رضوی دھرنا اور حکومتی نا اہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا خادم حسین رضوی اور ان کے پیروکار جس مقصد کے لیے دھرنا دے رہے تھے اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہے نا ہو سکتا ہے۔ اور دھرنا، احتجاج، جلسہ، جلوس ہر فرد، گروہ، پارٹی یا فکر کے پیروکاروں کا بنیادی حق ہے جو انہیں آئین پاکستان دیتا ہے۔ لیکن اس احتجاج اور اس دھرنے کو مینج کرنا حکومت وقت کا کام تھا جو ایک اور آئینی ذمہ داری ہے بناء شہریوں کے حقوق پامال کیے بنا۔

رضوی صاحب نے دھرنا دیا۔ ان کے اپنے مطالبات تھے۔ اور بادی النظر میں ان کے جو مطالبات تھے وہ غم و غصہ یقینی طور پر ہر پاکستانی کے دل میں مغرب کے لیے موجود ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ عام پاکستان اظہار نہیں کر پاتا ہے رضوی صاحب جیسے افراد اظہار کر جاتے ہیں۔

حکومت یقینی طور پر مولانا صاحب کے ساتھ بیٹھتی دھرنے کا مقام طے کیا جاتا۔ اور کچھ امن و امان کی صورتحال زیر بحث لانے کے بعد جو بھی دھرنے میں ان کا حصہ بننا چاہتا بننے دیا جاتا۔ کیوں کہ ہم جسموں کو روک سکتے ہیں سوچ پہ پہرہ نہیں لگا سکتے۔

لیکن یہاں آپ ایک دفعہ اقدامات کا جائزہ لیجیے۔ ایسی صورتحال پیدا کی گئی کہ شرکائے دھرنا مشتعل ہوں اور غریب عوام کا نقصان ہو۔ پورے شہر کو ایک جنگ زدہ علاقہ تصور کرتے ہوئے جگہ جگہ کنٹینرز لگا دیے گئے اور عملاً جڑواں شہروں کو مکمل سیل کر دیا گیا۔ سیل بھی ایسے انداز سے کیا گیا کہ غلطی سے بھی کوئی ایسا کونا نا رہ جائے کہ اگر کسی مریض کو بھی ضرورت پڑ جائے تو وہ ہسپتال نا پہنچ سکے۔ کسی بے روزگار کو انٹرویو دینا پڑ جائے تو وہ انٹرویو پہ نا جا سکے۔

جو ملازمت پیشہ افراد ہیں وہ اپنے دفاتر کسی صورت نا پہنچ سکیں۔ کسی طالبعلم کو تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لیے اگر ہنگامی بنیادوں پہ جانا ہوتو وہ درسگاہ تک نا پہنچ سکے۔ امتحانات ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں کوئی امتحانی مرکز نا پہنچ پائے۔ بنیادی طور پر پہ شاید حکومت وقت ہمیشہ سے چاہتی بھی یہی ہے کہ وہ دھرنے کے شرکاء کے بجائے عوام کے لیے زحمت کا سبب بن جائے۔ اور ایسا اس بار بھی ہوا۔ تبدیلی سرکار جو اعتراضات اس سے پہلے کے دھرنے میں نواز حکومت پہ لگاتی رہی ہے وہی طرز عمل اس دفعہ خود اپنا لیا اور لوگوں کی مشکلات کا باعث بنی۔

یوں کہیے کہ جس نا اہلی کا رونا تبدیلی سرکار پچھلی حکومتوں میں روتے رہے ہیں۔ وہی نا اہلی ان کے اپنے اعمال سے صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسے فیصلہ ساز ہیں جو اس ترقی کی بلٹ ٹرین جیسی رفتار کے دور میں بھی ہمیں پتھر کے دور میں واپس بھیج کے خوشی محسوس کرتے ہیں اور ملبہ سارا احتجاجیوں پہ ڈال دیتے ہیں۔

ارے بھئی احتجاجیوں کا تو کام ہے احتجاج کرنا۔ جب مطالبات ان کے پورے نہیں ہوتے تو وہ یقینی طور پر احتجاج کی راہ اپناتے ہیں۔ چاہے وہ کسی مذہبی جماعت کے فالورز ہوں یا کسی سیاسی جماعت کے کارکنان، ریٹائرڈ پنشنرز ہوں یا حاضر سروس ملازمین اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہوئے۔ ہر مذکورہ بالا احتجاج کو ہینڈل کرنا۔ اس کو ایسے انداز سے حکمت عملی کے ساتھ ترتیب دینا کہ نا عوام کو مشکلات ہوں نا ہی احتجاجی مشتعل ہوں، صرف حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

لیکن جس طرح ”دے مار ساڑھے چار“ والی پالیسی حکومت وقت پاکستان میں کسی بھی احتجاج کے دوران اپناتی ہے وہ ”آ بیل مجھے مار“ کے مترادف ہی ہے۔ ہمارا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہر شعبے کا سربراہ اس شعبے کے اسرار و رموز سے ناواقف بندہ بیٹھا ہے۔ کچھ علم نہیں کہ کس موقع پر کیا کرنا ہے۔

کسی بھی احتجاج کو محدود کرنے کے لیے یا اس احتجاج کو عوامی نقصانات کے مقام سے دور رکھنے کے لیے مہذب معاشروں میں نا صرف پولیس کو تربیت دی جاتی ہے بلکہ اینٹی پروٹیسٹ شعبہ جات قائم ہیں۔ اور فورس کو بڑے پیمانے پہ ہونے والے کسی بھی احتجاج سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کو درجہ بندی سے آشنا کروایا جاتا ہے کہ کب صرف ماؤتھ سپیکر پہ احتجاجیوں کو مخاطب کرنا ہے۔ اور کس لمحے لاٹھیاں تیار رکھنی ہیں۔ کس موقع پر واٹر کینن کا استعمال کرنا ہے اور کون سا موقع آ جائے تو آنسو گیس استعمال کرنی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں شاید گنگا الٹی بہتی ہے اس لیے یہی بتایا جاتا ہو گا کہ جناب سب سے پہلے آپ آنسو گیس کا شیل دے ماریے گا پھر دیکھ لیں گے جو ہوتا ہے ہوتا رہے۔

کسی بھی احتجاج کو بہتر انداز میں ہینڈل کرنے میں سب سے بنیادی نقطہ یہی ہوتا ہے کہ احتجاجیوں کو مشتعل نا کیا جائے کہ عوامی املاک کا نقصان نا ہو سکے۔ پیلی جرسی احتجاج جیسے واقعات مہذب معاشروں میں ہمیں سالوں بعد دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں لیکن وطن عزیز میں ہر ہفتے ہی کوئی نا کوئی چوک بند ہوا ہوتا ہے۔ ہر مہینے احتجاجی بیچارے مطالبات کی منظوری کے لیے لاٹھیاں کھا رہے ہوتے ہیں۔ عرض اتنی سی ہے اگر اداروں میں رابطہ کاری کا قفدان نا ہو، لوگوں کے حقوق کی پامالی نا ہو، جائز مطالبات ماننے میں حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، تو احتجاجیوں کو کیا پاگل کتے نے کاٹآ ہے کہ وہ احتجاج کی راہ اپنائیں؟

بلا تفریق پارٹی کے، پاکستان میں ہر دور میں حکومت وقت نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ کہ پاکستانیوں کو پتھر کے دور کی یاد دلائے رکھنی ہے۔ اسی لیے اس دفعہ پھر اس منصوبے کو عملی جامہ موبائل سروس اور مرکزی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ اندرون شہر سڑکیں بند کر کے پہنایا گیا۔ ایک جانب دعوے ہیں کہ ہر چیز ٹیکنالوجی پہ منتقل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اور دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کا عادی بنانے کے بعد عوام سے یہ چھین لی جاتی ہے کہ اپنی نا اہلی چھپائی جا سکے۔

یہ نا جانے کون سی ترقی کی شکل ہم دیکھ رہے ہیں کہ کسی بھی احتجاجی صورتحال کے دوران سب سے پہلے موبائل سروس بند کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ اگر یہ اتنا ہی ضروری ہے تو پھر لوگوں کو ٹیکنالوجی کا حضور عادی ہی نا بنائیے۔ صاحبان! کسی بھی ایسے معاملے کو ہینڈل آپ خود نہیں کر سکتے تو پھر عوام سے سہولیات کیوں چھین لیتے ہیں۔ کیا آپ کو آئین یہ حق دیتا ہے کہ آپ کوئی عوامی سہولت اس ڈر سے چھین لیں کے احتجاج کو روکنا ہے؟ اگر کوئی آئینی شق ایسی موجود ہے تو عوام کو بھی بتائیے تا کہ آئندہ گلہ نا کر پائیں۔ ورنہ خدارا اپنی نا اہلیوں کو عوامی حقوق پہ قدغن لگاتے ہوئے چھپانے کی کوشش نا کیجیے۔ یہ آپ کا عوام پہ احسان عظیم ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •