کل کا دن کیسا رہے گا

بھلے وقتوں کی بات ہے جب لاہور کی باقاعدہ سرحد دریائے راوی اور راوی کے پُل پہ مستقل پولیس کا ناکہ ہوتا تھا۔ اس وقت وہ نسل بھی جوان تھی جو اقبال پارک کو منٹو پارک کے نام سے جانتی اور پکارتی تھی۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی اور بدلتے حالات نے حالت بھی بدل دی۔ شہر بھی پھیلنے لگے، بقول جنابِ پطرس پھر لاہور کے اردگرد بھی لاہور ہی ہونے لگا۔ دریائے راوی بڈھا دریا ہو گیا اور وہ

Read more

تانا بانا

ایک انٹرویو میں انضمام الحق بطور کپتان اپنی یاد داشتوں میں سے چیدہ چیدہ باتیں بتا رہے تھے۔ بھارتی بلے باز سہواگ کی عمدہ بلے بازی کو یاد کرتے ہوئے وہ ایک میچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ وہ سہواگ کا دن تھا اور وہ میدان میں چاروں طرف آزادانہ اپنے انداز سے کھیل رہا تھا۔ گیند باز بھی بدل بدل کے دیکھ لیئے، فیلڈنگ بھی کچھ خاص کارگر نہ ہو کہ گیند فیلڈر کے پاس جائے ہی

Read more

زندگی کا رنگ

کارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر۔ حضرت علامہ نے کچھ سوچ کے ہی یہ مصرع موزوں کیا ہو گا لیکن یہ ایک مصرع ہی ہماری موجودہ حالت و کیفیت بیان کرنے کو کافی ہے۔ اب تو غالب کے کہے والا حال بھی ہونے لگا کہ: جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن۔ لیکن فرصت بھی کیسے میسر ہو کہ: وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے۔ یا بالفاظِ دیگر غلط العام مصرع کی صورت یوں

Read more

نشیب میں فراز

صحرا نوردی کی مشقت شوق شروع ہوئی تو ہر وقت کی دستیابی کو یقینی بنائے رکھنا پڑا۔ کسی بھی سمت کے سفر کو چلتے تو پہلے سے ہی معلوم ہوتا کہ جہاں مرضی چلے جائیں، جتنے قوس مرضی طے کر لیں آخر میں کوئی نہ کوئی صحرا ہی ہمارا منتظر ہو گا۔ ایسے ہی ایک سفر میں صحرا کے بیچ و بیچ ’پنگھوڑا‘ نظر آیا۔ ایسی ویرانی میں اس تفریح کی وجہ سمجھ نہ آئی۔ یوں بیچ صحرا کے اس

Read more

تیسرا گیئر (حصہ دوم)

کبھی ایسا نہیں ہوا تھا لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ یونیورسٹی میں پریکٹیکل ایگزام اور وائوا کے لئے جاتے ہوئے باقاعدہ ٹائی لگانی پڑ رہی تھی۔ تیار ہو کے باہر نکلا تو سب ہی حیران تھے کہ آج تو امتحان کا دن ہے اور موصوف کی تیاری تو ان کے ارادوں کی چغلی کھا رہی ہے۔ خیر اصل بات بتائی کہ شنید ہے جو ماسٹر آج وائوا کے لئے آ رہے ہیں، انہوں نے انجنیئرنگ کی ابتدائی تعلیم بھلے

Read more

تیسرا گیئر (حصہ اوّل)

مشینوں سے شناسائی رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ کسی بھی مشین میں دست گو (گیئر) کیسا کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ دست گو (گیئر) اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر لیتا ہے جب اسے رفتار ( آر پی ایم ) کے معاملے میں استعمال کیا جائے۔ بالخصوص جب دست گو (گیئر) کی مدد سے مشین کو زیادہ رفتار سے کم رفتار پہ لانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مشین کی حرکی توانائی ( کائنیٹک انرجی ) کم ہو

Read more

دائرے کا مرکز

سکول میں کیمیا (کیمسٹری) کے ماسٹر ڈوگر صاحب دبنگ آدمی تھے۔ قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ کیمیائی جدول (کیمیکل پریاڈک ٹیبل) انہیں ایسے ازبر تھا کہ عناصر کا پورا پورا کالم ایک ہی سانس میں پڑھ جاتے تھے۔ ایک دن سوال کیا کہ اس جدول کو کیسے یاد کیا جا سکتا ہے؟ کہنے لگے کہ چارٹ پہ سارا جدول بناؤ، اسے اپنے گھر میں ہر اس جگہ لگاؤ جہاں تمہاری نظر پڑتی ہے۔ تب ہی یہ

Read more

اپریل میں فول یا پھول

لاہور کی ٹھنڈی سڑک (مال روڈ) سے گزرتے ہوئے راحت بیکرز سے محض چند میٹر کی دوری پہ یکم اپریل کو اچانک سے فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ دوسری طرف سے مژدہ سنایا گیا کہ پاکستان کی ایک بہترین نجی کمپنی میں کام کرنے کا موقع مل رہا ہے تو فلاں تاریخ تک دفتر آ جائیں اور ملازمت کے باقاعدہ آغاز سے قبل کی ضروری رسمی اور کاغذی کارروائیاں پوری کر لیں۔ دل بلیوں اچھل پڑا کہ کیا ہی زبردست

Read more

سفر بہ کوہ

ہمارے ایک بزرگ تر (سینئر) انجینئر ہیں اور سینئر بھی اتنے ہو چکے ہیں کہ اب سینئر سیٹیزن بننے کے قریب ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں انگریزی والے جو سفر کیے سو کیے اردو والے سفر بھی اس حد تک بے حد، بے شمار اور لاتعداد کر رکھے ہیں کہ ایک ہزار کلومیٹر سے کم فاصلہ ان کے ہاں کسی سفر میں شمار ہی نہیں ہوتا۔ لگ بھگ ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طے کرنے کے بعد کہیں گے کہ کیا

Read more

سیڑھیوں کا گھن چکر

ویرانے میں کہیں ٹھکانہ نصیب ہوا۔ اپنوں سے دور، آس پاس کی دنیا سے دور، دن ایسے لمبے کہ ختم نہ ہوں، رات کو آنکھ کھل جائے تو رات لمبی، دفتری کام کاج کی کارروائی شروع ہوتی تو ختم ہونے کا نام نہ لیتی، انہی دنوں سمجھ لگی کہ ’دور‘ کے ساتھ ’دراز‘ کیوں لکھا جاتا ہے۔ کہ جو دور ہو جاتا ہے اس کے لئے باقی سب امور دراز ہو جاتے ہیں۔ سائیٹ پہ صبح صبح دعا کے بعد

Read more

دے جا سخیا راہ خدا

ملک عزیز میں آج کل الیکشن کا دور دورہ ہے، سیاستدانوں اور عوام کی گہما گہمی عروج پہ ہے۔ جلسے جلوس منعقد ہو رہے ہیں، ہر پارٹی اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ کارنر میٹنگز کا غوغا ہے۔ پارٹی کے منشور کی تشریحات بتائی جا رہی ہیں۔ کہیں اپنی کارکردگی کا ذکر ہے تو کہیں مخالفین کے قصے بیان ہو رہے ہیں۔ کہیں نئے عہد و پیماں کیے جا رہے ہیں تو کہیں نئی منزلوں، نئی بلندیوں، نئے

Read more

اصل اور محفوظ پناہ گاہ

شہر کے اندر ہی اک چھوٹا سا سفر درپیش تھا۔ احباب دوران سفر خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ سفر بھی کٹ جائے اور گفتگو بھی چلتی رہے۔ ایک نیک دل شخص نے سوچا کہ سب معمول کی باتوں میں مصروف ہیں تو کیوں نہ ان کو کوئی نصیحت کی جائے۔ سمجھدار انسان تھے، فوراً لٹھ لے کے نہیں دوڑ پڑے اور نہ ہی نوجوانوں کے لتے لینے لگے۔ بلکہ جیسے ہم سب بچپن میں ویڈیو گیم کھیلنے کے شوقین

Read more

دھند پہ کمند

جو لاہور کا ہو جاتا ہے وہ پھر کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔ لاہور کا باسی دنیا میں کہیں چلا جائے اس کا دل نہیں لگتا، اسے تو ہر وقت بس یہی فکر لگی رہتی کہ کب کوئی موقع بنے اور وہ کونجوں کی ڈار کی طرح اڈاریاں مارتا ہوا لاہور پہنچ جائے۔ کونج غالباً واحد پرندہ ہے جو اپنی زندگی میں صرف ایک بار ہی جوڑا بناتا ہے۔ دوسرے ساتھی کی جدائی کا غم وہ مرتے دم تک

Read more

احسن الذکر کا بدلہ

قدرت اللہ شہاب صاحب اپنی شہرہ آفاق کتاب ’شہاب نامہ‘ میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ علامہ صاحب کے ملازم علی بخش کے ساتھ گاڑی میں جھنگ جا رہے تھے۔ علی بخش کی زمین کا کچھ مسئلہ تھا۔ شہاب صاحب لکھتے ہیں کہ: ” غالباً اس کے دل میں سب سے بڑا وہم یہی ہو گا کہ اب میں بھی بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح علامہ اقبال کی باتیں پوچھ پوچھ کر اس کا سر

Read more

انا کی بیڑیاں

یونیورسٹی میں عمومی طور پہ دوستوں کے ہاں بے تکلفی کی فضا ہوتی ہے۔ دوستوں کی بے باک محافل میں شاذ و نادر ہی کسی کو اس کے اصل نام سے پکارا جاتا ہے۔ زیادہ تر عرفی نام (نک نیم) ان کی برادریوں اور قبیلوں کے نام پہ رکھے جاتے ہیں یا پھر ان کی کسی خاص عادت پہ۔ ایسا ہی یونیورسٹی میں ایک دوست ہوا کرتا تھا جس کو ہم پیار سے ’بھولا‘ کہتے تھے۔ اس نام کی وجہ

Read more

دوستی کا ٹائی – این

سال تو کچھ ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا، البتہ ایک دہائی قبل کی بات لگتی ہے کیونکہ تب تک صحرا نوردی شروع نہیں ہوئی تھی اور بن باس کے بھی دور دور تک آثار نہ تھے۔ پنجاب کی گرمیوں کا موسم تھا، لاہور جیسے بڑے شہر میں بھی بجلی حسبِ روایت ناپید تھی تو جسم و دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے سب لوگ چھت پہ ہی براجمان تھے۔ بجلی تو اپنی درخشاں روایات کی پاسداری آج بھی

Read more

ہو کا عالم

بازاروں میں سناٹا، گلیوں میں ویرانی، خالی سڑکیں، گھروں میں محصور ڈرے سہمے ہوئے لوگ، ہسپتالوں میں سسکتی زندگیاں، حکومتی پابندیاں، روزمرہ کے معمولات زندگی پریشان کن، مستقبل کے اندیشے حیران کن اور بریکنگ نیوز کے نام پہ سنسنی پھیلاتی خبریں ہی کرونا کے دنوں میں مستقل معمول تھا۔ ان سب معاملات کے باوجود بھی نا گزیر کاموں کی تکمیل کے لئے کچھ راہیں رکھی گئی تھیں۔ مخصوص طرز کی برقی (الیکٹرانک) کاغذی کارروائی کے بعد طے شدہ ضابطے اور

Read more

حوروں کے بھیس میں

ڈاکٹر غلام مرتضی ملک صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ جنت کی کیا تعریف (ڈیفینیشن) ہے تو آپ نے جواب ارشاد فرمایا کہ معبود اور عبد کے درمیاں ملاقات کی جگہ کا نام جنت ہے۔ سائل انگشت بدنداں ہوا ہی چاہتا تھا کہ برجستہ اس کے منہ سے نکلا تو حضور حوروغلمان، دودھ اور شہد کی نہریں، عربی گھوڑے کی سالہا مسافت پہ محیط درخت کی چھاؤں، یاقوت و مرجان سے منقش محل، وہ سب کیا ہوئے۔ دودھ، شہد،

Read more

گھات لگاؤ، کھوج لگاؤ

سیوک: کیا ہوا۔ بالک: کچھ نہیں سیوک: (مسکراتے ہوئے ) لیکن پریشان تو دکھ رہے ہو، بتاؤ کیا بیتی، کیا پتا تمہارے مسئلے کا کوئی حل مل جائے بالک: کیا مسئلے باتوں سے حل ہو جاتے ہیں سیوک: نہیں بالک، باتوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے لیکن بات کرنے سے من کا بوجھ ضرور ہلکا ہو جاتا ہے اور انہی باتوں کے دوران مسئلے کا حل بھی رب دل میں ڈال دیتا ہے بالک: کیا حل خود سے نہیں ڈھونڈا

Read more

اپنا بوجھ خود ڈھونڈیے

ایک وقت تھا کہ لوگوں کو اپنے عزیز و اقرباء کی خبر بھی تاخیر سے ملتی تھی۔ اب ایک دور ہے کہ ماڈرن ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا حقیقتاً ایک ’گلوبل ویلج‘ بن گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں دنیا کے کسی بھی ایک حصے میں اگر کوئی اہم بات، کوئی خاص واقعہ یا کوئی غیرمتوقع عمل وقوع پذیر ہو جائے تو اگلے چند ہی منٹوں میں اس کی خبر دنیا کے دوسرے کونوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اور موبائل فون

Read more

آگے بڑھو

ناشتے کے بعد تیز قدموں سے سائیٹ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ان صاحب پہ سرسری سی نظر پڑی۔ لگا شاید انٹرویو کے لئے آئے ہوں۔ دفتری کارروائی کے بعد پتا چلا کہ موصوف کمپنی میں بطور نوآموز (ٹرینی) انجینئر تشریف لائے ہیں۔ گویا یونیورسٹی سے تازہ تازہ ہی نکلے تھے کہ غم دوراں نے آ لیا۔ ان کا حلیہ ان کے کام اور ذمہ داریوں کے بارے خیالات کی چغلی کھا گیا۔ اچھا سا پرفیوم ’جیلزدہ بال‘ کلائی

Read more

اپنا کاروبار کیسے کامیاب بنایا جائے؟

گاوَں اور دیہاتوں کے رہنے والے عمومی طور پہ دو دو نہروں سے شناسائی رکھتے ہیں۔ ایک چھوٹی نہر جہاں سے وہ اپنے بچپن میں تیراکی کا فن سیکھتے ہیں۔ جہاں وہ لوڈے ویلے (سہ پہر کے وقت) اپنے پشووَں (جانوروں) کی دم کے ساتھ نہر میں اترنے کا ڈر اتارتے ہیں۔ الٹی سیدھی قلابازیاں اور ڈُم (گہرائی) میں زیادہ دیر تک ٹکے رہنے کی مشق’ اسی چھوٹی نہر کے حصے آتی ہے۔ دوسری نہر گاوَں سے ذرا باہر بڑی

Read more

فیصلوں کا مرکز و منبع

ہاسٹل میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو جاننے ’جانچنے‘ پرکھنے ’کھوجنے‘ بوجھنے کے خوب مواقع ملتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں ’خوبیوں‘ اچھائیوں ’برائیوں‘ خامیوں ’کجیوں‘ کوتاہیوں کا ادراک بھی ہوتا رہتا ہے۔ مختلف علاقوں سے منفرد نفسیات ’منفرد سوچ کے حامل اور منفرد اہداف و مقاصد لئے ہم جنسوں کے درمیاں رہنا اپنے آپ میں ایک منفرد اور اچھوتا تجربہ ہے۔ بات کرنے‘ بات سمجھانے اور بات پہنچانے کا فن سیکھنے کا آغاز بھی یہیں سے ہوتا ہے۔ درسی اور نصابی

Read more

شارٹ سرکٹ

یونیورسٹی میں الیکٹرانکس کے ایک ماسٹر ہوا کرتے تھے۔ ظاہر خان صاحب، لاشعور میں کہیں ظاہر شاہ کا نام گونجتا تھا تو ہم انہیں اکثر و بیشتر ظاہر شاہ کے نام ہی سے یاد کیا کرتے تھے۔ نا صرف ان کی طبیعت، شاہوں، جیسی تھی بلکہ ان کے شوق بھی ویسے ہی تھے۔ کیا نفیس شستہ اردو بولتے تھے، سادہ مگر سلوٹوں سے مبّرا کپڑے، اپنے رکھ رکھاوَ اور ڈیل ڈول سے بھی کسی، شاہ، سے کم بھی نہیں لگتے

Read more

اپنے حصے کا کام

غمِ دوراں کو قابلِ برداشت حد تک رکھنے کے لئے قدرت نے کچھ ایسا انتظام کر دیا تھا کہ ہر تھوڑے عرصے بعد موقع محل تبدیل ہو جاتا تھا۔ نئے لوگ ‘ نئی جگہ ‘ نئی ذمہ داریاں’ نئے مواقع ‘ نئے امکانات اور سکھنے کو نئی باتیں۔ یہ سب مل کر مصروفیت کا ایسا جال بُنتے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا۔ رہی سہی کسر بہتر سے بہترین اور کام کے معیار کو اعلیٰ بنانے کے چکر

Read more

مانگنے والے کو ہی ملے گا

نوکری کے بچپنے ہی سے سنتے آئے ہیں کہ بن روئے تو ماں بھی بچے کو دودھ نہیں دیتی۔ اس لئے اپنا کام کاج پورا کرنے کے بعد بھی ضرور ”رویا“ کریں تاکہ مناسب عوضانہ ملتا رہے اور سہولیات میں بھی کچھ اضافہ ہو جائے۔ کچھ قسمت کے دھنی ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو مالک کل بن مانگے ہی آسائشوں کی گٹھری عطا فرما دیتا ہے اور کچھ کے نصیب کی آسانیوں کو ان کے مانگنے سے جوڑ

Read more

سوچ کی ترجیح

زیادہ پرانی نہیں، گزشتہ صدی کے محض آخری سال کی بات ہے۔ صحرا نوردی جنوبی پنجاب کے صحراؤں سے نکل کے برف پوش پہاڑوں اور ان پہاڑوں میں گھری وادیوں تک پہنچ چکی تھی۔ وہاں ایک نوابی پروفیسر صاحب سے ملاقات رہی۔ وہ اپنے بھاری بھر کم نام محمد سردار خان کے ساتھ طبیعات (فزکس) میں طبع آزمائی کرتے پائے گئے۔ نا صرف اپنے مضمون میں طاق تھے بلکہ نت نئے تجربوں کے بھی مشاق تھے۔ ایک دن کسی ضرورت

Read more

تکریم انسانیت

بابا جی اشفاق صاحب اپنے ’زاویہ‘ پروگرام میں معاشرے کے مختلف پہلووں پہ بات کیا کرتے تھے ’جس میں زیادہ تر انسان کی عزت‘ علم و حکمت ’اصول زندگی ’بندوں کا اپنے جیسے بندوں اور بندوں کا اپنے اصل خالق و مالک سے جڑنا جیسے موضوعات شامل ہوتے تھے۔ ان سادہ مگر گہری باتوں کو وہ ایسے لطیف پیرائے میں بیان کرتے کہ سننے والے کو لگتا کہ یہ تو اسی کے خیالات کو الفاظ دے دیے گئے ہیں اور

Read more

زندگی کا رنگ

وہ لوگ جن کا بچپن کسی طور بھی عمومی طور سے اندرون لاہور اور خصوصی طور پہ رنگ محل اور دہلی دروازے سے منسلک رہا ہے وہ رنگوں کے نام ’رنگوں کی مختلف طرز کی عکاسی اور رنگوں سے پیدا کردہ دیدہ زیب تاثر سے ضرور واقف ہوں گے۔ پانی کے پتیلے کے نیچے گیس کی لو جتنی رنگین و سنگین ہوتی ہے‘ اتنی ہی خوبصورتی سے پتیلے میں پڑے پانی سے کپڑوں پہ رنگوں کی بہار آتی ہے۔ رنگوں

Read more

امجد اسلام امجد: محبت فاتح عالم

یونیورسٹی دور میں کی گئی غیر نصابی سرگرمیوں کا نشہ ابھی تک ہرن نہیں ہوا۔ جب تازہ تازہ یونیورسٹی کے سالانہ مجلے (میگزین) کی ذمہ داری ملی تو پہلے سے طے شدہ جزئیات کے ساتھ کھل کھیلنے کا موقع ملا۔ معمول اور پچھلی روایات کے برعکس کچھ ایسا کرنے کا عزم بنا کہ جس سے نہ صرف باہر کے لوگوں کا یونیورسٹی سے بطور خاص تعارف ہو سکے بلکہ یونیورسٹی کے اندر کی خلقت کی بیرونی نابغہ روزگار ہستیوں سے روشناسی

Read more

جگت و خطاب سے سرگوشی تک

اس صدی کی پہلی دہائی کے آخر میں کچھ عرصہ غم روزگار کے لئے لاہور کے مضافات میں ایک بین الاقوامی کمپنی سے وابستہ ہونے کا موقع ملا۔ فنی زندگی کو شروع ہوئے دو سال بیت چکے تھے تو کام والی سمجھ بوجھ جاگ چکی تھی لیکن پلپلی مہارت (سافٹ سکلز) والا میدان ابھی تک چٹیل ہی تھا اور اس میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کی ابھی بہت ضرورت باقی تھی۔ وہیں ایک صاحب سول انجینئر تھے ’اپنے کام کا

Read more

نئی ہواوں کی جستجو

پچھلی صدی کو بلاشبہ ایجادات کی صدی کہا جا سکتا ہے۔ نت نئی بدلتی ٹیکنالوجی نے ہر شے کی ہیئت بدل دی۔ مشینوں کی ریل پیل نے جہاں کام آسان اور زندگی کی رفتار تیز کی ’وہیں حضرت انسان میں اپنے جذبات اور احساسات کی بے وقعتی کا احساس بھی بیدار کر دیا۔ گھنٹوں کی شفٹوں میں کام کرنے والے ایک دوسرے سے میلوں دور ہونے لگے۔ اس نے انسانی نفسیات پہ اس قدر گہرا اثر ڈالا کہ اس پہ

Read more

نصاب کا امتحان

ماں پہ پوت پتا پہ گھوڑا بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا کے مافق جب پر پرزے نکلنے لگے تو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی اور بھرپور خدمت کے لئے رنگروٹی کی راہ پہ ڈالنے کا حکم صادر ہوا۔ سارا زور اور توجہ بیرونی سرگرمیوں کی طرف ہی مبذول رکھوائی گئی کہ ماسٹر صاحبان کو بھی علم تھا کہ کاغذی کارروائی موصوف خود ہی سنبھال لیں گے۔ اللہ اللہ کر کے مشقتی دن پورے ہوئے اور امتحان کا نقارہ

Read more

گڈی تے اکھ گڈھی

ریل گاڑی سے رومانس اپنی عمر سے بھی پرانا لگتا ہے۔ ہوش سنبھالنے سے قبل ہی ریل گاڑی اور ریلوے اسٹیشن سے عمومی شناسائی کروا دی گئی تھی۔ خصوصی شناسائی محض دو ریل گاڑیوں ہی سے تھی ایک بلو (ب کے نیچے زیر ہے ) ٹرین سے تھی جو میرے آبائی شہر سے لاہور کے لئے علی الصبح چلتی تھی۔ اور دوسری گوروں کے زمانے کی لاہور سے راولپنڈی چلنے والی ریل تھی جو چلنے کی اجازت کے لئے اپنے

Read more

انگریزی، سائنس اور ہماری تعلیم

بہت عرصہ غالباً ایک دہائی قبل ایک سادہ مگر پروقار سی محفل میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا۔ محفل میں جہاندیدہ ’نابغہ روزگار اور اپنے فن کی معراج کے لوگ موجود تھے۔ باتوں باتوں میں بات سکول کے مضامین کی طرف نکل گئی۔ سکول کی پڑھائی کے معیار‘ اساتذہ کی ناتجربہ کاری ’بڑھتی ہوئی فیسیں‘ بستے کے بوجھ سے ہوتی ہوئی بات انگریزی پہ آن ٹکی کہ یہ مضمون رکھا ہی ہماری قوم کا بیڑہ غرق کرنے کے لئے ہے۔

Read more

آ ثانی کہ ہو آسانی

پچھلے دنوں اپنی دانست میں ایک صاحب دل کو لطیفہ بھیجا ’کچھ وقت بعد انہوں نے اسی لطیفے کا ایک بصری فیتا (ویڈیو ورژن) ارسال کر دیا تو احساس ہوا کہ گزشتہ چند سال میں کیسے ہمارے سوشل میڈیا کی پذیرائی اضافہ ہوا ہے۔ موبائل فون اور پھر سمارٹ موبائل فون نے اس سوشل میڈیا کو اور بھی آسان اور قریب کر دیا ہے۔ آج کل لطیفے کہے یا سنائے نہیں جاتے‘ چھوٹی سی ویڈیو کی شکل میں سوشل میڈیا

Read more

ہیر آکھدی – ہیر وارث شاہ کا قصہ

ہیر آکھدی جوگیا جھوٹھ آکھیں ’کون رٹھڑے یار ملانودا ای۔ (ترجمہ: ہیر جوگی کو کہتی ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ’ناراض ہوئے دوستوں کو بھلا کون ملاتا ہے ) یہ وہ یک سطری بیت ہے جو ہیر اور پھر ہیر کو کھوجتے کھوجتے پیر وارث شاہ سے پہلے تعارف کا باعث بنا۔ پنجاب کے دیہی علاقوں کی مقامی گاڑیوں پہ ’ریڈیو پہ یا اکثر کسی پروگرام میں یہ سننے کو مل جاتا تھا۔ لیکن کبھی بات اس سے آگے

Read more

زنگ کا رنگ

ایک مشہور و معروف نجی کمپنی میں کچھ عرصہ فرائض منصبی انجام دینے کا موقع ملا۔ تو وہاں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا جو آج بھی کسی نہ کسی صورت کام آ رہا ہے۔ نا صرف اپنے فنی کام کے حوالے سے بھی بلکہ کام سے متعلقہ دیگر شعبوں کے بارے میں بھی۔ وہیں سے وہ سب شوق لگے تھے جن سے فنی میدان کا سفر بہت آسانی سے چلتا رہا۔ نجی شعبے میں کم سے کم بندوں سے

Read more

خوبی کا ادراک

بابا جی اشفاق صاحب اپنے انٹرویو میں فرما رہے تھے کہ میٹرک میں انہیں ریاضی سے بہت مسئلہ تھا۔ باقی سب مضامین کو وہ بخوبی سنبھال لیتے تھے لیکن ریاضی اور پھر ریاضی میں بھی الجبراء انہیں سمجھ نہیں آتا تھا۔ مثلاً وہ کہتے کہ یہ سوال سمجھ نہیں آتا تھا کہ ایک حوض کو دو نالیاں تین گھنٹوں میں بھرتی ہیں اور اگر ایک نالی بند کر دی جائے تو دوسری نالی اسے کتنی دیر میں بھرے گی۔ یا الجبرے

Read more

سائیکل لے کے گاڑی دے گا

ایک دفعہ مولوی طارق جمیل صاحب اپنے بیان میں ’لاریب‘ کا مطلب سمجھا رہے تھے۔ اتفاقیہ بات ہے ان کا یہ بیان سننے کی سعادت بھی سفر کے دوران ہی حاصل ہوئی۔ تو سننے کے ساتھ ساتھ مشاہدہ بھی ہوتا گیا اور عین الیقین ’حق الیقین کی سب منزلیں پار ہو گئیں۔ انہوں نے فرمایا کہ لاریب کا ترجمہ شک نہیں کیا جا سکتا‘ کیونکہ یہ دونوں ایک ہی زبان کے لفظ ہیں لیکن آخرالذکر ہمارے ہاں عام استعمال میں ہے

Read more

کمال کی بات

جیسے جیسے عمر کا سن بڑھتا جاتا ہے ’ویسے ویسے ماضی سے وابستہ بھولی بسری باتیں عود کر آنے کا رجحان بھی بڑھتا جاتا ہے۔ بھلے کل کا کھایا یاد نہ آئے لیکن ماضی کے یاد آئے واقعے کی جزئیات بھی ذہن کے کینوس پہ نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ اور پھر تو سمندر کے پانیوں میں ڈولتی کشتی ہے‘ جہاں مرضی بہا لے جائیں ’جہاں مرضی لنگر انداز ہو جائیں‘ جیسے مرضی ہواؤں کا رخ موڑ لیں اور سفر سے

Read more

نواں دروازہ

یونیورسٹی میں ہمارے کمرہ جماعت کا دروازہ عجیب تھا ’اگر کہیں دور دراز گمنام علاقے میں ہوتے تو اس دروازے کو کب کا آسیبی دروازہ قرار دیا جا چکا ہوتا۔ دروازے کی خاص بات یہ تھی کہ جب بھی کبھی ماسٹر صاحب کسی لڑکے کو کلاس سے باہر جانے کا کہتے تو دروازے کی محبت جاگ جاتی‘ سمجھو پاؤں ہی پڑ جاتا ’لڑکا ہزار کوشش کر لے لیکن مجال ہے جو دروازہ کھل جائے۔ مجبوراً ماسٹر صاحب کو آ کر

Read more

نفی کی برکت

ظاہری جمع نفی یا ضرب تقسیم کا عمل کریں تو حاصل جواب مختلف ہی ملے گا۔ لیکن اگر کسی بھی چیز میں سے کچھ نفی کریں تو حاصل جواب ہمیشہ اپنے اصل سے کم ہو جائے گا۔ یہ سیدھا سیدھا حسابی سا کلیہ ہے ’اس میں الجبرے کی کوئی ایسی مساوات ملوث نہیں کہ بات کہیں اور نکل سکے۔ یعنی اگر سو میں سے دس نکالیں گے تو باقی ہر صورت نوے ہی بچیں گے‘ چاہے دس یکمشت نکال دیں

Read more

لالچ موت سے کم نہیں

ہر کوئی زندگی میں نئی چیزیں اپنے تجربات و مشاہدات سے سیکھتا ہے ’عقلمند لیکن وہی کہلائے گا جو دوسروں کی غلطیوں سے عبرت حاصل کرے۔ جیسے پہیے کو ہر دفعہ نئے سرے سے ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی‘ عین اسی طرح اپنا نقصان کروا کے ہی سیکھنا ضروری نہیں ہوتا۔ دوسروں کی کئی گئی غلطیوں سے سیکھنا ہی دانشمندی ہے۔ ایسے ہی بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی ’جو پچپن تک تو ضرور یاد رہے گی کہ اس

Read more

اصل ٹھکانے کی جستجو

پہلے پہل یادداشت کا تعلق صرف عمر کے ساتھ ہی جوڑا جاتا تھا ’اور یہ تعلق راست تناسب نہیں بلکہ معکوس تناسب توقفت ہے یعنی اگر عمر بڑھ رہی ہے تو یادداشت کم ہو رہی ہے لیکن اگر یادداشت بڑھ رہی ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ عمر کم ہو رہی ہے۔ اسی نقطے کو نمایاں کرنے کے لئے ”توقفت“ کی اصطلاح ساتھ نتھی کرنا پڑی۔ تھوڑے سے پرانے دور کی بات ہے ’جس کے متعلق یہ

Read more

پلے سے دینا

کامیابی کی عمارت بہت سے ستونوں پہ کھڑی ہوتی ہے۔ اس میں کئی ایک شہتیر لگائے جاتے ہیں جیسے محنت ’صبر‘ عاجزی ’لگن‘ ہمت ’ثابت قدمی‘ ایمانداری ’انفرادیت اور بہت سے ایسے عوامل جو کامیابی کے سفر میں نا صرف زاد راہ کا کام دیتے ہیں بلکہ پیچھے آنے والوں کے لئے نشان منزل بھی بنتے جاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں زاد راہ ہیں یعنی دوران سفر کام آنے والی ہیں۔ لیکن کامیابی کو پانے کے لئے کچھ کارج ایسے

Read more

زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے

انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ پہننے والا جانتا ہے کہ جوتا کہاں کاٹتا ہے۔ جوتا نہ ہو گیا کتا ہو گیا۔ اسی انگریزی کا ایک اور محاورہ بھی ہے کہ بھونکتے ہوئے کتے کاٹا نہیں کرتے اس پہ استاد پطرس بخاری نے خوب کہا تھا کہ ’یہ بجا سہی لیکن کون جانتا ہے کہ ایک بھونکتا ہوا کتا کب بھونکنا بند کر دے اور کاٹنا شروع کر دے‘ ۔ ایسا ہی حال کئی دن ہم پہ بیتا۔ پہلے پہل

Read more

چراغ سے چراغ تک: ریاضی کے ماسٹر جی

ایف ایس سی کرنے کے بعد شوق چڑھا کہ ملک و قوم کی خدمت کرنی ہے۔ اور سب سے بہترین خدمت فوج میں شمولیت اختیار کر کے ہی کی جا سکتی ہے۔ زوروشور سے تیاریاں شروع ہوئیں ’ورزشی پروگرام کا آغاز والد صاحب کی نگرانی میں صبح صبح تین کلومیٹر بھاگنے جیسے عمل سے شروع ہوتا جو کہ امتحان آنے کے دن تک سمجھ نہیں آیا‘ سارے ضابطے اور امتحانات کے بعد وہ دن آن پہنچا جب راہوالی کینٹ کی

Read more

خالی بھانڈے دا پرتاؤنا

ابن انشاء نے جاپان کے احوال میں لکھا تھا کہ تحفے کا لین دین بھی ان کی طبعی عادات و رسوم میں ہے۔ جس کو تحفہ دیا جائے اس کے لیے لازم ہے کہ اس سے دو پیسے زیادہ کا تحفہ لائے اور جوابی تحفے کی قیمت قدرے زیادہ ہونی چاہیے۔ اگر دو فریقوں میں پے درپے تحفوں کا تبادلہ ہوتا ہے تو جان لیجیے کہ تھوڑے دنوں میں یا تو دونوں دیوالیہ ہو جائیں گے یا سمجھدار ہوئے تو

Read more

آئینہ بس عکس دکھاتا ہے

لڑکپن کے دور میں اک کہانی سنی تھی ’جانے اس سادہ سی کہانی میں ایسی کیا بات تھی کہ وہ نا صرف یاد رہ گئی بلکہ گاہے بگاہے‘ کسی نہ کسی موقعے پہ یاد بھی آ جاتی ہے۔ کہانی سنانے سے پہلے اک گزارش کر لیتے ہیں کہ ممکن ہے یہ کہانی سینہ بہ سینہ سفر کے دوران اپنی اصلی حالت میں نہ رہی ہو اور اس میں ناموں اور شہ پاروں کی تفصیل میں تبدیلی ہو چکی ہو تو

Read more

بارہ دروازے ایک موری

یونیورسٹی میں ہمارے ایک ماسٹر ہوا کرتے تھے، اپنے مضمون پہ زبردست گرفت اور مہارت کے علاوہ ان کی ایک اور وجہ شہرت تھی کہ وہ ایک جملہ تین زبانوں میں بولتے تھے۔ ایک روز اپنی جوانی کا قصہ بتاتے ہوئے کہنے لگے کہ لاہور شہر کی کیا بات ہے، لاہور شہر کی چہل پہل دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، تفریحی مقامات ہوں یا علم و ادب کی درس گاہیں ہر چیز کی اپنی ہی کشش ہے۔ ایسی باتوں سے

Read more

دل کالے توں من٘ہ کالا (پری زاد) چنگا

تخلیق کار یا تو جذباتی ہوتا ہے یا حساس۔ حساسیت اگر زندہ ہو تو اپنے گردوپیش ہونے والے سب واقعات اور حالات اندر اتارتی رہتی ہے اور درد جب چھلکنے کی حد کو پہنچتا ہے تو وہ کسی بھی صورت کا روپ دھار کر بہنا شروع کر دیتا ہے ’نظم ہو یا نثر‘ افسانہ ہو یا غزل ’کہانی ہو یا ناول‘ قلم سے جاری لفظوں کا درد ہو یا برش سے کینوس پہ پڑتے چھینٹے ’کوئی نہ کوئی اچھوتی تخلیق

Read more

قوت مشاہدہ کی طاقت

میڈیکل طلباء سے متعلق یہ لطیفہ اکثر کسی نہ کسی سوشل میڈیا کی پوسٹ پہ مل ہی جاتا ہے جس میں ایک پروفیسر صاحب سب ہونہار اور غریب کا مفت علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ہمراہ کسی ڈیڈ باڈی پہ تجربہ کر رہے ہوتے ہیں۔ پہلے دن ہی طلباء کو سبق سکھانے کی غرض سے ایک تجربہ کرتے۔ کہ اپنی انگلی اس ڈیڈ باڈی کی ناک میں گھسیڑ کر منہ میں ڈال لیتے ہیں اور سب طلباء کو یہی عمل

Read more

ان دیکھے پہ ایمان

آج کل ہی کی طرح کے سردیوں کے دن تھے ‘ والد صاحب کے دفتر میں اتفاقاً جانا ہوا ‘ تمام احباب بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ عملے کے ایک بندے نے آ کر شکایت کی کہ کوئی باباجی ہیں وہ باہر ہم سے الجھ رہے ہیں اوران کے لئے صورتحال سنبھالنی مشکل ہو رہی اور درخواست کی کہ باہر آ کر حالات کا جائزہ لیں اور معاملہ ٹھیک کریں۔ باہر نکل کے دیکھا تو زندگی کی نوّے بہاریں

Read more

عاجز کا کاسہ

چند ماہ قبل ایک صاحب میرے آفس میں تشریف لائے’ کرونا کی پابندیوں کے باعث آج کل ملنے ملانے اور آنے جانے کی روایات کافی حد تک بدل گئی ہیں۔ لہذا انہوں نے بھی قانون کے احترام میں چہرے پہ ماسک چڑھا رکھا تھا اورانہوں نے آپس میں ہاتھ ملانے کی بجائے مکا ملانا زیادہ محفوظ جانا۔  شروع کی رسمی علیک سلیک کے بعد انہوں نے اپنی آمد کا مدعا بیان کیا۔ کام کے سلسلے کی سب تفاصیل طے ہو

Read more

سیراب، سراب نہیں

بندر کو پکڑنے کے مختلف طریقوں میں سے ایک ایسا آسان طریقہ بھی ہے جو شکاری کے دام فریب کی بجائے بندر کی نفسیات کے باعث زیادہ کارآمد ہے۔ شکاری حضرات ایک بند گلے کی صراحی نما چیز میں مونگ پھلی ڈال کے رکھ دیتے ہیں۔ بندر مونگ پھلی چرانے کے لئے ہاتھ اندر ڈالتا ہے تو ایک ہی ہلے میں ساری لے اڑنے کے چکر میں مونگ پھلی سے مٹھی بھر لیتا ہے۔ یہ بند مٹھی صراحی کی گردن

Read more

ان کا بھی شکریہ

بلا شبہ پیر نصیر الدین نصیر اپنے آپ میں ایک انجمن تھے۔ ایک بھرپور شخصیت۔ ان کا علمی مقام ہو ’ان کا شاعرانہ ذوق ہو‘ ان کا انداز خطابت ہو ’ان کا موسیقی اور ردھم پہ تبصرہ ہو‘ ان کا لحن داودی میں تلاوت کلام الہی ہو ’ان کا صوفیانہ دبدبہ ہو یا ان کا فقیرانہ ڈھنگ ہو‘ وہ اپنے ہر رنگ میں دل پسند ’دل عزیز‘ دل بہار اور دل نگیں تھے۔ اپنے لطیف انداز گفتگو اور سادہ سے

Read more

موڑوں والا راستہ

میرا ایک ہم جماعت تھا ’اونچا لامبا قد‘ بانکا سجیلا جوان ’بڑے سے چہرے پہ چھوٹی چھوٹی آنکھیں جو ہنستے ہوئے اور بھی چھوٹی ہو جاتی تھیں بلکہ ان پہ بند ہو جانے کا گمان ہوتا تھا۔ نچلا ہونٹ ایسا پتلا اور تھوڑی سے ملا ہوا کہ اگر داڑھی رکھ لے تو ایسے لگے کہ بال منہ سے نکل رہے ہوں۔ اپنی عمر سے بڑی سوچ رکھنے والا‘ استادوں کا ادب کرنے والا ’خاندانی سیاست کے رموز سمجھنے والا‘ اپنے مستقبل کے بارے سوچنے والا ’یعنی مجموعی طور پر ایک اچھا انسان تھا۔ اس کی پہلی خوبی اس کا ٹیم ورک کا قائل ہونا تھا‘ اس جیسا ٹیم پلیئر ابھی تک نہیں دیکھا۔

Read more

فقط محنت

ہم تمام پچاس لوگ چپ چاپ دم سادھے بیٹھے ہوئے تھے کہ ٹریننگ کے اس کے لئے سیشن میں جن صاحب نے آنا تھا ان کے بارے ہمارے کووارڈینیٹرز ہمیں خوب ڈرا چکے تھے۔ اور شاید ایک آدھ جھلک ان کی دیکھ بھی رکھی تھی۔ بارعب شخصیت ’پاٹ دار آواز‘ گھنی سی مونچھیں ’ٹھیٹھ لاہوری لہجے کی اردو‘ یہ سب چیزیں ہمارے حواس پہ تو سوار تھیں لیکن ایک اور بم یہ پھوڑا گیا کہ ان کی نظر میں ڈسپلن

Read more

رب کا ساتھ

دیار غیر کے تپتے صحراؤں میں کہیں گھومتے گھامتے باہر کے لوئی تھپیڑوں سے بچنے کے لئے گاڑی کے اندر پناہ لے رکھی تھی کہ فون کی سکرین روشن ہوئی۔ ایک صاحب کا نام مدت بعد موبائل سکرین پہ ابھرا تو خوشگوار حیرت ہوئی۔ ہم تو فرصت کے مارے تھے ہی ’انہیں بھی شاید وقت میسر تھا۔ گفتگو شروع ہوئی تو انہوں نے خوب روشنی ڈالی کہ آج کے انسان کو کیسے بے جا پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے

Read more

رن این ایکسٹرا مائیل

استاد کی مسلمہ حیثیت سے انکار ممکن ہی نہیں۔ استاد ہی وہ واحد ہستی ہے جو شاگرد کو زمین سے اٹھا کر آسمان جیسی بلندیوں پہ لے جاتی ہے اور استاد کی بے لوث محبت اور محنت کا عالم یہ ہے کہ حقیقی باپ کے بعد استاد ہی وہ شخص ہے جو اپنے شاگرد کو خود سے آگے بڑھتے دیکھنا چاہتا ہے۔ اور اس ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش اور تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ شاید اسی وجہ

Read more

محنت کا اسلوب

انسانی زندگی انسانی سوچ ہی کی مانند پیچیدہ ہے۔ جیسے ہر فرد اپنے مزاج اور اپنی سوچ میں یکتا ہے اسی طرح زندگی اور اس کی آزمائشیں بھی منفرد ہیں۔ ہر فرد کے لحاظ سے یہ مختلف صورت اور مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں کیونکہ اس کا انحصار اور دار و مدار انفرادی مزاج ’انفرادی سوچ اور انفرادی ردعمل پہ ہے۔ دانائے راز بتاتے ہیں کہ کسی ایک کا کھانا دوسرے کے لئے زہر ثابت ہو سکتا ہے بالکل اسی

Read more

کشید کیا ہوا خیال (2)

لیکن اس ویڈیو میں ایک اور سبق بھی ہے جو ان سب سے نا صرف منفرد ہے بلکہ کشید کیے گئے اس سبق نے بہت سے کثیف عوامل ہٹا دیے۔ یہ ویڈیو مختلف سوشل میڈیاز پہ کئی بار سامنے آئی۔ ہر بار دل مضبوط کر کے اسے پورا دیکھنے کا عزم مصمم کیا لیکن اس ایک نکتے سے بات آگے نہیں جا سکی۔ جیسے پہلے ذکر ہوا کہ کسی بھی واقعے کی مختلف توجیہات اور اس کے مختلف مقاصد اور

Read more

کشید کیا ہوا خیال (1)

کم و بیش ایک عشرے سے زائد پرانی بات ہے کہ پاکستان کی ایک مشہور پینٹ بنانے والی کمپنی کے پارو پلانٹ پراجیکٹ پہ اپنے فرائض منصبی انجام دے رہا تھا ’دے بھی کیا رہا تھا بلکہ سیکھ رہا تھا کہنا زیادہ مناسب اور موزوں ہو گا۔ چونکہ فنی زندگی کا ابھی آغاز ہی تھا تو خود کو دکھانے اور منوانے کے لئے زیادہ تر وقت سائیٹ پہ ہی گزرتا تھا۔ کام کی اسی بھاگ دوڑ میں کچھ ذاتی ضرورت

Read more

زندگی کی قیمتی محنت

جو چیز دل کے جتنی قریب ہو گی ’اتنی ہی اس کی قدر زیادہ ہو گی اور اسی لحاظ سے اس کی اہمیت و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔ ہم اپنے گرد و پیش میں اس کی کئی مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔ ہر نابغہ روزگار ہستی کی زندگی کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ کیسے انہوں نے خود اپنے مقصد کے لئے وقف کیا اور اس کے حصول کے لئے ایسے انتھک محنت کی کہ اس کے مقابلے

Read more

روبرو بہ عدالت

سن تو صحیح سے یاد نہیں لیکن فہم نے چیزوں کا ادراک ابھی نیا نیا سیکھا تھا۔ بظاہر سادہ سا دکھنے والا معاملہ بھیتر میں کتنا گمبھیر ہو سکتا ہے اور کیسے کہے گئے الفاظ ’سنے گئے الفاظ سے مختلف معانی رکھتے ہیں۔ زمانے کی نئی روش سے آشنائی ہونے جا رہی تھی کہ یہاں پیاز کی مماثلت اب کھلے عام ملے گی‘ پیاز کی طرح تہہ در تہہ باتیں ’تہہ در تہہ چہرے‘ تہہ در تہہ رویے اور حتیٰ

Read more

کامیاب سفر کمیاب سفر ہوتا ہے

ریل کے سفر سے واسطہ بچپن ہی سے پڑ گیا تھا اور یہ تجربہ ہمیشہ ہی خوشگوار رہا اور یہ کچھ ایسے دلنشیں ہوا کہ کراچی کا الہٰ دین پارک ہو یا لاہور کا جوائے لینڈ ’جہاں بھی موقع ملا سب ٹکٹس اور ووچر ٹرین کے‘ جھوٹے ماہیوں ’میں ہی خرچ کر دیے۔ اس وقت ریل کے سفر کے کچھ مضمرات بھی ہوا کرتے تھے اور سفر کا ایک لگا بندھا سا پروگرام طے ہوتا تھا۔ ریل کا سفر اس

Read more

5 ہفتے ’5 کہانیاں

وقت کا چرخا ہی ایسا ہے ’یہ اپنی سی روانی‘ موج ’مستی اور دھن میں چلتا رہتا ہے اور دوسروں کو بھی جیسے تیسے اس کے ساتھ دوڑنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھار لیکن تکلا تلخ بھی ہو جاتا۔ ایسے ہی کچھ تند پچھلے پانچ ہفتوں میں ایسے ڈالے کہ پوری‘ سرت ’قائم ہو گئی۔ جب سے ہوش سنبھالی اپنے گردوپیش میں مختلف اور منفرد رسموں اور دن منانے جیسے رواج سے پالا پڑتا رہا۔ سکول میں قائدین کے نام سے

Read more

اخلصی تتخلص

حضرت انسان کے لئے مالک دو جہاں نے ضابطہ حیات بھی متعین فرمایا ہے اور اس پہ عمل پیرا رہنے کا حکم بھی دیا ہے۔ ظہور اسلام سے قبل ہی سرکار دو جہاں ﷺ کی ذات با برکات نہ صرف اس معاشرے کے لئے ’صادق‘ اور ’امین‘ تھی بلکہ آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ آنے والے تمام زمانوں کے لئے مثال اور کامیابی کا معیار بنا۔ آپ ﷺ کی اطاعت ’تعلیمات‘ تربیت اور محبت میں اصحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین نے اپنی ذات کی نفی ’نفس کی اصلاح اور احکام خداوندی کی پیروی کی جو مثالیں قائم کیں وہ رہتی دنیا تک اخلاص کی راہ پہ چلنے والے عاملین و کاملین کے لئے مشعل راہ رہیں گی۔

Read more

چلتی کا نام گاڑی

آج کا موجودہ جدید اور سائنسی دور بھی کچھ لوگوں کی سادگی اور بھولپن کو ختم نہیں کر سکا۔ اس سائنسی ناکامی کی بہت سی توجیہات بیان کی جا سکتی ہیں لیکن مدعا یہ نہیں ہے ورنہ بات کہیں سے نکل کر جانے کہاں چلی جائے گی اور اصل بات اپنی تاب کھو دے گی۔ ایسے ہی ایک معصوم اور آزاد منش آدمی سے ملاقات ہونی تھی سو یہ سب ایسے ہی ہوا جیسا کہ منصوبہ ساز نے طے کیا

Read more

رمضان المبارک کی تیاری

اب تک زندگی کی جتنی بھی بہاریں اور خزائیں دیکھی ہیں، ان میں دو ایسے احباب بھی دیکھے جو وقت سے پہلے رمضان شریف کی تیاری کرنے کے قائل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی باتیں اب زیادہ بہتر سمجھ آ رہی ہیں شاید اس لئے بھی کہ اب ان کی باتوں پہ عمل پیرا ہونے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ بات تو کھلی حقیقت ہے کہ حاصل وہی کر سکتا ہے جو تلاش کرے۔ سچی تلاش منزل تک نہ بھی پہنچائے لیکن صحیح راستے پہ ضرور گامزن رکھتی ہے اور نیت کی سچائی چند گام پہ بھی منزل کو سامنے لا کھڑا کر سکتی ہے۔ دانائے راز کہتے ہیں کہ جیسے پیاسا پانی کو ڈھونڈتا ہے ایسے ہی پانی بھی پیاسے کو ڈھونڈتا ہے۔

Read more

ظاہر و باطن کا الجبرا

کچھ عرصہ قبل ملک میں دھرنے اور ہڑتالوں کا رواج عام تھا۔ ایسے ہی مظاہروں میں ’ینگ ڈاکٹرز‘ کا احتجاج بھی نمایاں رہا۔ ڈاکٹر حضرات اپنے حقوق اور پیشہ ورانہ ڈھانچے کی اصلاح کے لئے برسرپیکار تھے اور ان میں کچھ یقیناً بیکار بھی ہو گئے ہوں گے۔

اسی دور میں ہم تین دوست کسی کام کے سلسلے میں ایک بازار میں تھے۔ اتفاق سے تینوں مختلف جگہوں پہ مختلف اشیاء دیکھ رہے تھے تو رائے لینے کے لئے دوسرے کو آواز دینی پڑی۔ حسب معمول اور انجانے میں دوسرے دوست نے تیسرے دوست کو ’ڈاکٹر صاحب‘ کہہ کے آواز دی تو بازار میں موجود جس جس نے آواز سنی اس کی آنکھیں ڈاکٹر صاحب کی تلاش میں سرگرداں نظر آئیں۔ ڈاکٹر صاحب کو تو جان کے لالے پڑ گئے، وہیں سے با آواز بلند بولے کہ میں وہ ڈاکٹر نہیں ہوں یہ لوگ مجھے پیار سے ڈاکٹر کہتے ہیں۔ مشکل سے جان بچی اس دن۔

Read more

ماہ مارچ میں صرف فوجی مارچ

ابن انشاء کے نقش پا ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک دفعہ چین کا سفر بھی درپیش ہوا۔ جاپان والی لمبی مسافت سے ڈرتے ہوئے مستنصر حسین تارڑ صاحب کی طرح ’منہ ول جاپان دے‘ کی نیت کر کے بنکاک ہی سے سفر کا رخ موڑ لیا۔ خوش قسمتی سے ساتھ والی سیٹ پہ ایک ایسے صاحب براجمان تھے جو بڑی بڑی کمپنیوں میں انتظامی امور کے صاحبان کی ٹریننگ کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ سارے راستے ان سے بہت ہی مفید اور

Read more

مشورہ کس سے کرنا چاہیے؟

یہ واحد چیز ہے جو آج کے دور میں مفت اور ہر جگہ سے مل جاتی ہے۔ بادی النظر میں یہی سب سے اہم اور قیمتی بات ہے جو کسی بھی شخص کا مقدر سنوار بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے۔ اسی لئے تو اسے امانت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن مشورہ لینا اور دینا اب اتنا پیچیدہ عمل نہیں رہا ، سمجھ آئے یا نہ آئے، معاملے کی نزاکت کا فہم ہو یا نہ ہو ،

Read more

مان کر چلنے میں عافیت ہے

کچھ زیادہ پرانی بات نہیں ، محض پانچ برس قبل ہی کی بات ہے جب جدید مواصلاتی ذرائع ہونے کے باوجود روایتی خط و کتابت سے بات چیت کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ بات خوشاب کے مضافاتی علاقوں سے گھومتی ہوئی جب دانائے راز کی ذات تک پہنچی تو ایک بات ضمناً وہاں لکھی تھی،  آج موقعے کی مناسبت سے یاد آ گئی۔ خط کا متن تو کچھ اور تھا لیکن اس میں سے ایک اقتباس کچھ ہوں تھا کہ:

Read more

اشفاق احمد ، بابا نور سائیں اور ’میں‘ مارنے کی مشق

یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے کم و بیش تین سال کا عرصہ گزر گیا تھا اور کام کے حوالے سے اڑھائی سال ہو چکے تھے۔ اسی اثنا میں ایک اچھی نجی کمپنی میں کام کا موقع ملا تو نوکری کے معاہدے پہ ہماری پوزیشن ’ٹرینی انجینئر‘ جلی حروف میں لکھی ہوئی تھی۔ طبیعت میں عجب سے کسل مندی پیدا ہوئی کہ اس کی بابت تو بتایا ہی نہیں گیا تھا۔ استفسار پہ معلوم ہوا کہ کپمنی کا اصول ہے کہ

Read more

شہر خموشاں دے چل وسئیے

پچھلے دنوں شام کی سیر کے دوران ایک انکشاف ہوا کہ جس سڑک پہ پچھلے کئی سال سے گزر رہا ہوں اس کی دائیں فصیل کے اس پار وہ شہر خموشاں ہے جہاں ہم سب نے ایک دن جا کے بسیرا کرنا ہے۔ بقول بلھے شاہ: شہر خموشاں دے چل وسئیے جتھے ملک سمانا بھر بھر پور لنگھاوے ڈاڈھا ’ملک الموت مہانا لفظی ترجمہ: شہر خموشاں میں جا کے بستے ہیں ، جہاں سبھی نے جانا ہے۔ ملک الموت جوق

Read more

سکون کیلئے باطن کا سفر ضروری ہے

اپنی فنی زندگی کے آغاز ہی میں ایسے ایسے ’نابغہ روزگار‘ لوگ دیکھے کہ مجھے سمجھ نہ آئی کہ ان کی مہارت کا دم بھرنا ہے یا ان کی چالاکی سے بچنا ہے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں ہی ان سے احتراز واجب تھا۔ کیونکہ ایک تو وہ براہ راست ہم پہ مسلط نہیں تھے اور دوسرے یہ کہ ان کے شعبہ جات مختلف تھے۔ ایک صاحب ہفتے کے روز اپنے ماتحت عملے کو بتا کر جاتے تھے کہ کل یعنی اتوار کے روز اس اس وقت انہیں فون کر کے یہ یہ سوال پوچھے جائیں۔

یہ بات سن کر دل میں گرہ سی بندھ گئی ، اب انتظار تھا کہ کسی طور یہ عقدہ کھلے۔ سچے دل کی باتیں رب بھی جلدی سن لیتا ہے تو اس کے جواب کا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ایک دن موصوف نے پوٹلی کھول ہی دی کہ ایسا کرنے سے وہ اپنے گھر والوں کو بتا سکتے ہیں کہ میرے بغیر پلانٹ کا کام نہیں چلتا اور کس قدر اہمیت کی حامل شخصیت آپ کے گھر رہتی ہے۔ اسی دن یقین آ گیا کہ ان صاحب کا بھی گھر کی مرغی دال برابر والا معاملہ ہی ہے۔ لیکن اس میں نکتہ ’خوشی‘ کا ہے کہ اگر اسی میں اور ایسے ہی ان کی خوشی ہے تو خوش ہونے میں کیا برا ہے۔

Read more

ہم ڈسپوزیبل جذبوں کے عہد کے لوگ

انسانی نفسیات پہ ماحول کا بڑا اثر ہے اور ماحول کی ضرورت کچھ معاملات میں بہت بڑھ جاتی ہے۔ مثلاً کوئی ڈاکٹری پڑھنے والا طالبعلم یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں گھر میں ہی رہ کر درسی کتابیں پڑھ لیتا ہوں اور سال بعد امتحان دے دیا کروں گا۔ ایسا عملاً ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹری کے خواہشمند کو ڈاکٹر بنانے والے ماحول میں جانا ہی پڑے گا۔ وہاں ہونے والی تمام درسی اور نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا پڑے گا تب ہی اسے منزل کا سرا ملے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ کم وبیش زندگی کے باقی پہلوؤں میں ہے۔

Read more

دوست اچھے ہوں تو زندگی خوبصورت ہے

گاڑی میں ایک نیا صوتی و بصری نظام لگایا تو اس میں کچھ مزید تبدیلی درکار تھی۔ اس کے ذمے لگایا کہ ’ششکاجات‘ میں ایک یہ اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ جب مخصوص مہارت کی ضرورت پیش آئی تو متعلقہ جگہ پہنچ گئے۔ چند گھنٹوں کی ریاضت سے معاملات درست ہوئے تو حتمی جانچ کے لیے گاڑی دوست کے حوالے کی تو لمحے بھر کے لئے اپنی ہی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا۔ کیا یہ وہی گاڑی ہے جسے میں روز چلاتا ہوں؟ کیا یہ وہی گاڑی ہے جس کی میں نے کبھی خواہش کی تھی؟

Read more

کوچہ جاناں والے

واصف علی واصف صاحب نے محبوب کی جو تعریف بیان کی ہے وہ کچھ ایسی ہے کہ ہر کسی کے محبوب پہ فٹ آ جاتی ہے اور آنی بھی چاہیے کیونکہ محبوب تو محبوب ہوتا ہے۔ اس کی کج ادائی ’خامی یا کمی کسی طور بھی محسوس نہیں ہوتی یا کم از کم ناگوار نہیں گزرتی۔ جیسے بابا نور سائیں کے الفاظ کو باباجی اشفاق صاحب نے یوں کہا کہ‘ محبوب کا ناپسند بھی پسند ہوتا ہے ’۔ محبوب پہ

Read more

اسی سالہ سی ای او ، 70 برس کا ٹی بوائے اور ماہرہ خان

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے آخری ماہ و سال کی بات ہے کہ دفتر میں کام کرتے ہوئے دیر ہو گئی اور دیر بھی کچھ زیادہ ہی ہو گئی کہ سیکورٹی گارڈ کو پوچھنا پڑا کہ جناب کھانا ادھر ہی کھائیں گے تو آپ کے انتظام کر لوں۔ ابھی کام میں مصروف ہی تھا کہ کمپنی کے سی ای او صاحب گھر جانے کے لئے نکلے۔ مجھے دیکھ کے کہنے لگے برخوردار اس وقت تک کیوں رکے ہوئے ہو

Read more

خلوص بغدادی

شہر بغداد شاید اپنی نوعیت کا واحد شہر ہے جس کی وجہ شہرت کوئی ایک بات یا کوئی ایک واقعہ یا کوئی ایک سانحہ نہیں ہے۔ بغداد کی تاریخ علم و حکمت ’جنگ و جدال اور عشق و محبت سے بھری پڑی ہے۔ بغداد میں بہتے علمی جھرنے ہوں یا کھجوروں کے گھنے لامبے درخت‘ دنیا بھر سے تشنگان علم کی آمد ہو یا منبر و محراب پہ واعظ کی داستانیں ’بغداد کی گلیوں میں انالحق کی صدائیں لگاتا ہوا

Read more

مبارک ہو

پانی ہمیشہ پستی کی جانب ہی بہتا ہے ایسا ہی معاملہ علم و فضل کا بھی ہے ’یہ بھی اسی کی طرف بہتے ہیں جو عاجز ہو کر مانگے۔ اسی کو سیراب کرتے ہیں جس میں جذب کی صلاحیت ہو۔ اسی کو فائدہ پہنچاتے ہیں جو یہ فیض آگے منتقل کر سکیں۔ اپنا کوئی بھی اچھا عمل‘ کوئی گیان دھیان کی بات ’کوئی بہترین ٹوٹکہ یا کوئی بھی باعمل نصیحت جو کسی کے کام آ جائے اور فائدہ مند ہو

Read more

یادوں کا موسم

سردیوں کی آمد آمد ہے ’ہوا کی خنکی نے ائر کنڈیشنز کا بوجھ بانٹ لیا ہے۔ شام کے مٹر گشت کے لئے نکلا تو گاڑی کے خود کار اے سی نے درجہ حرارت میں سے حرارت کو ایسے بھاگ جانے پہ مجبور کیا کہ ٹھنڈے ہوتے کانوں کو بھی سرگوشی کرنی پڑی اور لگے ہاتھوں ایسی یاد ذہن میں ابھری کہ خوشی سے ہی زندگی اور ماحول کی حدت بڑھ گئی۔ کبھی کبھی کوئی بھولی بسری یاد اور اس یاد سے جڑی کوئی بات‘ کوئی ذات ’کوئی ساعت‘ کوئی مات ’کوئی اثبات یا کچھ اپنے ہی مکتوبات حوصلہ بڑھانے میں بڑے کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

Read more

۔ فریاد کی تاثیر دیکھ

ماسٹر علم دین ہوتے تھے مظفرگڑھ کے مضافاتی علاقے کے رہائشی۔ ملتان میں سرکاری نوکر ہوئے اور کئی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھائی رکھا۔ یہ انہی بھلے وقتوں کی بات ہے جب ٹیوشن کا رواج عام نہ تھا اور اساتذہ بھی ”اکرام“ ہوتے تھے۔ امتحانات کے لئے سکول کے بعد بھی بچوں کی مدد اور راہنمائی کو ہمہ وقت دستیاب رہتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد خاموشی سے اپنے آبائی علاقے میں سکونت اختیار کر لی۔

Read more

دریا کبھی سمندر کا راستہ نہیں پوچھتا

ایک بادشاہ سلامت نے خواب دیکھا کہ اس کے سب دانت گر گئے ہیں، بادشاہ سلامت ایسے عجیب خواب پہ بہت پریشان ہوئے اور اپنے خواب کی تعبیر جاننی چاہی۔ وزیر خاص کو حکم ہوا کہ تعبیر بتانے والوں کو لائن حاضر کیا جائے تو وزیر با تدبیر نے چار لوگوں کو دربار میں حاضر ہونے کا فرمان جاری فرمایا۔

چاروں کے سامنے بادشاہ سلامت نے اپنا خواب دہرایا اور انہیں تعبیر بتانے کا کہا۔ پہلے نے کہا کہ حضور آپ اپنے رشتہ داروں اور عزیز و اقربا کو اپنے ہاتھوں دفنائیں گے۔ بادشاہ سلامت کے نازک مزاج پہ یہ تعبیر گراں گزری اور انہوں نے موصوف کی گردن اڑانے کے احکامات موقعے پہ جاری کر دیے۔

Read more

لیلیٰ کوفیی شوب

اس کو لکھنے کے لئے بہت سے عنوان، تمہید کے بہت سے موضوع اور کئی ایک یادیں ذہن میں چل رہی تھیں۔ مگر اس میں سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ اس کی وجہ سے وہ بھولے بسرے ہم جماعت بھی یاد آئے، جو فارغ التحصیل ہونے کے بعد، فارغ البال بھی ہو گئے، لیکن ان سے رابطے کی کوئی بھی صورت پیدا نہیں ہو پا رہی۔

یونیورسٹی کے دنوں میں، ہمارا کراچی کا ایک دورہ تھا۔ تو اسی دوران ٹھٹھہ جیسے تاریخی شہر کی سیر کا بھی منصوبہ بنا۔ وہیں ہمیں کینچھر جھیل جانے کا اتفاق ہوا۔ تھوڑا بہت جو مطالعہ کر رکھا تھا، اس کی افادیت اس دن صحیح سمجھ آئی۔ میرے دل میں ’نوری جام تماچی‘ کی قبر پہ جانے کی خواہش مچلنے لگی۔ کشتی والے بھائی سے بات کی تو بات ہماری جیب سے بہت آگے نکل گئی۔

Read more

با ادب، باملاحظہ ہو شیار۔۔۔ مثبت رپورٹنگ آ رہی ہے ے ے ے۔۔۔

انگریزی کا محاورہ ہے کہ کبھی کبھی برے کام سے بھی اچھا نتیجہ نکل آتا ہے۔ کچھ ایسے ہی حالات ہمارے ملک کے ساتھ بھی درپیش ہیں اور جس نوعیت کے واقعات جس تیزی سے رونما ہو رہے ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ اچھا صلہ جلد ہی ملنے والا ہے اور شاید ہم اپنی زندگی میں ہی یہ منظر دیکھ سکیں۔ اس وقت میڈیا میں جو کہانیوں اور پیش گوئیوں کا سلسلہ چل نکلا ہے ’اس سے تو

Read more

اشفاق احمد: ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

داستاں گوئی بھی شاید زبان دانی کے جتنا ہی پرانا فن ہے۔ یا داستاں گوئی کا تعلق سفر و سیاحت کے ساتھ شروع ہوا کہ جو باہر کی دنیا دیکھ کر آئے وہ واپسی پہ اپنے سفر کی داستاں بیان کرتے یا پھر داستاں گوئی کا آغاز ماں کی اس لوری سے ہوا ہو گا جس میں وہ بچے کو مختلف حکایات سنا کر تربیت کا پہلو بھی پورا کرتی رہی۔

حکایت اور معانی خیز کہانی ہمیشہ ہی براہ راست نصیحت سے زیادہ کار گر ثابت ہوئی ہے۔ جیسے مولانا روم نے حکایات کا حوالہ دے کر مثنوی کے کئی باب منور کیے یا جیسے سعدی نے حکایات بیان کیں جس سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ ان کا حکایات کا اسلوب ایسا اثر انگیز اور دل پذیر ہے کہ پوری داستاں کا مطلب ’خلاصہ‘ نتیجہ اور پیغام پوری طرح سننے والے تک پہنچ جاتا ہے۔

Read more

نادیدہ قوتوں کے چکر اور گھن چکر

زندگی کے تجربات اور مشاہدات میں کبھی کبھارعجب اور مافوق الفطرت واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے یہ دل میں خوف اور وساوس پیدا کر دیں اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ اگر ان واقعات کی تحقیق کی جائے تو بہت سی گتھیاں اور پہیلیاں سلجھ جائیں اور اگر یہ واقعات گرد و پیش میں ہونے والی باتوں سے میل کھا جائیں تو یہ مدتوں یاد رہتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے ایسے ہی مافوق الفطرت واقعات بذات خود

Read more

سدا نہ باغ میں بلبل بولے

بنی نوع انساں میں پیدائش کے جھولے سے موت کا جھولا جھولنے تک بہت سے مراحل آتے ہیں اور ہر مرحلہ اپنے اپنے نشیب و فراز بھی ساتھ لاتا ہے۔ کچھ واقعات سے گزرنے کے لئے کسی خاص مہارت کی ضرورت نہیں پڑتی اور کچھ واقعات کو ہم اپنے ہم جنسوں کے تعاون سے گزار لیتے ہیں۔ محض چند ایک ہی معاملات ایسے ہیں جہاں زیادہ پس و پیش چلتی نہیں۔ یہ معاملات انسانی زندگی کے لئے نا صرف ناگزیر

Read more

بوٹا اور مختارا

افسر شاہی اور سیاسی بودوباش کے وزیروں اور وڈیروں کا اپنا الگ ہی جہان ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم بھی ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورت بھی۔ کبھی افسر شاہی اپنی زندگی آسان اور عوام کو دور رکھنے کے لئے وڈیروں کا سہارا لیتی ہے تو کبھی وڈیروں کو افسر شاہی کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ عوام میں اپنا بھرم اور نام نہاد رعب و دبدبہ رکھ سکیں۔ عوام الناس اور افسر شاہی کے درمیان یہ چھننی کبھی کبھی چھلنی کا بھی کام کر جاتی ہے۔

Read more

بیشک۔ ۔ ۔ دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے

جب کبھی طبیعت مکدر ہونے لگے اور آس پاس کی دنیا سے جی اکتانے لگے تو اس کا بہترین علاج سفر ہے۔ ایسا سفر جس میں زاد راہ کم ہو، منزل کا کوئی علم نہ ہو، بس من چلے کے سودے کی طرح اپنے حصے کے عرفان کی تلاش میں نکلنا ہو لیکن یہ سفر کچھ شتر بے مہار جیسا بھی نہ ہو بلکہ اس میں عرفان، گیان اور نیا وجدان حاصل کرنے کی جستجو ہو تو قوی امکان ہے

Read more

خدمت کی قضا نہیں ہے

فی زمانہ کچھ ایسا ہی رواج پروان چڑھ گیا ہے اور مزید ہم نے بھی اسے خوب پن٘پنے کا موقع دیا ہے کہ اگر کوئی اس دارِ فانی سے کوچ کر جائے تو ہمیں اس کی بہت ساری پوشیدہ اور مخفی خوبیوں کا نہ صرف ادراک ہونا شروع ہو جاتا ہے بلکہ ہم ان خوبیوں کا ڈھنڈورا بھی خوب پیٹتے ہیں اور مرحوم کی ہر کامیابی کو ایسے دادوتحسین دے رہے ہوتے ہیں کہ جیسے اس سے پہلے ایسا کبھی

Read more

ہنسیے! کرونا اتنا بھی خطرناک نہیں

کچھ زیادہ پرانی بات بھی نہیں ہے لیکن ایسے لگتا ہے کہ جیسے کل ہی کی کوئی بات ہو۔ ذکر ہے 2005 ء کی تیسری سہ ماہی کا ’جب ان ناتواں کندھوں نے اپنی ٹیم کا بھرم اور اپنے نام کی لاج کے لئے اس نئی افتاد سے نپٹنے کا بیڑہ اٹھایا۔ اس وقت ایک ایسے شاعر کی ضرورت آن پڑی تھی جو اپنی نمکین و مسکین شاعری سے یونیورسٹی کے سالانہ عشائیے میں زیادہ نہیں تو ایک دو چاند

Read more

کرونا کے کچھ مثبت پہلو اور اثرات

اب تک کم و بیش اس دُنیا میں بسنے والے تمام ہی لوگ اس نئی وباء کے بارے میں اتنا کچھ جان چکے ہیں کہ مزید کچھ کہنا لکھنا فقط پہلے سے کہی گئی باتوں کا اعادہ ہی ہو گا اور یہ الگ بات کہ اس بیماری کے ڈر سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کچھ نیم حکیم لوگوں نے اپنی دکان چمکانے کے لئے نام نہاد قسم کے ٹوٹکے اور مفروضے مارکیٹ میں چھوڑنا ابھی تک نہیں چھوڑے۔ اس مرض نے

Read more

موسم بارہ بھی ہوتے ہیں اور 365 بھی

بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے ’جیسے وقت کی مختلف کیفیات بیان کی گئی ہیں ایسے ہی کچھ اصول اور فرو موسم پہ بھی لاگو ہوتے ہیں۔ ریل کی پٹڑی کی مانند دونوں ساتھ ساتھ پہلو بہ پہلو چلتے چلے جاتے ہیں۔ گئے وقتوں کی بات ہے ایک دوست سے بات چیت کے دوران موسم کا ذکر چھڑا تو موصوف نے اپنے جواب سے ایسی کیفیت پیدا کر دی کہ نہ تو غصے میں

Read more

ماں دی بولی

ہمارے معاشرے میں کچھ چیزوں نے ارتقائی ترقی نہیں کی بلکہ وہ یک لخت آئیں اور نا صرف اس معاشرے پہ طاری ہو گئیں بلکہ لگتا ہے کہ جانے انجانے میں ہم نے انہیں خود پہ مسلط بھی کر لیا ہے۔ وہ چاہے ہماری روزمرہ زندگی کی ضروریات ہوں ’ہمارے رہن سہن کے طریقے ہوں‘ ہمارے رسم و رواج ہوں ’ہمارے تہوار ہوں یا ہمارے ملک و قوم سے منسلک کوئی بھی واقعہ یا کوئی یاد‘ اوراس پہ ستم ظریفی

Read more

اللہ میاں تھلے آ

زندگی کے نشیب و فراز میں دُکھ اور سُکھ کا امتزاج ایسے ہی لازم و ملزوم ہے جیسے زندہ رہنے کے لئے سانس کا اندر اور باہر جانا ضروری ہے۔ مثبت منفی ’دکھ سکھ‘ خوشی غمی ’یہ سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں تا کہ مثبت‘ سکھ اور خوشی کی اہمیت کا احساس باقی رہے اور اس سے بھی زیادہ ضروری کہ منفی ’دکھ اور غم میں ہم کسی ایسی طرف رُخ کر سکیں جہاں سے بھلے ان کا فوراً مداوا

Read more