انڈیا: ٹی وی شو کون بنے گا کروڑ پتی جیتنے والی انڈین لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نازیہ نسیم
BBC
نازیہ نسیم انڈین ٹیلی ویژن کے مقبول شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ یعنی کے بی سی کے تازہ ترین سیزن میں ایک کروڑ روپے جیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ اس سیزن کی پہلی کروڑ پتی بن گئی ہیں
وہ خوبصورت اور پر اعتماد ہے، اچھی زبان استعمال کرتی اور سلیقے سے بات کرتی ہے، اس کے پاس ہر سوال کا جواب ہے، بہت تعلیم یافتہ ہے، خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، خوب پڑھتی ہے، ذہین ہے اور ان سب کے ساتھ ساتھ گھر بھی چلاتی ہے۔

یہ ہیں نازیہ نسیم جنھوں نے انڈین ٹیلی ویژن کے مقبول شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ یعنی کے بی سی کے تازہ ترین سیزن میں ایک کروڑ روپے جیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ اس سیزن کی پہلی کروڑ پتی بن گئی ہیں۔

گیارہ نومبر کے اس واقعہ نے نازیہ کی زندگی بدل دی ہے اور اب وہ عام سے خاص ہو گئی ہیں۔

دس اور گیارہ نومبر کی درمیانی شب نازیہ کے پورے خاندان نے کے بی سی کا شو دیکھا جس میں نازیہ شو کے میزبان اور بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار امیتابھ بچن سے مخاطب تھیں۔

اب وہ دہلی سے رانچی آ گئی ہیں جہاں ان کے گھر والے اور دیگر رشتے دار رہتے ہیں۔ ان کا بچپن اس شہر کی گلیوں میں گزرا ہے اور اس کی بہت سی یادیں انھیں اور بھی مضبوط بناتی ہیں۔

نازیہ نسیم نے رانچی کے ڈی اے وی شیامالی سکول میں تعلیم حاصل کی جو اب جواہر ودیا مندر ہے۔ انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے بھی اسی سکول سے تعلیم حاصل کی تھی۔

ابتدائی تعیلم کے بعد نازیہ نے دہلی کے مشہور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن سے پڑھائی مکمل کی۔ اب وہ موٹر سائیکل بنانے والی ایک کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر کام کر رہی ہیں۔

وہ اپنے شوہر محمد شکیل اور دس سالہ بیٹے دانیال کے ساتھ دہلی میں رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ٹی وی شو میں دو بھائیوں نے جیتے سات کروڑ روپے

کون بنے گا کروڑ پتی کا ماسٹر مائنڈ

ایک کروڑ جیتنے والی پہلی مسلم خاتون

نازیہ نسیم

BBC
نازیہ اپنے دس سالہ بیٹے دانیال کے ہمراہ

ٹیلی ویژن پروگرام کے بی سی کا سفر

نازیہ نسیم کے بی سی کے ساتھ اپنے سفر کے بارے میں کہتی ہیں ’میں گذشتہ 20 برسوں سے کون بنے گا کروڑ پتی میں جانا چاہتی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ مجھے یہ موقع ملا۔‘

نازیہ کا کہنا تھا کہ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب امیتابھ بچن نے مجھ سے کہا کہ’نازیہ جی، مجھے آپ پر فخر ہے۔‘ نازیہ کا کہنا ہے کہ ’یہ سال کسی اور کے لیے برا ہو گا لیکن میرے لیے یہ بہترین تھا۔ یہ یادیں تا عمر میرے ساتھ رہیں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘میری اور میری والدہ کی خواہشات پوری ہو چکی ہیں۔ اس کا سہرا میرے گھر والوں کو جاتا ہے جنھوں نے مجھے باہر جانے اور پڑھنے کی آزادی دی۔ خاص کر میری والدہ، جنھوں نے کم عمری میں شادی کے باوجود نہ صرف اپنی تعلیم مکمل کی تھی بلکہ وہ ایک بزنس وویمن بھی ہیں اور ایک بوتیک چلاتی ہیں وہ خود کفیل ہیں۔‘

خطروں سے کیا ڈرنا

نازیہ کہتی ہیں ’میں پچیس لاکھ روپے کے لیے پوچھے گئے تیرہویں سوال کے جواب کے بارے میں پر اعتماد نہیں تھی۔ پھر میں نے سوچا کہ میں نے اپنی زندگی میں کئی بار خطرہ مول لیا ہے ایک مرتبہ اور لے لیتی ہوں۔ میں نے جو جواب دیا وہ درست نکلا اور اس کے ساتھ ہی میں نے 25 لاکھ روپے جیت لیے۔‘

نازیہ کا کہنا ہے ’میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے پیچھے مڑ کر اپنی والدہ اور شوہر کی طرف دیکھا تو میرا اعتماد اور مضبوط ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے میں سولھویں سوال پر پہنچ گئی اور پھر جو ہوا اس سے آپ سب واقف ہیں۔ میں نے ایک کروڑ روپے جیتے اور اس سیزن کی پہلی کروڑ پتی فاتح بن گئی۔‘

نازیہ نسیم

BBC
نازیہ نسیم اپنے والدین کے ہمراہ

حقوق نسواں یا فیمن ازم گھر سے سیکھا

نازیہ خود کو ایک فیمنِسٹ کہتی ہوئے بتاتی ہیں کہ انھیں یہ اپنی والدہ سے وراثت میں ملا ہے۔

انھوں نے کہا ’میں نے ایک فلم سون چریا دیکھی تھی۔ اس میں پھولن دیوی کا کردار ادا کرنے والی فنکارہ بھومی پیڈنیکر کہتی ہیں کہ ‘عورت کی کوئی ذات نہیں ہوتی’ یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج بھی ہمارے معاشرے میں خواتین کو وہ آزادی نہیں ملی جس کی وہ حقدار ہیں۔ میں ایک ایسے معاشرے کی خواہش رکھتی ہوں جہاں والدین اپنی لڑکیوں کو صرف اس لیے تعلیم نہ دلوائیں کہ انھیں شادی کے لیے ایک اچھا لڑکا یا شریک حیات ملے گا بلکہ اس لیے پڑھائیں کہ وہ تعلیم حاصل کر کے خو مختار بنیں اور لڑکے تو پھر بھی مل جائیں گے۔‘

نازیہ کہتی ہیں کہ ’بچپن میں امی اور ابو سے فیمن ازم سیکھا اور شادی کے بعد میرے شوہر نے میرے لیے ایسا ماحول پیدا کیا۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا بڑا ہو کر اپنے خاندان میں خواتین اور ان کی آزادی کا احترام کرے یہ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔‘

تعلیم سے ہی ایک سلجھی ہوئی لڑکی بنتی ہے

نازیہ کی والدہ بشریٰ نسیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بچپن میں نازیہ پڑھائی میں بہت زیادہ اچھی تو نہیں تھی لیکن جو ایک بار پڑھ لیا وہ ہمیشہ یاد رکھتی تھی۔ وہ ایک باتہذیب اور پرسکون لڑکی تھی اور اپنے تین بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ سلجھی ہوئی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’نازیہ بھائیوں بہنوں کے جھگڑوں کو خود ہی سلجھا دیا کرتی تھی۔ ہمیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مستقبل میں یہ ہمارا نام روشن کرے گی۔ آج ہم خوش ہیں اور اس کی وجہ ہماری بیٹی ہے۔‘

نازیہ کے والد محمد نسیم سٹیل اتھارٹی آف انڈیا سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں کوئی فرق نہیں کیا۔ سب نے ایک ساتھ ایک ہی سکول میں تعلیم حاصل کی۔ اسی وجہ سے آج ہر شخص اپنی زندگی میں خوش اور مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین اس کے علاوہ اور کیا چاہتے ہیں،مجھے یقین ہے کہ نازیہ کی زندگی میں مزید خوشیاں آئیں گی اور کے بی سی صرف پہلی سیڑھی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16562 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp