پاناما کیس ۔۔۔۔۔ گلاس توڑا بارہ آنہ


\"imran-khan-irritated\" یہ بات شروع سے واضح تھی کہ عمران خان اپنا سیاسی مقدمہ سپریم کورٹ کے ذریعے جیتنا چاہتے ہیں۔ البتہ عدالت عظمیٰ نے یہ اشارے دینے شروع کئے کہ وہ سیاسی فیصلہ جاری کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ شواہد اور قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ہی یہ معاملہ طے کیا جا سکتا ہے۔ نومبر کے دوران اس مقدمہ کی سماعت کرنے والے بینچ پر یہ بات عیاں ہو چکی تھی کہ نہ تحریک انصاف کے پاس الزامات ثابت کرنے کےلئے دستاویزی شواہد موجود ہیں اور نہ وزیراعظم یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بیرون ملک ان کے بچوں کے اثاثے کیوں اور کیسے جمع ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے اپریل میں قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے خلیج میں قائم کی گئی اسٹیل مل کی فروخت اور اس کے منافع سے سعودی عرب میں اسٹیل مل لگانے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے پاس اپنی باتیں ثابت کرنے کےلئے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ وفاقی کابینہ کے وزرا اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما بھی تواتر اور پرزور طریقے سے یہ کہتے رہے ہیں کہ وقت آنے پر عدالت کے سامنے ثبوت فراہم کئے جائیں گے۔ وہ وقت آیا تو ابوظہبی کی مل کی فروخت سے حاصل ہونے والے 12 ملین درہم کے بارے میں بتایا گیا کہ اس وقت بینکوں کے ذریعے لین دین نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ نقد اور پرچیوں کے ذریعے کام چلتا تھا۔ اسی قسم کی پرچی نما پرچا قطر کے پرنس حمد بن جاسم بن جابر الثانی کے خط کی صورت میں پیش کیا گیا لیکن وہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کی معصومیت ثابت نہیں کر سکا۔

جب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ عمران خان کا اصرار تھا کہ پاناما پیپرز کو ثبوت مان کر فیصلہ دیا جائے اور وزیراعظم کا جواب تھا کہ قطری شہزادے کے خط کو ان کی بے گناہی کا پروانہ سمجھا جائے تو بدھ کے روز چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے فریقین سے پوچھا کہ اس معاملہ کی تحقیقات کےلئے کمیشن بنا دیا جائے یا عدالت اس کی سماعت جاری رکھے۔ آج عمران خان نے سپریم کورٹ پر واضح کر دیا کہ یہی بینچ فیصلہ صادر کرے۔ اگر کمیشن قائم کیا گیا تو تحریک انصاف اس کا بائیکاٹ کرے گی۔ وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ کوئی کمیشن اس وقت تک غیر جانبدار تحقیقات نہیں کرسکتا جب تک نواز شریف وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے خیال میں وفاقی ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہیں، اس لئے وہ نواز شریف کے خلاف تحقیقات میں تعاون نہیں کریں گے۔ ان کا یہ اندیشہ درست ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی اس ملک کی سیاسی تاریخ کا بھیانک سچ ہے کہ اگر سیاستدان برسر اقتدار نہ ہو اور اس کے مخالفین کی حکومت ہو تو یہی ادارے ہر قسم کا جرم ثابت کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی برتے پر عمران خان یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ برسر اقتدار آئے تو نواز شریف جیل میں ہوں گے۔ عمران خان کے برسر اقتدار آنے کی منزل ابھی دور ہے، اسی لئے وہ گوہر مقصود حاصل کرنے کےلئے کبھی فوج کو تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی سپریم کورٹ کو اپنے دعویٰ کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرنے پر اکساتے ہیں۔ چیف جسٹس نے آج اس مطالبہ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت فیصلہ تو کر سکتی ہے لیکن اسے فریقین کو اپنا مقدمہ پیش کرنے اور دلائل دینے کا پورا موقع دینا ہوگا۔ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کی الجھن یہ ہے کہ فریقین یعنی عمران خان اور نواز شریف دستاویزات کی بجائے نعروں اور خبروں و خطوں کی بنیاد پر فیصلہ حاصل کرنے کےلئے بے چین ہیں۔

تحریک انصاف نے 2 نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے کلئے دس لاکھ افراد لانے کا اعلان کیا تھا۔ ہفتہ بھر بنی گالہ میں محصور رہنے کے \"sharif-rt3051225f\"دوران عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ شاید اس تعداد کا عشر عشیر بھی جمع نہیں کر سکیں گے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واضح کر دیا تھا کہ لوگوں کا ہجوم چاہے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی سرکردگی میں ہی کیوں نہ آئے ۔۔۔۔۔۔۔ اسے اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم اس موقع پر چوہدری نثار کے زیر اختیار سرکاری قوت کی بجائے عمران خان کی رفقا اور عمائدین کی نااہلی اسلام آباد کو میدان جنگ بنانے میں مانع رہی تھی۔ دونوں طرف سے جب بیانات کے گولے داغے جا رہے تھے تو سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کے معاملہ کی سماعت کرنے اور ایسا تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا جس کے قواعد عدالت عظمیٰ خود بنائے گی۔ عمران خان اس وقت اپنے شیدائیوں کی بے اعتنائی کی وجہ سے مشکل صورتحال کا شکار تھے۔ اس لئے انہیں سپریم کورٹ کا یہ اعلان ایک آسان راستہ دکھائی دیا۔ عدالت پر مکمل اعتبار کا وعدہ کرتے ہوئے وہ اخبارات کے تراشے ، ٹیلی ویژن بیانات اور پاناما پیپرز کے انکشافات کا پلندہ لے کر عدالت جا پہنچے۔ جب عدالت نے انہیں ردی کا ٹکڑا قرار دیا تو عمران خان کا اپنے ہی وکیل حامد خان اور اس کے بعد عدالت پر اعتماد کم ہونے لگا۔ آج اس کا کھل کر اظہار کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ پر واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر کمیشن بنا تو تحریک انصاف بائیکاٹ کرے گی اور حسب سابق سڑکوں پر دما دم مست قلندر ہوگا۔

سپریم کورٹ درحقیقت کمیشن کی صورت میں تحریک انصاف کا پرانا مطالبہ پورا کرنے کی ہی کوشش کر رہی تھی۔ البتہ اب عمران خان جو بعد از وقت سیانے بننے کےلئے مشہور ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ کمیشن بننے کی صورت میں انہیں تحقیقات کےلئے طویل انتظار کرنا پڑے گا اور اتنی مدت تک وہ عوام سے دور نہیں رہ سکتے۔ اس لئے اب انہیں اس مطالبے کی تکمیل قبول نہیں ہے، جو وہ گزشتہ چھ ماہ سے کرتے آئے ہیں اور جسے تسلیم کروانے کےلئے انہوں نے پارلیمنٹ کا مستقل اور مسلسل بائیکاٹ بھی کیا ہوا ہے۔ اس تبدیلی قلب کی واحد وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے فاضل وکلا مسلسل ان کے کانوں میں یہ خبریں انڈیل رہے ہیں کہ اگر موجودہ بینچ فیصلہ سنا دے تو وہ وزیراعظم کو نااہل قرار دے گا۔ کیونکہ اس حوالے سے کافی ثبوت عدالت کو پیش کئے جا چکے ہیں۔ وہ عمران خان کو یہ بتاتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ عدالت شبہ کا فائدہ صرف مدعا علیہ کو دینے کی پابند ہے۔ یہ گھبراہٹ قابل فہم ہے کہ عمران خان اپنی ضد پر آ جائیں تو وہ خود کی بات بھی نہیں سنتے۔ ان کے کان صرف وہی سننے کے عادی ہیں جو ان کا دل درست سمجھتا ہے۔ دل کی پکار میں عمران خان ملک کے آئندہ وزیراعظم ہیں اور نواز شریف بدعنوان ہیں۔ بلکہ آصف زرداری اور دیگر بہت سے بھی گھروں کی بجائے جیلوں میں رہنے کے لائق ہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ اس ملک کے لوگوں کی کافی بڑی تعداد اسی قسم کا وزیراعظم دیکھنے کی خواہشمند بھی ہے۔

مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت نے وزیراعظم کو اس مشکل سے نکلنے کا آسان راستہ فراہم کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کہا تھا کہ اگر لندن کے مے فئیر فلیٹس کے بارے میں بتا دیا جائے کہ وہ کیسے خریدے گئے اور ان کی ادائیگی کیسے اور کن وسائل سے کی گئی تو یہ مقدمہ ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح کا ایک موقع بینچ نے تحریک انصاف کو بھی فراہم کیا تھا کہ اگر وہ یہ ثابت کر دیں کہ نیلسن اینڈ نیسکول نامی کمپنیاں جو ان فلیٹس کی مالک ہیں، 2006 سے پہلے بھی حسن اور حسین نواز کی ملکیت تھیں تو بھی یہ معاملہ طے ہو جائے گا۔ فریقین یہ واضح کرنے میں ناکام رہے اسی لئے سپریم کورٹ کمیشن بنانے پر غور کر رہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے قوم کے نام خطاب اور قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اپنی ایمانداری اور دولتمندی کی داستان الف لیلیٰ ضرور سنائی تھی۔ لیکن عدالتی کارروائی کے دوران یہ واضح ہو گیا کہ داستانوں کو سچ مان کر ثبوت اور دستاویزی شواہد کی بات نہیں کرنی چاہئے۔ داستانوں کے شہزادے ہیرے جواہرات لٹاتے پھرتے ہیں۔ وہ ان کی رسیدیں لینے یا جاری کرنے کے روادار نہیں ہوتے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ قطر کے شہزادہ حمد بن جاسم نے ایک خط جاری کر دیا۔ اب اس کو غنیمت سمجھا جائے۔ ورنہ شاہی دربار سے ایسے مقدس حکم نامے کب جاری ہوتے ہیں۔ جاری ہو جائیں تو وہ نایاب ہیں اور موتیوں میں تلنے کے لائق بھی۔ پاکستانی سپریم کورٹ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ داستان کے واقعات کو اس وقت تک سچ نہیں مان سکتی جب تک یہ ثابت نہ کیا جا سکے کہ اس کے کرداروں اور ان کے افعال مبنی برحقیقت ہیں۔ عدالت کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک جمہوری ملک کی عدالت ہے جو صرف شاہ کے اشارے پر فیصلہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتی۔

نواز شریف بھی اسی قسم کے مسئلہ سے دوچار ہیں۔ انہوں نے مزاج اور اطوار شاہانہ پائے ہیں۔ وہ آنے والی دولت کا حساب نہیں رکھتے اور اسے لٹاتے ہوئے غور نہیں کرتے۔ لیکن انہوں نے یہ بادشاہت عوام کے ووٹ لے کر حاصل کی ہے۔ ووٹ کے ذریعے حکومت لینے والے کو ہر دم عوام کے علاوہ ملک کے آئین و قانون کے سامنے جوابدہ رہنا پڑتا ہے۔ پاناما پیپرز نے اس بھرم کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے جو نواز شریف نے عوام کا خادم ہونے کے طور پر اختیار کیا ہوا ہے۔ اب ان کے وکیل کبھی قومی اسمبلی میں دیئے گئے بیان کو ’’سیاسی‘‘ بیان قرار دیتے ہوئے یہ تسلیم کروانا چاہتے ہیں کہ اسے قانون شہادت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ نہ جانے قانون کی کون سی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک قانون ساز ادارے میں دیا جانے والا بیان سیاسی یعنی جھوٹ کا پلندا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم کے وکیل کی یہ بھی خواہش ہے کہ عدالت یہ تسلیم کرلے کہ 80 کی دہائی میں لین دین پرچیوں کے ذریعے یا ’’منہ زبانی‘‘ وعدوں کے ذریعے ہوتا تھا۔ یا کم از کم یہی مان لے کہ شاہی خاندان کاروبار اور لین دین کا حساب کتاب دینا یا لینا معیوب سمجھتے ہیں۔

سپریم کورٹ ان خوش فہمیوں کو حقیقت بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اس لئے اب حکم جاری ہوا ہے کہ چیف جسٹس 30 دسمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ 31 دسمبر کو عہدہ سنبھالنے والے چیف جسٹس نئے سرے سے بینچ قائم کریں گے۔ مقدمہ کی سماعت ازسر نو ہوگی۔ فریقین کو پھر سے اپنے ثبوت اور دلائل پیش کرنا ہوں گے۔ اس مقدمہ میں اب تک ہونے والی کارروائی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہوگی۔ یہ اس لئے کہ پاکستان کی عدالتوں کا نظام ایسے ہی چلتا ہے۔ یہ نظام انصاف فراہم کرنے کےلئے مروجہ قاعدے و طریقے سے انحراف کو گناہ سمجھتا ہے۔ تو پاناما پیپرز کے مقدمہ کا قضیہ کچھ یوں ہے: کہ ریستوران میں گئے۔ کھایا پیا کچھ نہیں۔ گلاس توڑا بارہ آنہ۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali