موت بانٹتے رہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"laiba-zainab\"اس سال 6 نومبر کو میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار جہاز کا سفر کیا. پی آئی اے کی فلائٹ تھی ملتان سے کراچی کی۔ جہاز کا سفر کرنے کا خوف تو اپنی جگہ دل میں تھا ہی مگر قومی ایئر لائنز کے حوالے سے خدشات بھی بہت تھے۔ چونکہ رپورٹنگ کی ہوئی ہے زندگی کے کچھ حصے میں اسی لیئے جہازوں کی حالتِ زار سے لے کر پی آئی اے کے عملے کے حوالے سے ایک عجیب سا ڈر ضرور تھا۔ اے ٹی آر میں سوار ہو کر احساس ہوا کہ نیو خان کی بسوں اور جہاز کی نشتوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے،دونوں ہی کمر درد کا نسخہ ہیں۔ ٹیک آف سے پہلے سوچا اپنی ماں سے بات کر لوں کیا خبر پھر بات ہو نہ ہو۔ کال مِلائی مگر موبائل کمپنی والے بھی چاہتے تھے کہ مزید خوفزدہ کریں مجھے اِسی لیئے کال نہیں ملی اور میں نے موبائل آف کر دیا۔

سیٹ بیلٹ باندھنا نہیں آ رہی تھی اور جہاز ٹیکسی کر رہا تھا، فلموں میں دیکھا تھا کہ ایئر ہوسٹس اشاروں سے سمجھا رہی ہوتی ہے ایسی باتیں مگر میری فلائٹ میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا تھا۔ پڑوس میں بیٹھی لڑکی کی مہربانی کہ اُس نے مدد کی اور میں سیٹ سے ٹیک لگا کر جہاز کے گھومتے پنکھوں کو دیکھنے لگ گئی۔ٹیک آف کے وقت میرا دل بہت گھبرا رہا تھا مگر خود پر ضبط ضروری تھا ورنہ اونچی آواز میں کی جانے والی بکواس سے سارے مسافر محظوظ ہوتے۔ جیسے ہی ٹیک آف کیا فلائٹ نے مجھے سمجھ آگیا کہ کلیجہ منہ کو کیسے آتا ہے۔

کھانے کے نام پر دیئے جانے والے بدمزہ آٹے سے بھرے سینڈوچ اور براؤنی کے نام پر بھورے رنگ کے عجیب و غریب کیک کا ڈبا ایئر \"laiba\"ہوسٹس کی جانب سے ٹرے پر پٹخے جانے کا دُکھ ایک طرف (میں نے واقعی یہ سوچا تھا کہ باجی میرا کیا قصور ہے) مجھے تو جہاز کے کھڑکنے کی آوازیں ہی ڈرا رہی تھیں۔ ساتھی مسافر نے سمجھایا کہ پی آئی اے کے اے ٹی آر ایسے ہی ہیں پریشان نہ ہو اور میرے ذہن میں ایک ہی سوال کہ اتنی مہنگی ٹکٹ کے پیسے بھر کے بھی نیو خان کی سواری کیوں؟

لینڈنگ کے وقت جب جہاز نیچے اُترنے لگا تو ہوا میں اُس کے ہچکولوں کے ساتھ ہی میرا دل بھی ڈوبنے اُبھرنے لگ گیا۔ ٹائر زمین پر لگتے ہی ایسا زبردست زلزلہ آیا کہ ناچاہتے ہوئے بھی اونچی آواز میں مغلظات بک ہی دیں میں نے۔ جب احساس ہوا کہ تمام مسافروں کی توجہ کا مرکز بن چُکی ہوں تو اُن سے معزرت کی کہ زندگی کی پہلی فلائٹ ہے اسی وجہ سے ایسے بول دیا۔ خیر سے وقت دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک گھنٹہ تیس منٹ کی فلائٹ میں بیٹھے دو گھنٹے گزر چُکے تھے لیکن خیریت سے پہنچ جانے کی خوشی ضرور تھی کہ مہربانی ان کی پہنچا تو دیا۔ نہ پہنچاتے تو کوئی ان کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ آخر اس ملک میں ہونے والے کسی بھی فضائی حادثے کے ذمہ داروں کا کوئی بگاڑ ہی کب سکا ہے کُچھ۔ میرے ہوش و حواس میں ہونے والے فوکر طیارے حادثے سے لے کر ایئر بلیو تک کوئی فرق نہیں پڑا تو اب پی کے 661 کی دفعہ بھی نہیں پڑے گا۔ وہ لوگ جانتے ہیں کہ نہ تو اِس ملک کا قانون اُنہیں کچھ کہہ سکتا ہے اور نہ ہی عوام اُن سب کے خلاف کوئی ملک گیر احتجاج کریں گے۔ موت آنی ہے مگر اُس کے بورڈنگ پاس جاری کرنے کا اختیار اُن لوگوں کو دے دیا گیا ہے۔ آپ سب بےفکر ہو کر ائیر ٹکٹ خریدیں \”have a safe flight\” سُنتے رہیں اور ذمہ داروں سے کہیں موت بانٹتے رہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply