کیا ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ غلط تھا؟


\"edit\"گزشتہ اتوار کو بھارت کے شہر امرتسر میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران پاکستان سے روا رکھے جانے والے سلوک کی وجہ سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کو بھارت میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں روانہ کرکے غلطی کی تھی۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ افغانستان کے صدر اور بھارت کے وزیراعظم جب پاکستان پر تابڑ توڑ حملے کر رہے تھے تو پاکستان کانفرنس میں بالکل تنہا کیوں تھا۔ دوسرے ممالک کے نمائندوں نے پاکستان کی حمایت میں کوئی بات کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی۔ صرف روس کے نمائندے نے پاکستان پر نکتہ چینی کو غلط قرار دیا تھا۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا سرتاج عزیز نے جارحیت کے مقابلے میں مفاہمانہ اور متوازن گفتگو کرکے درست سفارت کاری کا ثبوت دیا یا انہیں بھی پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کے جواب میں بھارت اور افغانستان کی طرف سے پاکستان میں تخریب کاری کا ذکر کرنا چاہئے تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کی مثالیں سامنے لانی چاہئے تھیں تاکہ بھارت کا بدنما چہرہ دنیا کے سامنے آ سکتا۔ ان تینوں سوالوں کو اگر ایک اہم سوال میں سمویا جا سکے تو پوچھا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے حوالے سے جو حکمت عملی اختیار کی ہے، کیا وہ ناکام ہو رہی ہے اور کیا اس میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اس سوال کا جواب باقی تین سوالوں کو سمجھنے کےلئے ضروری ہے۔

پاکستان میں اس حوالے سے متعدد خبریں سامنے آئی ہیں کہ کس طرح بھارتی حکام نے سرتاج عزیز کو ان کے ہوٹل میں محصور کر دیا اور سکیورٹی کا بہانہ بنا کر نہ انہیں پریس کانفرنس کرنے دی گئی اور نہ گولڈن ٹیمپل جانے کی اجازت دی۔ اس کے علاوہ کانفرنس کے مندوبین کےلئے عشائیے کے دوران سرتاج عزیز کو ان کے رتبے کے اعتبار سے پروٹول نہیں دیا گیا۔ بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے جب پاکستانی صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرنے کی کوشش کی تو ایک بھارتی اہلکار نے صحافیوں کو کمرے سے باہر نکالنے اور ہائی کمشنر سے بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ جس پر عبدالباسط کو کہنا پڑا کہ :’ یہ میرے لوگ ہیں۔ مجھے کوئی ان کے ساتھ بات کرنے سے نہیں روک سکتا‘۔

اس قسم کے سارے واقعات کو پاکستان کی توہین کے طور پر پیش کرکے میڈیا میں پاکستانی حکومت کے فیصلہ پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی سامنے آ چکی ہے کہ پاکستان نے سوچ سمجھ کر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ وہاں پر اشرف غنی اور نریندر مودی کی تند و تیز باتیں اور انتظامی عملہ کے غیر سفارتی رویہ کی وجہ سے پاکستان کی توہین کی بجائے بھارت کی سفارتی شہرت مجروح ہوئی ہے۔ اگر سرتاج عزیز وہاں نہ جاتے اور پاکستان کی طرف سے کانفرنس کا بائیکاٹ کیا جاتا تو ان دونوں ہمسایہ ملکوں کی طرف سے اسی طرح پاکستان کے خلاف زہر افشانی ہوتی اور اس پر یہ بھی جتایا جاتا کہ پاکستان چونکہ ان حقائق کا سامنا نہیں کرسکتا، اس لئے اس نے کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ سرتاج عزیز کی وہاں موجودگی اور ان کی طرف سے الزامات کا تحمل اور سفارتی بردباری سے جواب دے کر یہ واضح کیا گیا کہ پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات غلط ہیں اور پاکستان علاقائی تعاون اور دہشت گردی پر قابو پانے کےلئے اپنی بساط کے مطابق اقدامات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سرتاج عزیز کا یہ موقف کہ کسی ایک ملک پر ایک پیچیدہ اور مشکل صورتحال کی ذمہ داری ڈال کر مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا، کافی حد تک حقیقی تصویر پیش کرنے میں کامیاب ہوا۔ گو کہ دیگر ممالک کے نمائندوں نے پاکستان کا ساتھ دینا ضروری نہیں سمجھا لیکن یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان میں سے کسی نے بھارت یا افغانستان کے موقف کو بھی درست قرار نہیں دیا۔ پاکستان اگر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا بائیکاٹ کرتا تو اس پر آنکھیں چرانے کا الزام عائد کرنے کے علاوہ یہ دعویٰ بھی کیا جا سکتا تھا کہ پاکستان افغانستان میں انتہا پسندی ، دہشت گردی اور لاقانونیت کو ختم کرنے اور اس کی مدد کےلئے علاقائی تعاون کو فروغ دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اسی لئے اس نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ واضح رہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا مقصد افغانستان کی صورتحال بہتر بنانے کےلئے علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ 2011 میں ترکی میں اس کام کا آغاز ہوا تھا۔ اس میں پاکستان، افغانستان اور بھارت کے علاوہ علاقے کے 14 ممالک شامل ہیں۔ جبکہ امریکہ سمیت 17 ملک مبصر کے طور پر اس عمل کا حصہ ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان اگر بھارت سے انتقام لینے کےلئے بائیکاٹ کا فیصلہ کرتا تو اسے پاک بھارت تنازعہ کا شاخسانہ سمجھنے کی بجائے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ کی وجہ بنا کر پیش کیا جاتا۔ یہ تاثر پاکستان کے مفادات کے برعکس ثابت ہو سکتا تھا۔ اگرچہ افغانستان کی حکومت بوجوہ پاکستان کے ساتھ ناراضگی کا اظہار کر رہی ہے لیکن پاکستان جس قدر افغانستان سے دور ہوگا، بھارت کو اپنے مقاصد میں اتنی ہی کامیابی حاصل ہوگی۔ اس لحاظ سے بھی پاکستان کی طرف سے نمائندگی کرنے کا فیصلہ مناسب اور درست تھا۔

پاکستان نے اس کانفرنس میں شرکت کرکے یہ واضح کیا ہے کہ اسے افغانستان کا مفاد عزیز ہے۔ وہ اس ملک میں امن بحال کرنے اور مسائل حل کرنے میں اپنا حصہ ڈالنے کےلئے تیار ہے۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس افغانستان کےلئے سہولتیں پیدا کرنے کے نقطہ نظر سے منعقد ہوئی تھی۔ اسے پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائی کا پلیٹ فارم بنانا درست نہیں ہے۔ سرتاج عزیز کی امرتسر آمد کے ساتھ ہی پاکستان کا یہ موقف کھل کر سامنے آ گیا تھا۔ البتہ جب پہلے افغان صدر اشرف غنی اور پھر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کو مسئلہ کی جڑ قرار دے کر 30 سے زائد ملکوں کے نمائندوں کے سامنے افغانستان کے حوالے سے بات کرنے کی بجائے پاکستان پر گفتگو کی تو متعدد ملکوں نے یہ ضرورنوٹ کیا ہوگا کہ افغانستان کےلئے قائم ہونے والے ایک پلیٹ فارم کو بھارت اپنی میزبانی کی وجہ سے پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کےلئے استعمال کر رہا ہے۔ اور افغانستان کے صدر اس افسوسناک حکمت عملی میں بھارت کی معاونت کرکے دراصل اپنے ملک کے مستقبل پر غور کےلئے جمع ہونے والے نمائندوں کو مایوس و حیران کرنے کا سبب بنے تھے۔ اس حد تک تو یہ پاکستان کی سفارتی فتح تھی۔ اسے پاکستان کی توہین اور بھارت کی فتح قرار دینا غلط ہے۔

اس کے ساتھ ہی پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کے مشیر خارجہ امور، وزارت خارجہ کی مکمل تیاری کے بغیر ہی ایک دشمن ملک میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط صورتحال کے بارے میں اسلام آباد کو مطلع کر چکے تھے۔ انہوں نے بتایا دیا تھا کہ بھارتی حکام پاکستان کو تنہا کرنے اور اس پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان معلومات کی روشنی میں وزارت خارجہ کو قبل از وقت دیگر ممالک سے مواصلت کرکے انہیں اپنے موقف سے آگاہ کرنے کی ضرورت تھی۔ تاکہ جب ان کے نمائندے بھارت کے جارحانہ رویہ کو دیکھتے تو وہ پہلے سے ہی اس پر ردعمل دینے کےلئے تیار ہوتے۔ کانفرنس کے دوران کسی ملک کی طرف سے پاکستان کی تائید نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اس صورتحال کےلئے تیار نہیں تھے۔ یہ نمائندے افغانستان کے حالات بہتر بنانے کےلئے تعاون کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ اگر پاکستانی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے ہوم ورک کرتے ہوئے ان ممالک کی خارجہ امور کی وزارتوں کو بھارتی حکمت عملی اور اس کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہ کر دیا ہوتا تو سرتاج عزیز اور ان کے ساتھی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں خود کو تنہا محسوس نہ کرتے۔

وزارت خارجہ کی یہ ناکامی بھارت اور افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی غیر واضح پالیسی کی بھی آئینہ دار ہے۔ ایک تو پاکستان یہ غلطی کر رہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ تعلقات اپنی انڈیا پالیسی کے تناظر میں طے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عرصہ دراز تک پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت میں افغانستان کو اسٹریٹجک ڈیپتھ STRATEGIC DEPTH سمجھا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت افغان طالبان کے ساتھ پینگیں بڑھائی گئیں اور ان کے ذریعے کابل میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ یہ قرار دیا جا رہا ہے کہ اب یہ پالیسی ترک کر دی گئی ہے لیکن اس حوالے سے واضح اشارے سامنے نہیں آئے ہیں۔ کابل کی طرف سے جوں ہی بھارت کے ساتھ دوستی اور تعاون کی بات کی جاتی ہے، اسلام آباد فوری طور پر اسے بھارت کے ساتھ بریکٹ کرکے ان دونوں کو ایک ہی تھالی کا بینگن قرار دیتا ہے۔ اس رویہ سے بھارت کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے میں کامیابی ہو رہی ہے۔ اگرچہ افغان لیڈر جب بھارت کے بہکاوے میں آ کر پاکستان کے خلاف عناد کا اظہار کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں تو وہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہیں۔ جس طرح اشرف غنی نے امرتسر میں تقریر کرتے ہوئے جب پاکستان کی 500 ملین ڈالر کی امداد مستر کرنے کا اعلان کیا تو دنیا کے متعدد دارالحکومتوں میں ان کی سیاسی بصیرت اور ارادوں پر ضرور سوال اٹھائے گئے ہوں گے۔ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بھارت سے علیحدہ کرکے دیکھنا ہوگا۔ اس طرح افغانستان کو مکمل طور سے بھارت کا ہم خیال بننے سے بھی روکا جا سکے گا اور پاکستان مشرق اور مغرب دونوں طرف سے یکساں طور سے جارحانہ رویہ رکھنے والے ملکوں کی زد میں آنے سے بھی بچ سکے گا۔

اسی حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ اپنی 70 سالہ پرانی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے ان پہلوؤں پر کام کا آغاز کرے جن کے ذریعے جنوبی ایشیا کے ان اہم ملکوں کے درمیان تناؤ کی صورتحال کم ہو سکے۔ سفارتی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ پر اپنے موقف میں لچک پیدا کئے بغیر بھی پاکستان متعدد ایسے قدم اٹھا سکتا ہے جن کے ذریعے اعتماد کی فضا بحال ہو سکتی ہے۔ ایٹمی قوت ہونے کے حوالے سے دونوں ملک اب کسی قسم کی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے لیکن غیر یقینی کی صورتحال ان کی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پاکستان کو چھوٹا ملک ہونے کی وجہ سے اس حوالے سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے اس کی پیداواری صلاحیت مسلسل بھارت کے مقابلے میں کم ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور سکڑتے وسائل کی وجہ سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

بھارت کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ پاکستان کے خلاف محاذ آرائی اور سفارتی جارحیت کے ذریعے نہ کشمیر کا مسئلہ حل کر سکتا ہے اور نہ داخلی مسائل کا پائیدار حل تلاش کرسکے گا۔ دونوں ملکوں کو خطے کے عوام کی بہبود کےلئے وسیع المدت اقدامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali