ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سچی بات ہے یہ دنیا عالم حیرت تو ہے ہی لیکن کمال یہ ہے کہ اس عالم حیرت میں جہاں ستاروں پہ کمند ڈالی جا چکی ہیں ہماری مقتدرہ و اشرافیہ اپنی کوتاہ کوشی، کم فہمی اور ذہنی و فکری افلاس کے ایسے ایسے نمونے اور مظاہرے پیش کرتی ہے کہ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ دور کیا جانا اب یہ جذباتی و غیر جذباتی والے معاملے کو ہی دیکھ لیں بندہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے نا۔

اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا

اب کیا کہیں یہی نا یا ہم شدید کند ذہن ہیں یا یہ عقل سے پیدل ہیں۔ اب دیکھئیے نہ چند دن پہلے کسی نے ایک بڑا دلچسپ کلپ شیئر کیا۔ سامنے پردہ سکرین پہ میاں نواز شریف تھے اور پیچھے آواز عمران خان کی۔ بات کیا کر رہے تھے۔ حرف بہ حرف وہی جو میاں نواز شریف آج کل اپنی تقریروں میں فرماتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میاں صاحب اب نام لے لے کے انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ تب کپتان چونکہ تب تک ایمپائر کی انگلی اٹھنے سے اتنا نا امید نہیں تھا تو اس نے صرف اشارات کی زبان اختیار کی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مقتدرات کو تختہ مشق بنایا۔

پر بات تو ایک ہی ہے۔ ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ تب عمران خان صاحب سڑکوں پہ تھے اور اب جناب میاں نواز شریف صاحب۔ نعرے وہی گھسے پٹے۔ وہ پنجابی کا بڑا مشہور محاورہ ہے کہ روندی اں یاراں نوں تے ناں لیندی اں پھراواں دے (یعنی یاروں کے لیے روتی ہے اور بھائیوں کے نام لیتی ہے ) ۔ اب جب تک امید باقی تھی تب تک تو سب اچھا تھا۔ ایکٹینشن کے موقعے پہ سب کی دوڑیں دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں۔ بندہ حیران ہوتا ہے کہ تب کیا پاکستانی عوام پہ ڈالروں کی بارش ہو رہی تھی کہ ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے کو کسی پرانے کواٹر کے کسی بند صندوق میں دفن کر رکھا تھا۔ یہ ایک پانچ دس مہینے کے دورانیے میں کون سا ایسا نیا عذاب عوام پہ نازل ہو گیا کہ عوام کی بدحالی سے پیارے میاں صاحب کی جان پہ بن آئی۔

کون نہیں جانتا کہ ہماری حکمران اشرافیہ کی نظر میں عوام کی کیا اہمیت ہے۔ اب جب کہ حالات کی گردش اور ایکسٹینشن کے دھول دھپوں نے ہمارے ملک کے اصل حکمرانوں کے جسموں سے وہ چند دھجیاں بھی نوچ لی ہیں جن سے وہ طاقت کے سرچشموں کو ڈھانپے ہوئے تھے ایک سوال جس کی بازگشت بار بار مجھے سنائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے، کیا سیاستدان اتنے ہی مظلوم ہیں جتنا یہ جتلاتے ہیں۔ اگر سیاستدانوں کے کردار اور کارکردگی کا as a class جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ اتنے بھی مظلوم نہیں۔

اگر بھٹو عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتا اور مجیب کو حکومت بنانے کا موقع دیتا تو کیا ملک آج ایسا ہی ہوتا۔ اگر بھٹو وزیر اعظم کے روپ میں سول ڈکٹیٹر نہ بنتا تو کیا ضیا الحق صاحب مارشل لا لگا سکتے تھے۔ کیا میاں نواز شریف اپنے من پسندوں اور اپنے تابعداروں کو ہر جگہ بھرتی کرنے کی بجائے اداروں کو مضبوط کرتے۔ اداروں کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کرتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ انھیں اسی طرح کی بے انصافیوں کا سامنا پڑتا۔ اگر اداروں کے سربراہوں کی تقرریاں اپنی ذاتی وفاداری اور شخصی پسند و ناپسند کی بجائے میرٹ پہ کی گئی ہوتیں تو کیا آج میاں صاحب کو یہ دن دیکھنا پڑتا۔

اگر اس وقت جب عمران خان چار حلقوں کے نتائج کھولنے کا مطالبہ کر رہا تھا میاں صاحب اس وقت اس کا مطالبہ مان کر الیکشن کمیشن کو آزاد و خود مختار کردیتے تو یہ کیسے ممکن ہوتا کہ ان کا مینڈیٹ ان سے چھین لیا جاتا؟ اس کہانی کے تیسرے کردار پیپلز پارٹی کا تو ذکر ہی کیا وہ تو مانو قبروں کی مجاوری کرتے اور ان قبروں کی کمائی کھانے پہ کامل یقین کے ساتھ operate کرتے ہیں۔ مرنا تو ان کا ہے جن کو آج ساری نا انصافیاں یادآ رہی ہیں اور عوام کے درد سے بے حال ہوئے جاتے ہیں۔

پر افسوس کہ ہر ہرجائی کی طرح نون لیگ کو بھی عوام کی یاد تب آتی ہے جب سارے دروازے بند ہوجائیں۔ لیکن کب تک؟ آخر کب تک یہ میوزیکل چیئیرز کا کھیل چلتا رہے گا۔ کل کو جب عمران خان اقتدار سے باہر ہو جائے گا تو اس کو بھی عوام کا درد ستانے لگ جائے گا۔ آج چاہے مہنگائی اور معاشی بدحالی سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ کسی کو ہے کچھ خیال اس بے چاری مظلوم قوم کا۔ ویسے ان نکموں اور نا اہلوں کے بھی کیا کہنے؟ ایک چو ر اتوں چتر والا محاورہ شاید انھی جیسے کسی کردار کو دیکھ کر معرض وجود میں آیا ہوگا۔

ان کے کارناموں پہ تو بات کرنا بھی وقت کا ضیاع ہے۔ ان کے بارے میں تو تسکین کا ایک ہی خیال رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ موت برحق ہے اور دنیا فانی ہے۔ سو بھائی لگے رہیں اس میوزیکل چئیر کے کھیل میں۔ بقول آئن سٹائن کسی کے پاگل ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ایک ہی عمل بار بار دہرا کر ہر دفعہ مختلف نتیجے کی توقع رکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •