سقوط بنگال اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ سب نعرہ لگایئے مگر نعرہ تکبیر نہ لگایئے ہمیں ڈر لگتا ہے۔ یہ عام بنگالی عوام کا لاچار غیر بنگالیوں سے معصومانہ دھمکی کے ساتھ ان کی درخواست تھی۔ ردعمل کا خون الود سورج افق پر ابھر رہا تھا۔ حکومت سازی کے ساتھ ساتھ زندہ رہنے کے حق کی جنگ اب شدت پکڑ چکی تھی۔ جلوس اور جشن فتح کا اعلان کچھ اس طرح ہو رہا تھا :

”بہاری اگر بچنا چاہتے ہو تو بنگال چھوڑ کے چلے جاؤ۔ ہر جگہہ آگ لگائیں گے۔ ہم اپنا خون بہائیں گے۔ مرنے سے نہیں گھبرائیں گے مگر بنگال آزاد کرائیں گے امر نیتا، تومر نیتا شیخ مجیب شیخ مجیب“

عجیب ستم ہے انسانی تاریخ کا کہ ایک وفادار کہیں کا غدار ٹھرتا ہے۔ عام معصوم عوام پر کیا گزرتی ہے۔ لکھتے ہوئے ہاتھ کپکپاتے ہیں۔ انتقام سے لبریز اور اشتعال انگیز تقریروں کے الفاظ کچھ یوں شرکا میں نفرت بھڑکا رہے ہوتے تھے :

”دھان کے جڑ کو گھانس نے جکڑ لیا ہے۔ اس کو اکھاڑ کے پھینکنا ہے۔ ورنہ تمہیں چاول چار آنہ سیر نہیں ملے گا ’

پھر کیا تھا۔ بزدل سمجھے جانے والے مکیں میں ناانصافی کے خلاف نفرت جوش مارنے لگا۔ پولیس اور دیگر ادارے خاموش صف آرا ہو چکے تھے۔ غیر بنگالی کے گھر گھر تلاشی لی جانے لگی۔ بڑی چھری، ہنسوا، بیٹھی، داؤ، کلھاڑی، وغیرہ چھین کر عوام کو نہتا کیا جانے لگا۔ بوریاں بیل گاڑی پر رکھ کر لے جانے لگے۔ تلاشی کے دوران دہشت تھی انھوں نے جو چاہا، اٹھا لے گئے۔

یکم دسمبر شام چھ بجے اندرا گاندھی نے اعلان کیا کہ تین دسمبر آٹھ بجے صبح سے ہمارے جنگی جہاز پرواز کریں گے اور مشرقی پاکستان پر بمباری کریں گے۔ آپ تیار رہیں اور اگر تیار نہیں ہو تو ہم سے وقت مانگ لیں۔ ادھر یحییٰ خان نے چیلنج قبول کیا اور کہا ہم مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ نقارہ اور طبل جنگ بچ چکا تھا۔

تین دسمبر صبح آٹھ بجے پورا بنگال ہوائی بمباری کی زد میں تھا۔ فضائیہ کی گھن گھرج اور ہولناک دھماکے ہر کان میں سمائے ہوئے تھے۔ ڈھاکہ کا یتیم خانہ ہو یا میڈفورڈ اسپتال ہو یا ابادی ہو۔ ہر طرف ہر قریہ پر بم ہی بم گر رہے تھے۔ پرندوں کی طرح جنگی جہاز ہوا میں منڈلا رہے تھے۔ بم پھینک رہے تھے۔ زمین پر روسی ہتھیار سے لیس تاک میں بیٹھے مکتی باہنی بھی آبادیوں پر حملہ آور تھے۔ ہر طرف گھمسان کی جنگ تھی۔

مستقبل سے بے نیاز، امیدوں اور اعتماد سے لبریز عوام نے پاربتی پور سے صبح آٹھ بجے سید پور جانے کے لیے سفر شروع کیا وہ کیا جانتی تھی کہ قیامت برپا ہونے والی ہے۔ ادھر آٹھ بجے ریل نے سیٹی بجائی ادھر جہاز نے نشانہ بنایا۔ آنا فانا دو بوگی کے اٹھارہ لوگوں کی زندہ لاشیں تڑپ رہی تھیں۔ چند منٹ پیدل کے فاصلے پر اس کے والد کا سرکاری گھر واقع تھا۔ گھر سے بھی چارپائیاں اسٹیشن لے جائی گئیں۔ اس نے خود زندہ لوگوں کو تڑپتے ہوئے دیکھا۔

گھنٹے، دو گھنٹے اور کہیں تین گھنٹے کے وقفے سے جا بجا بمباری جاری تھی۔ یہ دن کی روشنی میں جاری اور رات بند ہو جاتی تھی۔ بلیک آؤٹ تھا۔ گھر میں اندھیرا رکھنے کا سخت اعلان تھا۔ اندھیرے میں پاکستانی فوجیوں کا جنگی جہاز کا شکار کرنا آسان ہوتا تھا۔ زمینی فوجی اپنے بندوقوں سے حملہ آور جہاز گرانے کی سرتوڑ کوشش کرتے تھے۔ سفاک خونی جہاز فوجیوں کا تعاقب کرتے تھے اور آگ کے گولے برساتے تھے۔ متعدد بار فوجی بمباری کے دوران محلے کے گھروں میں پناہ لیتے تھے۔ لوگ تحفظ دیتے اور مدد کرتے۔

مقامی رہائش پذیر ابادی کو بمباری کا بہت پہلے سے خدشہ نہیں بلکہ یقیں تھا۔ لوگوں نے مہینوں کا راشن گھروں میں محفوظ کر رکھا تھا اور گھروں میں احتیاطاً خندق کھودے ہوئے تھے۔ اس کے یہاں ریلوے والوں نے ”وی“ کے حروف کا خندق بنا کر دیا تھا۔ شروع میں جہاز دیکھتے ہی یہ خندق میں پناہ لے لیتے تھے۔ جہاز گزر جائے یہ باہر نکل آتے۔ پانچ دسمبر جہاز نے بمباری کے ساتھ گولہ باری بھی شروع کردی، آبادی پر آگ لگانے والے بم پھینکے جانے لگے۔ خندق میں پناہ لینے والے اب غیر محفوظ ہو گئے تھے۔ اس کے گھر کے کونے پر گر ے والے گولے نے اوسان خطا کر دیے تھے۔

پانچ دسمبر بدترین ہوائی حملہ کا دن تھا۔ اس صبح محلے کے جوان لاٹھی، سریہ، مائیں بچوں کے ضروری کپڑے، دودھ، پانی لے کر قریب قبرستان کی طرف بھاگتے رہے۔ شاید وہ کھلی جگہہ پر بمباری کا شکار ہونا نسبتاً خوش نصیبی سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا اس طرح لاشوں کی تدفین آسان ہو جائے گی۔ گھروں میں زمینی حملے، بے حرمتی، بے بس موت، لاشوں کا گدھ چیل کی خوراک بننے کا خوف ان پر طاری تھا۔ قبرستان میں سینکڑوں لوگ کا ساتھ ہونے سے تحفظ کا کچھ انجانا سا احساس تھا۔

جیسے ہی رات ہوتی۔ بمباری رک جاتی تو یہ چھپتے چھپاتے واپس گھر لوٹ آتے۔ جلدی جلدی چھلکوں سمیت سبزی اور روٹی پکا کر پیٹ کی آگ بجھاتے۔ اور رات بھر چوکنا زمینی حملے کے انتظار میں وقت گزارتے۔ کہاں کی بھوک اور کہاں کی سردی۔ محلے میں فوج اور جوان پہرہ دیتے۔ اس طرح دس دنوں میں تین بار انھیں ایسے ہی قبرستان کا سورج کی روشنی میں مکیں بننا پڑا۔ بی بی سی کی خبریں اور پاکستان کی خبریں سے کبھی حوصلہ ملتا کبھی دل ڈوب جاتا تھا۔

Latest posts by عبید علی، کراچی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبید علی، کراچی کی دیگر تحریریں