کیا تصوف متوازی دین ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سارے کا سارا جھگڑا، رولا رپھڑ اصطلاحات کا ہے اور یہ گھمن گھمیریاں فلسفہ و منطق کی عطا ہیں جنہوں نے تصوف کو گنجلک نظام بنا دیاہے۔

تصوف، عرفان، روحانیت، فقر، معرفت، سلوک، زہد، طریقت، وجود و شہود، فنا و بقا، غوث و قطب و ابدال اور ایسی ہی کٰئی اور اصطلاحات ہیں جو اسلام کے صوفی دبستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ ساری اصطلاحات اولین سطح پر لغوی معنی اور پھر اگلی سطح پر تعبیراتی و اطلاقی معانی کی کثرت کی وجہ سے اپنے مفاہیم میں بہت پیچیدگی لیے ہوئے ہیں۔ کچھ ارباب علم و دانش کے نزدیک یہ سارا سلسلہ ہی متنازع ہے اور متوازی دین کہہ کر اس کو ”اصل“ سے انحراف گرداناجاتا ہے۔

یہ اس لیے ہے کہ ہم اس معاشرے میں پلے بڑھے ہیں جس کی فکری بنیادوں میں مناظرانہ خطابت کا اہم کردار رہا ہے جس کا پہلا اصول ہی مخالف نقطہ نظر کی تفہیم کی بجائےتردید مع تضحیک ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہم مذہبی مباحث کو تاریخ اور سیاسی روایات کے اختلاف سے جوڑے رکھنے کے خوگر ہیں۔ اس لیے ہمارے ہاں عربوں، ترکوں، منگولوں کی تاریخ کو ”ئاریخ اسلام“ کا نام دیا جاتا ہے۔ ماضی پرستی نے امت کے سیاسی زوال کے دنوں میں برتری کا عجیب خبط پیدا کر دیا کہ خود کو ”اہل ایمان، ناجی اور مفلحون“ قرار دینے کے لیے دوسرے کی تکفیر ضروری سمجھی جانے لگی۔

نو آبادیاتی نظام کے بعد مغربی تعلیم کے دروازے کھلے تو دینی مدارس کی الگ شناخت قائم ہوئی اور علمائے دین کی اجارہ داری قائم ہو گئی کہ ان کے علاوہ دینی مسائل پر رائے رکھنے، رائے دینے کا کسی کو اختیار نہیں۔ دینی شناخت اور سیاسی وابستگی بالعموم والدین اور اساتذہ سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے اور جس شدومد سے نظریاتی فیڈنگ ہوتی ہے، اسی شدت سے نئی نسل اپناتی ہے۔ چند ایک استثنائی مثالیں ہو سکتی ہیں جنہوں نے اپنا راستہ خود تراشا۔ والدین، ملا، پیر (مرشد)، حتیٰ کہ انگلش میڈیم سکولز کے اساتذہ اپنے من پسند عقائد اس طرح بار بار ذہن نشین کراتے ہیں کہ ان کی گرفت سے نکلنے کے لیے ایک عمر تھوڑی پڑ جاتی ہے۔

جب صوفیاء کے سلسلے کو متوازی دین اور ”اصل“ سے انحراف کہا جائے گا تو پھر ”اصل“ کی تلاش ضروری ہو جاتی ہے تاکہ اس رائے کے حق میں یا خلاف بات آگے بڑھائی جا سکے۔ مجھ سے طالبان علم بات ہی آگے بڑھا سکتے ہیں، حق یا باطل کا تعین نہیں کر سکتے۔ جو معاملے پروردگار نے کھلے چھوڑ دیے ہیں، ان پر بات کرنے کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے بشرطیکہ حتمیت اور قطعیت پر اصرار نہ کیا جائے کہ ایسا کرنا ایک تو منشائے خدائے لم یزل کے خلاف ہوگا اور دوسرے یہ عمل کشادہ روی اور کشادہ ذہنی کے بنیادی علمی تقاضے کے خلاف ہے۔

دین اسلام کی اصل ”اللہ سے جڑت“ ہے۔ توحید، رسالت، آخرت کے عقائد اسی جڑت کا منشور و نظریاتی فریم ورک ہیں اور پھر کتاب و سنت اور احکام شریعت کی پاسداری وہ طریق ہے جس کا مقصود مکارم اخلاق کی تکمیل ہے۔ کیا ان امور کے علاوہ بھی دین کی کوئی اصل ہے؟ میرے خیال میں ”نہیں“ ۔ اب آ جائیں تصوف کے موضوع پر۔ تصوف کیا ہے؟ اکابرین نے مختلف کتب میں تصوف کی مختلف تعریفیں اور تعبیرات بیان کی ہیں جن کو اس مقام پہ دوہرانا مقصود نہیں۔ اختصار ملحوظ رکھتے ہوئے ان متفرق تعریفوں کا خلاصہ پیش ہے :

”تصوف اس کا نام ہے کہ دل صاف کیا جائے اور شریعت میں حضرت محمد ﷺ کی پیروی کی جائے۔ دل“ اللہ ”کے لیے خالی ہو اور ماسوا سے پاک ہو۔ تصوف اس اشتیاق کا نام ہے جو ایک سالک کے دل و دماغ اور اس کی پوری جذباتی اور عقلی زندگی پر غالب آ جاتا ہے۔ مذہب کا مقصود“ اللہ ”کے ساتھ مستقل و مسلسل ربط ہے اور تصوف کا طریق خبردار کرتا رہتا ہے کہ کہیں مقصود نگاہ سے اوجھل نہ ہو جائے۔“

یہ تعریفیں مختلف مشاہیر کے اقوال سے ماخوذ ہیں اور اس روڈ میپ کی نشاندہی کرتی ہیں جو تصوف کی بنیادی شعریات کو متعین کرتا ہے۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کا ایک جملہ مذکورہ سب تعریفوں پہ بھاری ہے کہ ”تصوف اللہ کو ہر کام میں ترجیح اول بنانے کا نام ہے“ ۔ اکثر اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ معترضین کو تصوف کی مبادیات سے زیادہ تصوف کے نام اور اس سے جڑی اصطلاحات پر اعتراض ہے جو صوفیاء کے باطنی احوال و مشاہدات کے مطالعہ اور بیان کے لیے رواج پا چکی ہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ہم کتاب و سنت کو دین کا مآخذ سمجھتے ہیں اور جب کوئی معترض شخص ان اصطلاحات کو قرآن و حدیث میں ڈھونڈتا ہے تو نہ پاکر اودھم مچاتا ہے۔ گویا معترضین کے نزدیک قرآن مجید اور کتب احادیث کو ہدایت اور علوم کا سرچشمہ کی بجائے ”اصطلاحات کی ڈکشنری“ ہونا چاہیے تھا۔

جسمانی امراض کے لیے طب کا علم بہت پرانا ہے۔ آج کے زمانے میں جس قدر اس کے تخصیصی شعبے جنم لے چکے ہیں، کیا اس کی نظیر قدیم حکمت میں ملتی ہے؟ اسی طرح نفس انسانی کا مطالعہ قدیم فلسفہ کے اساسی موضوعات میں شامل رہا ہے مگر آج ”نفسیات“ کا علم جس قدر وسیع ہو چکا ہے اور جس قدر اس کی نئی شاخیں اور نئی اصطلاحات مروج ہیں، ان کا پہلے تصور نہ تھا۔ کیا اس بنا پر ان علوم کو رد کر دینا چاہیے؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح شرعی مسائل آپ ﷺ کی حیات مبارکہ اور خلفائے راشدین کے عہد میں ابھرتے رہے، ان کا حل بتایا جاتا رہا۔

بعد کے زمانے میں روزمرہ زندگی کے مسائل کے شرعی حل کے لیے باقاعدہ اصول وضع کیے گئے اور یوں ایک منظم علم فقہ وجود میں آ گیا۔ کیا اس عمل کو غیر اسلامی کہا جائے گا؟ ہرگز نہیں، کیونکہ اصول فقہ کی باقاعدہ ترویج سے پہلے بھی روزمرہ مسائل کا حل پیش کیا جاتا تھا اور بعد میں بھی۔ گویا فرق صرف اصول فقہ کی علمی تشکیل کا ہے۔

تصوف علوم دینیہ کا ایک شعبہ ہے جو انسان کی باطنی اصلاح اور تربیت و تزکیہ کے لیے رواج پایا جس طرح ظاہری مسائل کے حل کے لیے علم فقہ وجود میں آیا۔ تصوف کی اصطلاح سے پہلے بھی زہد، معرفت، پرہیزگاری، خشیت الہیہ، تقویٰ اور تزکیہ کی عملی مثالیں موجود تھیں، فرق یہ آیا ہے کہ تصوف نے اس سارے طریق کی علمی تشکیل کی ہے۔ برے اخلاق سے بچنا، رذائل سے دوری اختیار کرنا، اپنے اعمال کی اصلاح، بہتر انسان بننے کے لیے سعی کرنا اور سب سے بڑھ کر اللہ سے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے جانا ہے۔

صوفیاء کے مجاہدے میں ہر وہ کوشش شامل ہے جو سالک کو مالک سے جوڑتی ہے اور ساتھی انسانوں کے لیے نقصان دہ بننے سے بچاتی ہے۔ گویا مفید انسان تشکیل دیتی ہے۔ جب ہر طرف حرص و ہوس کا بازار گرم ہو اور ملوکیت و ملکیت انسان کا سکون پامال کر رہے ہوں تو صوفی کی خانقاہ جائے امان بن جاتی ہے۔ اس سارے سلسلے کو متوازی دین کہنا یا اسلام کی اصل سے انحراف قرار دینا کچھ مناسب نہیں لگتا۔ ابن عربی اور دیگر صوفیا کے خیالات و نظریات سے جزوی کلی اختلاف کیا جا سکتا ہے کیونکہ کسی بھی بزرگ کی کوئی بھی بات حرف آخر نہیں۔

کئی صوفیا ء نے ایک دوسرے کی فکر سے اختلاف کیا ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ حرف آخر تو بس کتاب اللہ اور اسوۂ رسول ﷺ ہیں۔ شیخ اکبر ابن عربی اور شیخ مجدد الف ثانی سمیت جن بزرگوٖں نے تصوف پر لکھا ہے، وہ تصوف کی نظریاتی تشکیل ہیں اور جن صوفیائے کرام نے راہ سلوک کی منازل طے کیں، وہ اس کی اصولی تشکیل ہیں۔ نظریے بدلتے بنتے ٹوٹتے رہتے ہیں مگر اصول اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔ اصل مقصود تو اللہ کو ماننا اور ایسے ماننا ہے کہ اس کی رضا میں ڈھل جانا ہے۔ یہی تصوف ہے اور یہی وہ راہ فقر ہے جس کے راہبر و راہنما آخری رسول حضرت محمد ﷺ ہیں۔ اپنی بات کو حضرت امام جعفر صادق سے منسوب قول پر ختم کرتا ہوں۔

”من عاش فی باطن رسول اللہ فھو صوفی۔“
جو باطن رسول اللہ پر زندگی بسر کرے، وہ صوفی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •