزید ہم نے بھی اسے خوب پن٘پنے کا موقع دیا ہے کہ اگر کوئی اس دارِ فانی سے کوچ کر جائے تو ہمیں اس کی بہت ساری پوشیدہ اور مخفی خوبیوں کا نہ صرف ادراک ہونا شروع ہو جاتا ہے بلکہ ہم ان خوبیوں…

Read more

ہنسیے! کرونا اتنا بھی خطرناک نہیں

کچھ زیادہ پرانی بات بھی نہیں ہے لیکن ایسے لگتا ہے کہ جیسے کل ہی کی کوئی بات ہو۔ ذکر ہے 2005 ء کی تیسری سہ ماہی کا ’جب ان ناتواں کندھوں نے اپنی ٹیم کا بھرم اور اپنے نام کی لاج کے لئے اس نئی افتاد سے نپٹنے کا بیڑہ اٹھایا۔ اس وقت ایک…

Read more

کرونا کے کچھ مثبت پہلو اور اثرات

اب تک کم و بیش اس دُنیا میں بسنے والے تمام ہی لوگ اس نئی وباء کے بارے میں اتنا کچھ جان چکے ہیں کہ مزید کچھ کہنا لکھنا فقط پہلے سے کہی گئی باتوں کا اعادہ ہی ہو گا اور یہ الگ بات کہ اس بیماری کے ڈر سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کچھ نیم…

Read more

موسم بارہ بھی ہوتے ہیں اور 365 بھی

بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے ’جیسے وقت کی مختلف کیفیات بیان کی گئی ہیں ایسے ہی کچھ اصول اور فرو موسم پہ بھی لاگو ہوتے ہیں۔ ریل کی پٹڑی کی مانند دونوں ساتھ ساتھ پہلو بہ پہلو چلتے چلے جاتے ہیں۔ گئے وقتوں کی بات ہے ایک دوست…

Read more

ماں دی بولی

ہمارے معاشرے میں کچھ چیزوں نے ارتقائی ترقی نہیں کی بلکہ وہ یک لخت آئیں اور نا صرف اس معاشرے پہ طاری ہو گئیں بلکہ لگتا ہے کہ جانے انجانے میں ہم نے انہیں خود پہ مسلط بھی کر لیا ہے۔ وہ چاہے ہماری روزمرہ زندگی کی ضروریات ہوں ’ہمارے رہن سہن کے طریقے ہوں‘…

Read more

اللہ میاں تھلے آ

زندگی کے نشیب و فراز میں دُکھ اور سُکھ کا امتزاج ایسے ہی لازم و ملزوم ہے جیسے زندہ رہنے کے لئے سانس کا اندر اور باہر جانا ضروری ہے۔ مثبت منفی ’دکھ سکھ‘ خوشی غمی ’یہ سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں تا کہ مثبت‘ سکھ اور خوشی کی اہمیت کا احساس باقی رہے اور…

Read more

صحرا نورد

کبھی کتابوں میں صحرا نوردی پڑھتے تھے اور چاؤ چاؤ میں اپنی مٹر گشت کو صحرا نوردی سے تشبیہہ دیتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدل گئے تو حالت بھی بدل گئی۔ پھر چند ایک ملکوں کے کئی شہروں میں کئی کئی ستاروں والے ہوٹلوں کے قیام کو بھی صحرانوردی ہی میں گردانتے رہے…

Read more

میرے پاس ’تم‘ ہو

مدتوں بعد ایک ایسا ٹی وی ڈرامہ دیکھنے کو ملا کہ جس کے چرچے گھروں میں ’دفاتر میں اور بازاروں میں ہوئے۔ اس ڈرامے کے کئی ڈائیلاگ تو ضربِ مثل کی صورت مارکیٹ میں استعمال ہوتے رہے۔ ہمارے وزیروں اور مشیروں نے بھی سکھ کا سانس لیا ہو گا کہ توپوں کا رُخ کچھ دیر…

Read more