خانہ بدوشوں کے لیے وسائل کا فقدان اور اجتماعی ذمہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک ”پاکستان“ میں زیادہ تعداد غرباء کی ہے۔ جن میں ”خانہ بدوش“ بھی شامل ہیں۔ گزشتہ ماہ ”اکتوبر“ میں ”جنوبی پنجاب“ کے ضلع ”بہاولپور“ ایک ”میدانی علاقے“ میں ایک ”خانہ بدوش خاندان“ کو ریت کے ٹیلوں کے درمیان زندگی بسر کرتے دیکھا۔ تھوڑا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کا گزر بسر مویشیوں کے دودھ فروخت کرنے پر ہوتا ہے۔ ”ریت کے ٹیلوں“ کے درمیان انہوں نے کھلے آسمان تلے جو جھونپڑی لگا کر اپنی بیٹیوں کو پردہ دے رکھا تھا۔ لیکن مویشیوں کی حفاظت کے لئے کوئی انتظام نہ تھا۔ لہذا ان کے خاندان کے کچھ افراد رات بھر حفاظت کے لیے جاگتے۔

تھوڑی تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ لوگ ”بلوچستان“ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ”علاقائی زبان“ نہ جاننے کی وجہ سے ان کو بہت دشواری ہوتی ہے۔ جان پہچان نا ہونے کی وجہ سے ان کی چوری بھی ہو جاتی ہے۔ بیٹیوں کی عزت محفوظ رکھنے کے لیے دن و رات ان میں سے کوئی نہ کوئی چوکنا رہتا ہے۔ مشکل سے ایک سے دو ماہ علاقے میں مقیم رہتے ہیں۔ پھر آگے کوچ کر جاتے ہیں۔

اس تھوڑی سی معلومات سے بہت افسوس ہوا کہ ہم انسان اس قدر مطلب پرست ہو چکے ہیں کہ ہمارے علاقے میں آئے مہمان رسوا اور پریشان ہو کر جاتے ہیں۔ بھروسا اس قدر ٹوٹ چکا ہے کہ ایک مذہب، ایک قوم اور ایک ریاست کے باشندے ہونے کے باوجود ہم ایک دوسرے کی عزت کے محافظ نہیں ٹھہرے۔

آخر روز بروز پیارے پاکستان میں ”شرح خواندگی“ بڑھنے کے ساتھ جرائم میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ہم محب وطن نہیں رہے یا اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں؟ یا ہم اپنی ذہنی قوت کو استعمال نہیں کرتے کہ دشمن عناصر ہمارے ذہنوں کو کس طرح استعمال کرتے ہوئے ہمیں ہمارے ہی خلاف اکسا رہا ہے۔

آئے روز ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی ذہن کو مضبوط کرنے کے لیے کئی ”سیمینار اور تقاریب“ ”سرکاری اور نجی“ سطح پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ لیکن شرکت کرنے والوں کی تعداد محدود ہوتی ہے جبکہ جن لوگوں کو ان سیمینار اور تقاریب کی ضرورت ہے اور ان کی ذہن سازی کی ضرورت ہے وہاں تک یہ ”تعلیمات“ نہیں پہنچ رہیں۔ ”ملک پاکستان“ میں کئی ”این جی اوز اور فلاحی ادارے“ کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں کو کبھی نہیں دیکھا کہ دیہات کے کسی تنگ علاقے میں جاکر کسی فرد کی ذہن سازی کی ہو۔ یا انہیں تعلیم و تربیت کی طرف مائل کیا ہو۔

گزشتہ سالوں میں ”حکومت پنجاب“ نے ”معلمین“ کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ لوگوں کی اس طرح رہنمائی کریں کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول کی طرف بھیجیں۔ اس میں ”حکومت پنجاب اور معلمین“ کامیاب ہوئے لیکن یہ سرگرمی صرف کچھ عرصہ کے لیے تھی اگر یہ سرگرمی ہمیشہ جاری رہے تو جرائم میں کمی، شرح خواندگی میں اضافہ، عوام میں ”شعور“ اور ”ریاست پاکستان“ کی ”ترقی“ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پھر چاہے ”خانہ بدوش“ ہو یا کوئی ”امیر“ ایک دوسرے سے نفرت نہیں کریں گے بلکہ ایک دوسرے کی بھلائی کے لئے مختلف سوچ بنائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد ارسلان مجددی کی دیگر تحریریں