ٹرمپ اور بائیڈن کے مقابل ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ووٹ لینے والی امیدوار: جو جورگنسن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکا کے صدارتی انتخاب میں موجودہ صدر ری پبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ رہا ہے وہیں صدارتی امیدوار کی دوڑ میں تیسری امیدوار لبرٹیرین پارٹی کی خاتون امیدوار جو جورگنسن بھی ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے تیسرے نمبر پر ووٹ حاصل کیے ہیں لیکن ان کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ ان کے حاصل کردہ ایک اعشاریہ دو فیصد پاپولر ووٹ بائیڈن یا ٹرمپ کی جیت یا ہار پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔

جو جورگنسن نے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے اس طرح لبرٹیرین پارٹی کی انچاس سالہ تاریخ میں سب سے زیاددہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ وہ صدارتی انتخاب کی اس دوڑ میں واحد خاتون امیدوار ہیں۔ ترسٹھ سالہ ڈاکٹر جورگنسن جنوبی کیرولینا کی کلیمسن یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر ہیں۔ ان کے ساتھ نائب صڈارت کے لئے امیدوار جرمی اسپائیک کوہن ہیں۔ ڈاکٹر جورگنسن پہلی امریکن خاتون صدارتی امیدوار ہے جنہیں لبرٹیرین پارٹی گزشتہ چار عشروں کے دوران نامزد کیا ہے۔

ترسٹھ سالہ جور جوگنسن کے ساتھ جرمی سپائیک کوہن کو بھی لبرٹیرین پارٹی سے نائب صدر کے لئے تمام پچاس ریاستوں بشمول واشنگٹن ڈی۔ سی کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔ جورگنسن امریکن سیاست میں کوئی نیا چہرہ نہیں ہے۔ سال انیس سو بیانوے میں پہلی بار ڈسٹرکٹ کانگریشنل کے لئے اپنی پارٹی نے ساوتھ کیرولینا کے لئے ٹکٹ دیا جہاں پر جورگنسن نے دو اعشاریہ دو فی صد ووٹ حاصل کیے ۔ انیس سو چھیانوے میں ہیری براؤن کے ساتھ اپنی پارٹی کی طرف سے نائب صدارت کے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

لبرٹیرین پارٹی امریکہ کی ڈول ہارٹی سسٹم کے ساتھ ساتھ ماس انکرسریشن یا بڑے پیمانے پر قید، خارجی ممالک میں ملٹری اپریشن، وسیع وفاقی پروگرامز کی ناقد رہی ہے۔ اپریل میں جورگنسن کے انتخابی مہم کے دوران جو ویڈیو ریلیز ہوئی ہے اس میں وہ کہتی ہیں کہ وہ امریکہ کو سوئیزر لینڈ کی طرح ایک اکائی کی صورت میں دیکھنا چاہتی ہے، اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اگر صدر منتخب ہوتی ہے تو جہاں جہاں امریکن ملٹری ٹروپس ہیں ان کو واپس بلالیا جائے گا اور اس طرح تمام ممالک کو ایڈ دینے کے عمل کو بھی لگام دیں گے اور فیڈرل ٹیکس کو بھی ختم کردیں گے۔

لبر ٹیرین پارٹی انیس سو اکہتر میں بنی اور دیکھا دیکھی ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کے بعد امریکہ کی تیسری بڑی پارٹی بن گئی اور انیس سو بہتر سے ہر صدارتی انتخاب میں اپنا صدارتی امیدوار لاتی ہے، لیکن کبھی بھی چار فی صد سے زیادہ پاپولر ووٹ حاصل نہ کر سکا۔ لبرٹیرین پارٹی مکمل فری مارکیٹ کی وکالت کرتی آئی ہے۔ ان کا یہ بھی منشور میں شامل ہے کہ تمام امریکن کو ازاد زندگی بسر کرنی چاہیے اور اپنے وسیع تر مفاد کو حاصل کرنے کے لئے وہاں تک رسائی حاصل کریں جہاں دوسروں کا انٹرسٹ متاثر نہ ہوتا ہو، ان کے منشور میں یہ بھی ہے کہ یہ ایک مطلق العنان ریاست کے بجائے فرد کی حق کی دفاع کی بات کرتی ہے۔

اب تک مجموعی طور پر ان کے پانچ ارکان ایوان نمائندگان کے لئے منتخب ہوئے ہیں۔ لبرٹیرین پارٹی کے سال دو ہزار دو سے ان تک دو ارکان ریاستی مقننہ کے لئے منتخب ہوئے ہیں۔ جارجیا میں جورگنسن نے ایک اعشاریہ دو فی صد ووٹ حاصل کیے جس کا مجموعہ اکسٹھ ہزار اکہتر بنتا ہے جب کہ ٹرمپ اور بائیڈن نے مل کر ایک ہزار سات سو پچہتر ووٹ حاصل کیے ۔ جور گنسن کی کارکردگی دیہاتوں اور مغربی ریاستوں میں بری نہیں رہی۔ الاسکا اور نارتھ ڈکوڈا میں دو اعشاریہ سات فی صد ووٹ حاصل کیں، جبکہ ساؤتھ ڈکوڈا میں جورگنسن نے دو اعشاریہ چھ فی صد ووٹ حاصل کیں جس کا مجموعہ ایک اعشاریہ چھی ملین ووٹ بنتا ہے۔

جورگنسن نے لبرٹیرین پارٹی کی تاریخ میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ، اس سے پہلے ان کی پارٹی کے گیری جونسن نے دو ہزار سولہ میں صدارتی انتخابات میں تینتیس فی صد ووٹ حاصل کیے ۔ انتخابات میں لبرٹیرین پارٹی کا نعرہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو منتخب کریں جو آپ کے قرضوں میں ٹریلین کا اضافہ نہ کریں اور خارجی جنگوں کو بند کریں اور اپنے ملٹری ٹروپس کو واپس بلالیں اور سب لوگوں کے حق پر یقین رکھیں اور جب تک آپ کے تحفظ کا لحاظ نہ رکھیں اور جب تک آپ کے مسائل کو ایڈرس نہ کریں۔

Latest posts by اقبال شاہ ایڈووکیٹ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •