ہمارے ہوائی جہاز کیوں گرتے ہیں؟


\"ali پی آئی اے کا فوکر جہاز جو 25 اگست 1989 کو گلگت سے اسلام آباد آتے ہوۓ راستے میں غائب ہو گیا تھا آج تک نہ مل سکا۔ اس کی تلاش نہ صرف جہازوں اور ہیلی کاپٹروں سے کی گئی بلکہ جنات، پریوں اور ستاروں سے بھی پوچھ لیا گیا مگر سب نے ایک ہی بات کہہ دی ان کی کرامات صرف گھوڑوں، گدھوں اور خچروں کے نقل و حمل تک محدود ہے، جدید دور کی مشینوں سے وہ بھی آگاہ نہیں۔ اس جدید دور کی تمام تر تکنیکی صلاحیتوں، سعی و تغیر کی سر زمین میں ستاروں پر کمند ڈالنے والے نجومیوں ، جنات کو موکل رکھنے والے کامل پیروں اور سورج، چاند اور ستاروں کی چال پر نظر رکھنے والے جو تشیوں کی موجودگی کے باوجود اس جہاز کی ہمالیہ کے پہاڑوں میں گمشدگی کا معمہ ستائیس برس میں حل نہ ہوسکا۔ اس دلخراش واقعے کے بعد جو ایک امید بے نظیر بھٹو کے گلگت میں بڑے ہوئی اڈے بنانے کے اعلان سے بندھی تھی وہ ان کے جیالا صدر فاروق لغاری نے چوٹی زیرین میں ہوائی اڈا بنا کر توڑ دیں ۔ چوٹی زیریں میں فاروق لغاری کی ذاتی بنجر زمین کو زرعی زمین کے عوض خرید کر بناۓ جانے والے اس ائیر پورٹ پر آج تک کسی جہاز کےاترنے کی اطلاع مجھ تک نہیں پہنچی کیونکہ یہ ڈیرہ غازی خان کے جن لوگوں کے لئے بنا یا گیا ہے ان کو بغرض سفر ملتان کا ہوائی اڈہ اس سے زیادہ نزدیک پڑتا ہے۔

پی آئی اے کا جہاز ائیر بس اے 300 جو کٹھمنڈو کےلئے فلائٹ نمبر 268 کے طور پرمحو پروازتھا 28 ستمبر 1992 کو ہوائی اڈے پر \"pia\"اترتے ہوۓ نزدیکی پہاڑوں پر گر کر تباہ ہوگیا۔ ایک دفعہ کٹھمنڈو جاتے ہوۓ مجھے پائلٹ کیبن میں سفر کی اجازت ملی تو وہاں بیٹھے ہوۓ میرے استفسار پر پائلٹ نے بتایا کہ ان پہاڑوں میں حادثے کا شکار ہونے والا بدقسمت جہاز کیسے گرا تھا۔ کٹھمندو کا شہر جہاں اس کا ہوئی اڈہ بھی واقع ہے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ جہاز پاکستان سے جاتے ہوۓ ہندوستان کے شہر کانپور کے اوپر سے جب کٹھمنڈو شہر کے نزدیک پہنچتا ہے تو ہوئی اڈے کے لئے بتدریج اونچائی ہزار ہزار فٹ کے حساب سے وقفے وقفے سے کم کی جاتی ہے۔ اس دن پہاڑوں پر بادلوں کی وجہ سے نظر بھی کم آرہا تھا تو ایسے میں پائلٹ نے غلطی سے جہاز کی اونچائی وقفے سے پہلے کم کردی اور جہاز زمین سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگیا۔ اس حادثے میں جہاز میں سوار 168 مسافر سب کے سب ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔

یکم جولائی 2006 کو پی آئی اے کا فوکر جہاز جو ملتان سے اکتالیس مسافروں کے ساتھ فلائٹ نمبر پی کے 268 کی پرواز پر تھا اپنی اڑان بھرنے کے چند لمحوں بعد ہی انجن بند ہونے کی وجہ سے حاثے کا شکار ہوا جس میں جہاز میں سوار تمام مسافروں میں سے کوئی نہ بچ سکا۔ اس حادثے پر ملک بھر میں شدید لے دے ہوئی اور پاکستان کے قومی ائیر لائن نے اصولی فیصلہ کیا کہ وہ فوکر کے جہازوں کو اے ٹی آر جہازوں سے بدل دے گا کیونکہ اس سے پہلے بھی ایک فوجی فوکر جہاز شمال جنوبی صوبے خیبر پختون خواہ میں بھی حادثے کا شکار ہو چکا تھا جس میں ائیر فورس کے چیف مصحف علی سوار تھے۔ جہاز بد ل دئے گئے اور اب فوکر کی جگہ فرانس سے دراآمد کئے گئے اے ٹی آر جہازقومی ایئر لائن کے جہازوں کے بیڑے میں شامل ہوچکے ہیں۔

ایک اور دلخراش حادثہ ایئر بلیو کے ایئر بس اے ۔ 321 کی فلائٹ 202 کو اٹھائیس جولائی 2006 کی صبح اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر \"pakistan-plane-crash\"  اترتے ہوۓ مارگلہ کی پہاڑیوں میں پیش آیا جس میں عملے کے چھ ارکان سمیت ایک سو چھیالیس مسافر جان بحق ہوۓ۔ اس دن بھی موسم ابر الود تھا اور اسلام آباد میں بادل چھاۓ ہوۓ تھے۔ لیکن ایسے موسم میں جہاز وں کی پروازیں کبھی نہیں رکتیں۔ حادثے کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ پائلٹ کی غلطی سے زیادہ ہٹ دھرمی کا واقعہ تھا۔ اس اندوہناک حادثے کی یاد میں ایک یاد گار بھی مارگلہ کی پہاڑیوں میں بنائی گئی ہے جو سب کو یاد دلاتی رہتی ہے کہ ان پہاڑوں میں ایسا خوفناک واقعہ پیش آیا تھا۔

ایک اور ہوائی جہاز کا حادثہ بھوجہ ائیر لائن کا بوئینگ 737۔236 جہاز کی فلائٹ 213 کو 20 اپریل 2012 کی شام کو کراچی سے اسلام آباد آتے ہوۓ راولپنڈی کے پاس پیش آیا۔ اس حادثے کی وجہ خراب موسم میں پائلٹ کی جہاز کو اتارنے کی کوشش بتائی گئی۔ یہ اسلام آباد میں پیش آنے والے ایئر بلیو کے بعد دوسرا بڑا ہوائی جہاز کے تباہ ہونے کا حادثہ تھا جس میں عملے کے چھ ارکان سمیت ایک سو ستائیس مسافر جان بحق ہو گئے۔ بھوجہ ایئر لائن کی کمپنی جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھی اس واقعے کے نتیجے میں بند ہو گئی ۔

سات دسمبر 2016 کی سہ پہر کو چترال سے اسلام آباد اروانہ ہونے والی پی آئی اے کے اےٹی آر ۔ 62 کی فلائٹ پی کے۔ 661 اپنی منزل پر نہ پہنچ سکی۔ اس جہاز کے ایبٹ آباد کے شہر کی نزدیک حویلیاں کی پہاڑیوں میں ٹکرا کر تباہ ہونے کے نتیجے اس بد نصیب جہاز میں سوار چھیالیس مسافر وں میں سے کوئی نہ بچ سکا۔ فوری شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ جہاز کے انجن میں فنی خرابی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔\"plane-crash\"

ابھی تک جتنے حادثے پیش آۓ ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ ان حادثات کی تین بڑی وجوہات تھیں ؛

1۔ فنی خرابی

2۔ قدرتی عوامل

3۔ انسانی غلطی

ماہرین بتاتے ہیں کہ جدید طیاروں میں فنی خرابی کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات کے امکانات کو کم سے کم کیا گیا ہے۔ جہازوں میں متبادل انجن کسی بھی فنی خرابی کی صورت میں بہ حفاظت جہاز کو کسی بھی محفوظ جگہ پہنچا سکتے ہیں۔ انسانی مہارت کے دانشمندانہ استعمال سے فنی خرابی کی صورت میں بھی جدید جہازوں کو منزل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

قدرتی عوامل میں موسم کی خرابی اولین ہے جس کی وجہ سے حادثات پیش آتے ہیں۔ پاکستان میں پیش آنے والے حادثات میں بھوجہ ائیر لائن کی تباہی کی وجہ موسم کی خرابی بتایا جاتا ہے جبکہ اس بد قسمت جہاز کو ایسے خراب موسم میں اترنے سے روک کر اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔

\"pia-plane\"انسانی غلطی ایک ایسی وجہ ہے جو ہر صورت میں ان حادثات کے پیچھے کار فرما ہوتی ہے۔ چاہے فنی خرابی ہو یا موسم کی، انسانی مہارت سے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ جہازوں کی دیکھ بال، مرمت، صفائی اور اڑان بھرنے سے پہلے معائنہ سب انسانی مشاہدے کے متقاضی ہیں۔ بہترین انسانی مہارت کی ایک ائیر لائن کے ادارے کو انتظامی سطح پر چلانے سے لے کر جہازوں کو اڑانے اور مسافروں کے سفر کو آرام دہ بنانے تک ضرورت ہوتی ہے۔ بدعنوانی، سفارش، اور رشوت ستانی نے بدقسمتی سے پاکستان میں اداروں کو اندرونی طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ قومی ایئر لائن کو سیاسی جماعتوں نے اپنے کارکنان کے لئے وظیفے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ ایسے پائلٹ بھرتی ہوۓ جن کی بنیادی تعلیم ہی نہیں تھی۔ ایسے لوگوں کو اس ادارے کی سربراہی دی گئی جو اسی ادارے میں ادنیٰ درجے کی ملازمتوں کے لئے دیے گئے امتحانات میں فیل ہو چکے تھے۔ ایسے وزیر اس ادارے کو چلاتے رہے جن کی اپنی ایئر لائن کی کمپنی تھی اور ان کا مقابلہ قومی ایئر لائن سے تھا۔

جب ادارے تباہ ہوتے ہیں تو ایسے حادثات جنم لیتے رہتے ہیں۔ جب تک ادارروں میں بہتری نہیں آئے گی، ایسے حادثات ہوتے رہیں گے اور یہ جہاز یوں ہی گرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan