اکیلے چلو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر وہ تمہاری پکار کا جواب نہ دیں!
اکیلے چلو۔
اگر وہ خوف سے اپنے خول میں سمٹے جائیں
منہ دیوار کی طرف کیے
تو اے ابھاگی!
اپنا دل کھول دو اور
اکیلے بولو۔
اگر وہ تم سے منہ موڑ کے جنگلوں میں تمہیں اکیلا چھوڑ دیں
تو اے ابھاگی!
اپنے قدموں میں بچھے کانٹوں اور
خون بھری راہوں پر
اکیلے چلو۔
اگر وہ دروازہ بند کر دیں اور
طوفانی شب کی تیرگی میں چراغ بجھا دیں
تو اے ابھاگی!
درد کے کڑکتے شعلے سے
اپنے دل کا دیا جلاو اور
اسے اکیلا جلنے دو!

تقریباً ایک صدی پہلے رابندر ناتھ ٹیگور نے ستم زدگان افلاک اور کشتگان خاک کے دکھوں کو محسوس کیا اور ان کے سینوں میں اپنی نظموں اور ترانوں سے امید کی شمع روشن کی۔ شانتی نکیتن کے پرسکون ویرانوں میں بیٹھے ان کو آنے والے زمانوں کی مہیب گڑگڑاہٹ سنائی دے رہی تھی۔ اپنے مظلوم ہم وطنوں کے دلوں میں مچلتے طوفان، خاموش ہونٹوں پہ تڑپتی آہیں اور ویران آنکھوں میں سلگتی آگ انہیں یہ چتاونی دے رہی تھی کہ ظلم کی اندھیری رات ختم اور آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ہندوستان کے طول و عرض میں آزادی کی لہر جاگ اٹھی۔ کہیں نیتا جی سبھاش چندر بوس نے انڈین نیشنل آرمی کی صورت امید کی روشن شمع کو بھڑکتی ہوئی آگ میں تبدیل کر دیا تو کہیں اقبال، جناح اور گاندھی جیسے راہنماؤں نے لوگوں کی آنکھوں میں آزادی کے خواب روشن کر کے ایک حسین صبح کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ ہر ایک مصلح قوم کو شروع میں اپنے دل کا دیا جلا کر مخالفتوں کے طوفان اور ظلم کی اندھیری شب میں اکیلا ہی چلنا پڑا لیکن امید کا یہ سرمدی نغمہ جلد یا بدیر آزادی کے پروانوں کے ہونٹوں پر جاری ہو کر رہا۔

ظلم کی تاریک رات کے خاتمے کے لیے ہمیشہ اپنے خون سے چراغ روشن کرنے پڑتے ہیں۔ قافلے والوں نے بھی بخل سے کام نہیں لیا اور ایک روشن صبح کی امید میں آزادی کے پروانے تاریک راہوں میں مارے جاتے رہے۔ ان کے خون سے جابجا روشن قربانیوں کے یہ چراغ جہاں ہمیں آزادی کی اس راہ کے انتہائی کٹھن ہونے کی خبر دیتے ہیں وہیں آنے والے زمانوں میں ظلمت کے سمندروں میں راستہ تلاشتے آزادی کے متوالوں کے لئے لائٹ ہاؤس کا کام بھی کرتے ہیں۔

آزادی کی دیوی لاکھوں جانوں کا نذرانہ لے کر راضی ہوئی تو اہل وطن کے لیے داغ داغ اجالا منتظر تھا۔ ارض موعود میں جلد ہی اسی تیرہ شبی کا چلن جاری ہو گیا اور سرسراتے سایوں نے آزادی کی حسین صبح کا روشن چہرہ ماند کر دیا۔

خدا کی بستی کے باسیوں کو محسوس ہوا کہ صرف آقاؤں کی صورت تبدیل ہوئی ہے۔ ایسے میں حقیقی آزادی کے پروانوں نے اس شمع کو کبھی بجھنے نہیں دیا۔ اس سے روشن چراغوں نے ہر دور میں ظلم کے خاتمے کے لیے زمین زادوں کے سینے میں آگ دہکاے رکھی ہے اور ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی سر پھرا یہ شمع بلند کیے ظالم کو اپنی للکار سے لرزہ براندام کیے رکھتا ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •